Fouj K Chaudhry

فوج کے چودھری

ہفتہ فروری

Fouj K Chaudhry
کرنل ضیاء شہزاد
ہمارے ایک یونٹ افسربال گرنے کی وجہ سے بہت پریشان رہا کرتے تھے ۔ اس مرض سے چھٹکارا پانے کے لئے انہوں نے انواع واقسام کے تیل استعمال کیے۔ دو ایک مرتبہ ٹنڈ بھی کروا دیکھی لیکن معاملہ جوں کا توں ہی رہا۔ آخر کسی دوست نے مشورہ دیا کہ راولپنڈی سی ایم ایچ (1)میں ایک جلدی امراض کے ماہر بریگیڈیر صاحب تعینات ہیں، اگر ان سے مشورہ کیا جائے تو ضرور کچھ افاقہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے فوراً سے پیشتر بریگیڈیر صاحب سے ملاقات کا وقت طے کیا اور بس پکڑ کر لاہور سے راولپنڈی روانہ ہوگئے۔ وقت مقررہ پر سی ایم ایچ پہنچے اور ڈاکٹر صاحب کے روبروپیش ہو کر اپنی بیماری کی تفصیلات بیان کیں۔ پوری تفصیل سن کر بریگیڈیر صاحب نے سر پرہاتھ پھیرااور وگ اتار کر میز پر رکھ دی۔

(جاری ہے)

عقلمندکے لئے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ ہمارے یونٹ افسر نے سیلوٹ کیا اور واپس ہو لیے۔


اس کے بعد انہوں نے کسی قسم کے علاج کا تردد نہیں کیا۔ بہت عرصے کے بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ ہمارے حساب سے تو اب تک انہیں الف گنجا ہوجانا چاہیے تھا لیکن ان کے سر پر کافی بال دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نے حیران ہو کر اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا کہ بال گرنے کی اصل وجہ ٹینشن لینا تھی۔ میں نے جس دن سے ٹینشن لینی چھوڑی ہے میرے بال گرنے رک گئے ہیں۔


ہم نے زیادہ تر لوگوں کے بال کمانڈکے دوران گرتے اور سفید ہوتے دیکھے ۔ اچھابھلا سمارٹ میجر جیسے ہی لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پا کر یونٹ کی کمانڈ سنبھالتا ہے اس پر پریشانیوں کا کوہ ہمالیہ ٹوٹ پڑتا ہے۔ دو سال کی کمانڈ کے اختتام پر یہ نوبت آجاتی ہے کہ سر میں سیاہ بال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
صبح کا آغاز بڑے شاندار انداز میں صوبے دار میجر صاحب کی رپورٹ سے ہوتا ہے۔

سر سب خیر خیریت ہے۔ بس رات ایک سپاہی یونٹ سے بھاگ گیا تھا ہم نے اس کی تلاش بندے روانہ کیے ہوئے ہیں۔ ایک گاڑی کا چھاؤنی کے مرکزی چوک پر حادثہ ہوگیا تھا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ گاڑی کو مرمت کے لئے ورک شاپ روانہ کردیا ہے۔ لنگر پر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ بڑی مشکل سے بجھائی ہے۔ دو باورچی زخمی ہوئے جن کو ہسپتال میں داخل کروادیا ہے۔

کبڈی کے مقابلوں میں ہماری ٹیم نے آٹھویں پوزیشن لی ہے۔ (کل ٹیمیں بھی آٹھ ہی تھیں) ۔ آڈٹ ٹیم نے اٹھارہ اعتراضات نوٹ کر لیے ہیں۔ میری نانی فوت ہوگئی ہے چنانچہ مجھے دس دن کی رخصت عنایت فرمادیں۔ آپ پریشان نہ ہوں، باقی سب سے خیر خیریت ہے۔ “ اس قسم کی ” خیرخیریت “ سننے کے بعد سو پچاس بال تو فوراً ہی سفید ہوجاتے ہیں اور باقی ان بلاؤں سے نمٹنے میں۔


ڈاک میں موجود تندوتیز خطوط کا جواب تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے کہ کمانڈر کا بلاوا آجاتا ہے کمانڈر انہی موضوعات پر اپنے انداز میں ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں: آپ کی یونٹ سے بہت زیادہ شکایات موصول ہورہی ہیں۔ا گر معاملہ جوں کاتوں رہا تو مجھے سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ “ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے یونٹ واپس آتے ہیں۔ کام کا آغاز ہوتا ہے تو گھر سے بیگم کافون آجاتا ہے: ”آپ گھر کو بالکل بھی وقت نہیں دیتے۔

بیٹے کی طبیعت سخت خراب ہے اسے سی ایم ایچ لے کر جانا ہے۔ اور ہاں آج ذرا جلدی گھر پہنچ جائیے گا ، شام کو آپ کے سسرال والے تشریف لارہے ہیں۔ “ سی او صاحب تمام معاملات نمٹا کر گھر کا رخ کرتے ہیں تو حسب معمول شام ہوچکی ہوتی ہے۔ اس کے بعد بیگم کی تندوتیز باتیں سن کر بالوں کی سفیدی کا عمل مزید تیز ہوجاتا ہے۔ بقول میر:۔
یاں کے سپیدو سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
رات کو رورو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
یہاں ہمیں وہ لطیفہ یاد آگیا جس میں ایک چودھری سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کہاں کے چودھری ہیں، تو وہ جواب دیتا ہے: ” معلوم نہیں۔

گھر والے مجھے کہتے ہیں کہ تم چودھری ہوگے تو باہر ہوگے اور باہر والے کہتے ہیں کہ تم چودھری ہوگے تو اپنے گھر میں ہوگے۔ “
عشق کے ماروں کو کہنا نہیں دیکھو کچھ بھی
اور اگر کہنا ہی چاہو تو قلندر کہنا

Your Thoughts and Comments