Fareeb Nazar

فریب نظر

عطاالحق قاسمی بدھ ستمبر

Fareeb Nazar
ایک بات جو مجھے سمجھ نہیں آتی،وہ یہ کہ ہماری قوم شاعری کیوں نہیں کرتی ،لے دے کر دس بارہ شاعر ہیں اور یہی شاعر غزل،نعت اور مرثیے کے مشاعروں میں ہر بار اور ہر موسم میں ٹی وی پر نظر آجاتے ہیں ۔حالانکہ ہم لوگوں کی گفتگوؤں میں جتنا مبالغہ ہوتا ہے،اس لحاظ سے ہم میں سے ہر ایک کو شاعر ہونا چاہیے۔مبالغہ شاعری کا ایک اہم جزو ہے۔اور ہم لوگ مبالغے کے بادشاہ ہیں۔

اس لحاظ سے ہم میں سے ہر ایک ”ملک الشعراء“کہلائے جانے کے قابل ہے۔
جب لاہور کے چئیرنگ کر اس پر الفلاح بلڈنگ تعمیر ہوئی تو ایک صاحب میرے پاس آئے اور کہا”تم نے الفلاح بلڈنگ دیکھی ہے؟میں نے جواب دیا۔”ہم لوگوں نے تو ابھی تک فلاح کی راہ نہیں دیکھی،پوری بلڈنگ کہاں سے دیکھنا تھی؟“بولے”تم ہر وقت جلی بھنی باتیں نہ کیا کرو،کسی دن موقع ملے تو ضرور دیکھنا،یہ ایشیا کی سب سے بڑی بلڈنگ ہے۔

(جاری ہے)

“میرے اس دوست نے براعظم ایشیا میں سے ابھی تک صرف میاں چنوں اور اس کا نواحی علاقہ ہی دیکھا تھا یا وہ باقاعدگی سے برادرم مظفر بیگ کے ہفت روزہ”ایشیا“کا مطالعہ کرتے تھے،مگر علم،کتابوں ،رسالوں کے مطالعہ یا سیروسیاحت کا محتاج کہاں ہوتاہے؟یہ تو ایک وہبی چیز ہے!
ایک روز ایک نوجوان میرے پاس آیا اور پوچھا”آپ کے خیال میں شیکسپئر اور عبدالغفور زخمی میں کیا فرق ہے؟“میں نے کہا”زخمی کو شیکسپئرپہ فوقیت حاصل ہے کیونکہ شیکسپئر صرف شیکسپئر تھا زخمی نہیں تھا“میرا یہ جواب سن کر موصوف کچھ سٹپٹا سے گئے،کہنے لگے”میرامطلب تھا کہ ان دونوں میں سے ،آپ کے نزدیک،کسے فوقیت حاصل ہے“میں نے کہا”آپ کا سوال خاصا مشکل ہے،لیکن اگر شیکسپئر بھی عبدالغفور زخمی جیسے ڈرامے لکھتا تو ایک دن وہ بھی زخمی ہو سکتا تھا!“یہ سن کر وہ صاحب بہت خوش ہوئے ،اُٹھ کر گرمجوشی سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا”مجھے عبدالغفور زخمی کہتے ہیں!“
میرے ایک دوست حالانکہ دمے کے مریض ہیں،لیکن وہ گانے کے بہت شوقین ہیں، صرف شوقین نہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ اس وقت برصغیر میں ان کے پلے کا کوئی گلوکار نہیں،ایک روز انہوں نے اس ضمن میں میری رائے بھی طلب کی پوچھنے لگے ”یاردوستی کو ایک طرف رکھ کر سچ سچ بتاؤ کے تمہارے نزدیک گائیگی میں میرا کیا مقام ہے؟“مجھے ان کے برصغیر والے دعوے کا بھی علم تھا۔

اور میں اتنے اچھے دوست سے جھوٹ بھی نہیں بولنا چاہتا تھا ،چنانچہ میں نے کہا”برصغیر میں جو گلوکاردمے کے مریض ہیں تم ان میں سے سب سے بہتر ہو۔“
اس دن کے بعد ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
جب ہمارے ہاں انتخابات کا زمانہ آتا ہے(انتخابات اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعے مہذب ممالک میں لوگ اپنا ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور یوں ایک نمائندہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آتاہے۔

پاکستان میں بھی یہ عمل کبھی کبھی دہرایا جاتاہے)معاف کیجئے گا۔بریکٹ والا جملہ کچھ زیادہ لمبا ہو گیا۔میں کہہ رہا تھاکہ ہمارے ہاں جب انتخابات ہوتے ہیں،متذکرہ نوع کی مبالغہ آر ائی اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے۔بلکہ ملکی انتخابات کو تو چھوڑیں،چھوٹی چھوٹی انجمنوں کے انتخابات میں بھی القابات کی وہ بھر مار ہوتی ہے کہ پرانی مکتوب نگاری میں استعمال کئے گئے القابات ان کے سامنے ماند پڑجاتے ہیں۔

ایک دفعہ انار کلی میں تاجروں کی انجمن کے انتخابات کے موقع پر ایک امیدوار کے نام کے ساتھ”فخر ایشیا“لکھا ہوا پایا گیا۔ان کے منشور کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم کریں گے۔انتخابا ت کے بعد میری ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا”برادرم انار کلی میں لاکھوں لوگ شاپنگ کیلئے آتے ہیں ۔اور ان کے لئے پورے بازار میں کوئی بیت الخلاء نہیں ۔

آپ نے اپنے منشور میں بیت الخلاء کی تعمیر کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا۔اور اسلامی نظام کے نفاذکا وعدہ کر بیٹھے۔“کہنے لگے”بیت الخلاء کی تعمیر کا وعدہ کیسے کرتا،وہ تو کامیاب ہونے پر بنانا پڑ جاتا!“
تو دوستو!معاملہ یہ ہے کہ ہماری قوم مبالغوں اور نعروں کے سہارے جی رہی ہے۔ہمارے علامہ حضرات کا رل مارکس ،ڈارون،سارتر اور دوسرے مغربی مفکرین کی تھیوریوں اور فلسفوں کا ستیاناس ایک جملے میں کر دیتے ہیں ۔

نفسیات میں ایک اصطلاح ”ہیلو سی نیشن“Hallucinationکی ہے جس کا مطلب ”فریب نظر “ہے۔اور جس کا مریض حقائق کی دنیا سے الگ اپنی ایک دنیا،اپنی خواہشات کے مطابق بسا لیتا ہے۔چنانچہ اسے واقعی وہ سب کچھ نظر آرہا ہوتا ہے اور محسوس ہورہا ہوتا ہے۔جو وہ بیان کرتا ہے۔ایسے مریض کو حقائق کی دنیا میں واپس لانا بہت مشکل ہے۔
فریب نظر میں مبتلا ہماری قوم بھی ماضی کی طرح اس وقت بہت مشکل میں ہے۔۔۔۔!

Your Thoughts and Comments