Garma Garm

گرما گرم

حافظ مظفر محسن پیر دسمبر

Garma Garm
ہمیں جیب میں پرس رکھنے کی عادت نہیں اور نہ ہی موٹر سائیکل میں کپڑا رکھتے ہیں۔جہاں کھڑی کی وہیں کسی قریب کھڑی موٹر سائیکل سے کپڑا نکالا۔اپنی موٹر سائیکل صاف کی اور کپڑا بغیر شکریہ ادا کئے واپس رکھ دیا۔ہمارے دوست سجاد شیخ کا خیال ہے کہ اگر چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا پرعمل شروع ہو جائے تو اکثر دفتروں میں (خاص طور پر سرکاری دفاتر)بہت سے ہتھ کٹے سر عام پھرتے دکھائی دیں کیونکہ دفاتر میں جو چوری سب سے عام ہے وہ یہی موٹر سائیکلوں سے کپڑا(جھاڑن)چوری ہونے کی ہے۔

ویسے دفتروں میں پنسل ،پیپرویٹ،بال پنسل اور کاغذ وغیرہ تو چوری ہوتے ہی ہیں ناں۔
ہمارے ایک رشوت خور دوست نے اعلان کیا کہ فوری طور پر رشوت لینا چھوڑ رہا ہوں۔وجہ پوچھنے پر بتایا کہ رشوت کے پیسے سے پلنے والے بچے اکثر فیل ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ہمارے دوست نے مشورہ دیا ”بھیا پریشان ہوکر رشوت خوری مت چھوڑ دینا کیونکہ تمہارے بچے رشوت نہیں بلکہ نالائقی کی وجہ سے فیل ہورہے ہیں جو کہ انہیں خیر سے وراثت میں ملی ہے“
ہاں تو جناب․․․․․بات ہورہی تھی جیب میں پرس نہ رکھنے کی۔

ایک دفعہ اصل میں ہمارا پرس چوری ہو گیا جس میں پچاس روپے،کالج کارڈ ،شناختی کارڈ اور ایک ”تصویر“تھی ہمیں آج تک اس تصویر کے چوری ہونے کا افسوس ہوتاہے۔اس کے بعد ہم نے جیب میں پرس رکھنا چھوڑ دیا۔پھر جب عملی زندگی میں قدم رکھا اور بجلی کے بل سے لے کر گیس اور فون تک کے بل خود جمع کرانے پڑے تو دوبارہ ہمیں پرس رکھنے کا خیال آیا۔اصل میں بل اگر تو اپنے ہی گھر کے ہوتے تو شاید پینٹ اور شرٹ کی جیبوں میں پوری طرح سماجاتے مگر ہمارے ذمہ تو ہر مہینے اپنے سبھی بڑے افسروں کے بل بھی ہوتے ہیں(شاید حاسد لوگ اسی وجہ سے ہمیں خواہ مخواہ خوشامدی کہتے ہیں)دوبارہ پرس رکھا تو بل اس قدر تھے کہ پرس چھوٹا پڑگیا اور دوستوں کے مشورے سے ہمیں ایک چمڑے کا خوبصورت سا بیگ خریدنا پڑا۔

وہ چمرے کا بیگ اکثر ہماری موٹر سائیکل کے ساتھ لٹکا رہتاتھا۔ایک صبح گھر سے جونکلے تو دو نوجوان بھی موٹر سائیکل پر سوار ساتھ ساتھ ہو لئے۔ہم ان کی موجودگی کی پرواہ کئے بغیر چلتے رہے۔لیکن ویران سی جگہ پر تھوڑا سا شور ہوا اور ہمارا چمڑے کا بیگ چھین کے”بیچارے نوجوان“بھاگ نکلے۔آپ انہیں ڈاکو کہیں یا لