Dobte Ko Bans Ka Sahara

ڈوبتے کو بانس کا سہارا

بدھ فروری

Dobte Ko Bans Ka Sahara
کرنل ضیاء شہزاد
پی ایم اے میں تیراکی کا آغاز کیا ہوا، یارلوگوں پر ایک نئی مصیبت کا دروازہ کھل گیا۔ ہم تو ٹھہرے ہی سدا کے نان سوئمر (1) مگر اس صف میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونے والے دیگر محمودوں اور ایازوں کی تعداد بھی کچھ کم نہ تھی۔ سٹاف (2) اور پلاٹون کمانڈر (3) نے اس ٹولے پر خصوصی کرم فرمائی کا آغاز کیا۔ کھیل کے پیریڈ میں ہمارا علیحدہ فالن (4)ہوتا۔

باقی لوگ تو مزے سے تیرا کی کالباس پہن کر سوئمنگ پول میں شغل لگاتے جب کہ ہم کنارے پر لیٹ کر ڈرائی پر یکٹس کیا کرتے۔ اس عمل کے دوران ٹانگوں اور بازوؤں کو خشکی پر لیٹ کر تیراکی کے انداز میں آگے پیچھے حرکت دی جاتی تھی۔ گھنٹہ بھرکی مشق کے بعد جب ہمیں سوئمنگ پول میں داخل ہونے کا حکم ملتا تو جہاں چھلانگ مارتے وہیں ڈوب جاتے۔

(جاری ہے)

بقول میر:۔
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اُٹھتاہے
چند روز سے جاری یہ بے رنگ سی کاروائی دیکھ کر پلاٹون کمانڈر اکتا سے گئے اور ایک دن انہوں نے ہمیں قلابازی والے پھٹے سے سوئمنگ پول میں چھلانگیں لگوانے کا فیصلہ کر لیا۔

ہم سب کو باری باری سیڑھیاں چڑھ کر پھٹے تک پہنچنا تھا اور سٹاف کے سیٹی بجانے پر سوئمنگ پول میں چھلانگ لگانی تھی۔ ایک وقت میں پھٹے پردوکیڈٹوں (1) کے آگے پیچھے کھڑے ہونے کی گنجائش موجود تھی۔ پہلی باری ہمارے دوست جنید کی تھی جب کہ ہم اس کے عقب میں موجود تھے۔ سیٹی بچی تو جنید نے بجائے چھلانگ لگانے کے خوف کے مارے پیچھے کی طرف دو قدم لیے اور ساکت ہوگیا۔

خوف اور پی ایم اے دو متضاد چیزیں ہیں۔ اگر تربیت کے دوران کہیں اس بات کا شائبہ بھی ہوجائے کہ کیڈٹ کسی معاملے میں خوف کھاتا ہے تو اسے اکیڈمی سے نکالا بھی جاسکتا ہے۔
صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی تھی۔ نیچے سٹاف سیٹیوں پر سیٹیاں بجائے چلا جارہا تھا مگر جنید کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی تھی۔ ایسے میں ہم نے فوراً ٰایک انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

ہم نے جنید کی پشت پر ایک زوردار لات رسید کی جس کے نتیجے میں اس نے چھلانگ لگائی اور اگلے ہی لمحے تالاب میں غوطے کھانے لگا۔دو تین ڈبکیوں کے بعد کچھ حواس بحال ہوئے تو اس نے پانی میں آڑھے ترچھے ہاتھ مارنے شروع کردیے۔ کنارے پر پہلے ہی سے ایک سپاہی کو لمبا سابانس تھما کر کھڑا کردیا گیا تھا۔ کچھ دیر کے بعد جنید کے ہاتھ پاؤں شل ہوگئے تو سپاہی نے حسب ہدایت بانس اس کی جانب بڑھایا جوا س نے فوراً دبوچ لیا اور اس کی مدد سے اسے باہر کھینچ لیا گیا۔


اگلی باری ہماری اپنی تھی۔ ہم نے آنکھیں بند کرکے چھلانگ لگائی اور غڑاپ سے سوئمنگ پول کے اندر جا گرے۔ ہوش آیا تو دھڑا دھڑ غوطے کھارہے تھے اور اللہ کو یاد کر رہے تھے کہ اگر آج بچ گئے تو دوبارہ پانی سے سوکوس دور ہی رہا کریں گے۔ آٹھ دس ڈبکیاں کھانے کے بعد بانس ہماری جانب بڑھایا گیا جسے تھام کر ہم نے اس مشکل سے نجات حاصل کی۔ ہمارے بعد اور لوگ آتے گئے اور یہ تماشا اسی طرح جاری رہا۔


آخری باری ہمارے عزیز ازجان دوست کلیم کی تھی۔ انہوں نے بھی حسب قاعدہ چھلانگ لگائی اور غوطے کھانے شروع کردیے۔ ہم سب تھے تو نان سوئمر اس لیے خود اپنے زور پر پارلگناذرا مشکل تھا۔ ایسی حالت میں ڈوبتے کے لیے بانس کا سہارا ہی باقی رہ جاتا تھا۔ کلیم نے بھی کافی دیر غوطے کھانے کے بعد بانس والے سپاہی کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا۔ لیکن اس کم بخت کو بھی نہ جانے اس کھیل میں مزہ آرہاتھا کہ اس نے بانس بڑھانے میں ذرا جلدی نہیں کی۔


جب غوطے کھا کھا کر کلیم کی حالت غیر ہوگئی تو پلاٹون کمانڈرنے بانس آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ بانس کلیم کی جانب بڑھایا گیا تو اس نے گھبرا کر اسے اتنی زور سے کھینچا کہ سپاہی کے قدم اکھڑگئے اور وہ بانس سمیت اوندھے منہ سوئمنگ پول میں جاگرا۔اب ایک کی بجائے دوافراد پانی میں غوطے کھارہے تھے۔ کلیم نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہانپتے کانپتے اس سپاہی تک پہنچ کر اسے دونوں بازوؤں میں مضبوطی سے جکڑ لیا۔

بے چارے سپاہی نے اپنے بچاؤ کے لیے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے لیکن ادھر تو’ میں کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا‘ والا معاملہ تھا۔ بقول شاعر:۔
بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی
ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا
قبل اس کے کہ صورتحال مزید خراب ہوتی پلاٹون کمانڈرنے تیراکی جاننے والے ایک دوسرے سپاہی کو حکم دیا جس نے اُن دونوں کو کھینچ کھانچ کر سوئمنگ پول سے باہر نکالا۔

کلیم اور وہ سپاہی ایک جان دو قالب بنے ہوئے تھے جنہیں بمشکل ایک دوسرے سے علیحدہ کیا گیا۔ اس سارے ڈرامے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ نان سوئمر حضرات کے ساتھ اس قسم کی سنگین کاروائی کا خطرہ دوبارہ مول نہیں لیا گیا۔
جو سب سے پہلے ہی رزم وفا میں کام آئے
فراز ہم تھے انہیں عاشقوں کے دستے میں

Your Thoughts and Comments