Fashion Zada Muashra

فیشن زدہ معاشرہ

حافظ مظفر محسن پیر جنوری

Fashion Zada Muashra
سنا ہے کسی خاتون نے سوٹ کے لئے کپڑا خریدا۔ گھر میں چوہے بہت تھے (چوہوں کی خاطر مدارت زیادہ کرتی ہوں گی )۔ ایک دن ایک بوڑھے چوہے کو کمزوری سی محسوس ہوئی تو اس نے سوچا کیا کروں گا باورچی خانے جاکر۔ رات کا کھانا سمجھ کے خاتون کے خوبصورت سے ریشمی سوٹ کا ایک حصہ کھا‘ بلکہ چبالیا۔ صبح خاتون نے جونئے ان سلے سوٹ کا یہ حال دیکھا تو پریشان ہوگئیں۔

خیر! پریشانی کی حالت میں دماغ نے کام کیااور تجویز سامنے آئی کہ سوٹ سی ڈالیں۔ ذرا شلوار اونچی رہ جائے گی۔ لوگ پوچھیں گے تو کہہ دیں گے کہ اونچی شلوار کا فیشن آیا ہے۔ ابھی ابھی امریکہ سے آئی ہے (امریکہ سے آئی ہوئی ہر چیز ہمارے فیشن زدہ معاشرے کو پسند آجاتی ہے ) اور یوں اونچی شلواروں کا فیشن عام ہوگیا۔ محض ایک خاتون کی مجبوری کے باعث ۔

(جاری ہے)


اصل میں جس تیزی سے فیشن پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں شاید کوئی موذی مرض بھی ایسا نہ کرتا ہو۔ ہماری ایک آنٹی ہیں انہیں جب کنجوسی کا دورہ پڑے تو روزانہ چنے کی دال گھر میں پکانا شروع کردیتی ہیں۔ بچے ناک منہ چڑھائیں توہنس کے کہہ دیتی ہیں ” بیٹاآج کل چنے کی دال کھانے کا فیشن ہے “ اور بچے (نئے دور کے ) فیشن اپنانے کے شوق میں مزے لے لے کردال کھاتے ہیں بلکہ انگلیاں تک چاٹتے ہیں۔


ہمارے ہاں سیاست کے میدان میں کچھ عرصہ سے پارٹیاں بدلنے کا فیشن ہے ( فیشن کا فیشن اور وزارت کی وزارت ) افتخار گیلانی مسلم لیگ (ن) میں آگئے ۔ یحییٰ بختیارواپس پیپلز پارٹی میں چلے گئے۔ مہناز رفیع (سمیت خورشید قصوری ) مسلم لیگ (ن ) میں آگئیں (اصغر خان اکیلے رہ گئے ) راؤ رشید نہ جانے کہاں چلے گئے۔ کہیں اِدھر والے اُدھر جارہے ہیں تو کہیں وہاں والے یہاں آرہے ہیں۔

اصل میں فیشن کے فائدے ہی فائدے ہیں۔
مارشل لاء لگے تو مجلس شوریٰ کا فیشن (نئے نئے سٹائل کے سیاسی لیڈر سامنے آئے) جمہوریت آئے تو وزارت سفارت کا فیشن اور فیشن میں سب جائز ہوتا ہے۔ تنگ پتلون کافیشن آئے تو کوئی نہیں سوچتا کہ یہ بری لگے گی یااچھی جیسی بھی ہوپہن لیں گے۔ بھئی فیشن جو ہوااسی طرح چھوٹی وزارت ملے یا بڑی لوگ لے لیتے ہیں۔ بھئی کیا کریں۔

فیشن ہے ؟ اور جو فیشن کے ساتھ نہ چلے وہ تحریک استقلال کے ساتھ چلے۔
فیشن کے اس دور میں ہم جیسے لوگوں کو ہمیشہ شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے اور کبھی کبھی منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ لمبی قمیض کا فیشن تھا تو اونچی ہی پہنتے رہے اور جب بہت مجبوری ہوگئی تو ہم نے بھی لمبی قمیض سلوالی مگر اس وقت تک اونچی قمیض کا فیشن شروع ہوچکا تھا۔ مگر کیا کرتے مجبوری تھی اور یوں ہمیشہ کی طرح آؤٹ آف فیشن کام کرنا پڑہی جاتا۔

