Double ---- Sawari

ڈبل ․․․سواری

منگل اکتوبر

Double ---- Sawari
سید عارف نوناری
قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ نواز شریف ڈبل سواری کر رہے ہیں بڑا بھائی وفاق میں اور چھوٹا بھائی پنجاب میں لہٰذا یہ ڈبل سواری ہو رہی ہے ویسے ڈبل سواری پر پابندی ہے ہمیں ڈبل سواری اچھی لگتی ہے اگر دو مختلف قسموں کی ہو تو ایک جنس کی ڈبل سواری کی ممانعت ہونی چاہئے پاکستان پیپلز پارٹی نے ڈبل سواری پر پابندی کی پرواہ نہیں کی اور اس لاپرواہی سے وہ بے پر ہو گئے۔

ہر ڈبل بات ڈبل چیز اور ڈبلنگ کے فوائد علیحدہ اور مزا علیحدہ ہوتا ہے ڈبل سواری سے لفٹ نہیں ملتی کیونکہ ڈبل سواری سے پولیس چالان نہیں کر سکتی ہے خواتین کا احترام کرنا بھی پولیس کی ذمہ داری ہے ڈبل سواری سے پرہیز کرنے سے خرچہ کم اور خزانہ پر بوجھ بڑھ جاتا ہے بے نظیر بھٹو نے تھک ہار کر ڈبل سواری کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ انہوں نے ڈبل ٹرپل سواری اور سواریوں کو اپنے کنٹرول میں کر لیا اب دیکھیں نواز شریف اس ڈبل سواری پر پابندیاں لگاتے ہیں انگریزی میں ہم نے ”ڈبل فیس“ تو سنا ہے جس کا مطلب ڈبل چہرہ ہے۔

(جاری ہے)

ڈبل چہرہ دیکھنے کے لئے بھی پھر چار آنکھیں چاہئیں سیاست میں ڈبل سیاست ہوتی ہے اب موجودہ حکومت نے بھی دعویٰ کر دیا ہے کہ خزانہ خالی ہے اور آسامیاں بھی خالی ہیں بے نظیر بھٹو نے ڈبل سواری بھی کی اور ڈبل فیس کی بھی پابندی کی،پرواہ کئے بغیر سکول میں لیٹ آنے کے جرمانہ سے ہمیں بہت خوف آتا تھا اس سے جرمانہ اور ڈبل کی ادائیگی کے لئے امداد لینی پڑتی تھی بنگلہ دیش میں تو ڈبل سواری کا طریقہ آسان ہو گیا ہے ایک گروپ نے وہاں سکول قائم کر دیا ہے آپ پوچھیں کہ یہ کونسی نئی بات ہے لیکن دوستوں کو سکول میں چوریوں کی تربیت دی جاتی ہے اور طریقہ جات چوری سکھائے جاتے ہیں۔

کاش یہ سکول پاکستان میں کھولا جاتا تو سیاستدان اس میں ضرور داخلہ لیتے ٹیکس بھی وصول کرتے سواری کرنے کے لئے گھوڑوں کی ضرورت پڑتی ہے اور پرانے زمانہ میں سواری گھوڑوں پر ہوتی تھی لیکن اب وہ نسل کامیاب ہو گئی ہے اور جدید گھوڑے سامنے آگئے ہیں ہمیں تو سواری کرنے کا شوق ہے لیکن شرط یہ ہے کہ سوار اچھا ہو ڈبل سواری کی پابندی نہ کرنے سے پولیس ڈبل فیس وصول کر لیتی ہے صحافی یہ ڈبل فیس برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ اور بہت کچھ اتحاد و اتفاق کے لئے نوابزادہ نصراللہ اور علامہ طاہر القادری سے برداشت کر لیا ہے کیونکہ انہیں نواز شریف کی اتفاق فونڈری سے اتفاق نہیں رہا اتفاق تو نوابزادہ نصر اللہ اور علامہ طاہر القادری کو نہیں کیونکہ وہ بھی ڈبل سواری کی پابندی نہیں کرتے۔