اپنے بزرگ سیاستدان اصغر خان صاحب کی طرح ایم آرڈی میں محترمہ بے نظیر صاحبہ کے ساتھ تھے۔ جلسے جلوس میں خلوص کے ساتھ شامل رہے۔ ساری عمر بھٹو صاحب کے مخالف رہے لیکن جمہوریت کی خاطر محترمہ کے ساتھ شامل ہوئے اور خوب ساتھ نبھایا مگر جب وزارت سفارت بلکہ صدارت کا فیشن آیاتو ہمارے والا کام کرگئے یعنی آؤٹ آف فیشن کام۔
ہمارے ہاں ایک عرصہ تک جعلی ڈگریوں کا فیشن رہا ہے مگر آج کل نقل کافیشن ہے۔

بچے جیب میں ہرے یا نیلے (کبھی کبھی اور کہیں کہیں لال بھی ) نوٹ ڈال کے جاتے ہیں اور فیشن کے طور پر ایف ایس سی ڈگری لے آتے ہیں اور پھر ڈاکٹر بن کے (چاہے دس سال میں بنیں )” دما دم مست قلندر“
ہم نے ایک دوست سے گلہ کیا کہ ” یاریہ لوڈشیڈنگ نے جینا محال کردیا ہے۔ “ تو برا مناگئے اور فرمایا” محسن یار تم نے ہمیشہ ہی آؤٹ آف فیشن کام کیا ہے۔

بھئی یہ آج کل لوڈشیڈنگ کا فیشن ہے سنا ہے روس میں (ترقی یافتہ ملک موجودہ حالت میں آپ جو مرضی کہہ لیں ) دس دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے “ رات باتھ روم جانے کے لئے اٹھے تو لوڈشیڈنگ تھی اندھیرے میں ہی چل پڑے۔ پاؤں نہ جانے کس چیز سے ٹکرایا(صبح پتہ چلا کہ بچہ تھا) اور ہم منہ کے بل گرے۔ ماتھے پر کوئی چیز دوانچ باہر تک نمودار ہوگئی۔ درد تو بہت ہوئی اور رات سو بھی نہ سکے ( بچے کی چیخوں کی وجہ سے جس سے ہم اندھیرے میں ٹکرائے تھے) مگر خوشی تھی کہ ہم نے بھی پہلی بار فیشن اپنایا وقت پر۔


ہمارے ہاں آج کل ڈش انٹینا اور کیبل نیٹ ورک کا فیشن کافی زورو شور سے جاری ہے۔ لوگ اب ” جائز‘’ ناجائز “ سب خوشی خوشی دیکھ رہے ہیں، سب گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کے (اتفاق میں برکت ہے )۔ اسی بہانے این ٹی ایم نے بھی جراتمندی کا مظاہرہ شروع کردیا۔ ہمارا خیال تھا کہ کچھ آوازیں بلندہوں گی شاید جماعت اسلامی والے ہی عادت پوری کریں مگر پتہ چلا کہ ابھی فرصت نہیں۔

قاضی صاحب دوبارہ نئے نئے ” امیر“ ہوئے ہیں۔ پھر ہماری نظر مولانا فضل الرحمن کی طرف اٹھی۔ مگر وہاں بھی اطلاع ملی کہ ” وزارت خارجہ “ کے معاملات میں مصروف ہیں۔ سوہم بھی خاموش ہوگئے بلکہ ڈرگئے کہ کوئی ․․․․․․ کہیں کہہ نہ دے کہ میاں آج کل ” جرات مندی“ کا فیشن ہے اور تم ٹھہرے آؤٹ آف فیشن کام کرنے والے۔
دراصل پوری قوم ہماری طرح احساس کمتری کا شکارلگتی ہے۔

پہلے (مارشل لاء سے پہلے ) مہنگائی بڑھتی تو لوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے۔ فحش عید کارڈ فروخت ہوتے تھے تولوگ سڑکوں پر نکل آتے تھے ۔ فحش عید کارڈفروخت ہوتے تھے تو لوگ احتجاج کرتے تھے۔ ٹی وی پر کوئی بے ہودگی ہوتی تو لوگ باتیں بنانے لگتے ہیں۔ مگر اب معاملہ الٹ ہے۔ ہرآدمی ” بیک ورڈ“ کا لیبل لگ جانے کے اور ”بنیاد پرست “ ہو جانے کے ڈر سے خاموش ہے اور نئے دور کے تقاضے پورے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب لوگ دال بیس روپے کلو خریدکر چپ ہیں۔ سیب کے بدلے ” بیر“ کھالیتے ہیں مگر مہنگائی کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے کہ کہیں کوئی کہہ نہ دے کہ ”ارے بے وقوف تمہیں پتہ نہیں مہنگائی کا فیشن ہے “ اور ․․․․․ ہر فیشن اپنانا اب ہماری عادت ہی نہیں مجبوری بھی بن چکا ہے ۔

Your Thoughts and Comments