ڈبل مائنڈ اور ڈبل سواری میں تمیز کرنا ہوتو کسی بدتمیز سے ملاقات ضروری ہے ڈبل مائنڈ سے ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے اور بندہ دوسرے کا ذہن استعمال کرنے سے ڈبل یا ٹرپل ہو جاتا ہے میاں بیوی میں بھی اگر نکاح ہو تو ڈبل مائنڈ ہوتے ہیں لیکن ان کے لئے ڈبل سواری کی پابندی نہیں سائنس نے یہ نہیں بتایا کہ میاں بیوی ڈبل مائنڈ ہو جائیں تو کیا ہوتا ہے البتہ ڈبل سواری سے بوجھ میں اضافہ ہو جاتا ہے ان افراد کو اس پابندی کی پابندی کرنا ضروری ہے جو پہلے ہی ڈبل ہیں جو ممبر اور وزراء ڈبل ہیں ان کو بھی اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے چونکہ ان کے پاس گاڑی ہوتی ہے البتہ موبائل پاس ہو تو سواری ہوتی نہیں اسی لئے سائیکل بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں اس طرح اس قانون کا فائدہ سمارٹ افراد کو ہوا ہے کیونکہ وہ ان ڈبل فرد کے برابر ڈبل سواری کر سکتے ہیں ڈبل وکٹ کا فائدہ تو نواز شریف کو ہوتا ہے کیونکہ انہیں کرکٹ کھیلنی آتی ہے البتہ بے نظیر بھٹو اگر مرد ہوتیں تو ان کے پاس بھی ڈبل وکٹ ہوتی ۔

ڈبل گیم تو سیاست سے اٹھ کر اب اکھاڑے میں پہنچ گئی ہے اسی لئے پہلوان بھی اب سمارٹ نہیں رہے اور انہوں نے بھی ڈائیٹنگ شروع کر دی ہے۔پیر پگاڑا،مولانا عبدالستار نیازی ،قاضی حسین احمد کے پاس تو سواریاں نہیں پھر انہوں نے ڈبل سواری کرکے کیا کرنا ہے۔
کسی نے کسی شخص سے پوچھاکہ ڈبل ہونے سے کیا ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ خرچہ کم ہو جاتا ہے اور بلا خرچہ اخراجات ختم ہو جاتے ہیں۔

لہٰذا کبھی بندے کو ڈبل مائنڈ نہیں ہونا چاہئے پھر کیا ہوتا ہے پیر پگاڑا بتا سکتے ہیں یا پھر ببو ببرال ڈبل سواری کی تشریح کر سکتے ہیں کیونکہ طنز و مزاح میں تشریح کا کام ان کے سپرد کیا گیا ہے وہ انگریزی کے اچھے مترجم ہیں کیونکہ انہیں انگریزی نہیں آتی اور صدر رفیق تارڑ کے ہمسائے بھی ہیں البتہ ڈبل سواری سے سنگل سواری کو نقصان ہوتا ہے اور بجٹ میں بھی فرق پڑتا ہے۔


سواریاں تبدیل کرنے سے بھی رفتار میں اضافہ یا کمی ہوتی ہے البتہ اب ڈبل سواری کے علاوہ کیا کیا پابندیاں کرنی پڑی ہیں اس کا فیصلہ تو ہمارے بچے کریں گے جو بچے گھچے ہیں۔اگر ڈبل سواری کی تعریف و توضیح پوچھنی ہو تو مولانا فضل الرحمن سے رابطہ ضروری ہے۔کیونکہ انہوں نے بہت مرتبہ ڈبل سواری بھی کی ہے اور ڈبل گیمز بھی کھیلی ہیں۔ان کے استاد محترم کا پتہ کروانا بھی اہم ہے تاکہ دوسرے سیاست دان بھی ان سے مستفید ہو سکیں۔البتہ اپوزیشن کو مولانا فضل الرحمن کی بہت سی ڈبل سواری کرنے کی ادائیں پسند ہیں۔عمران خان تو فضل الرحمن کو بہت پیار سے پکارتے ہیں۔جس میں محبت بھی شامل ہے اور محبت کی چاشنی کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی چاشنی بھی موجود ہے۔

Your Thoughts and Comments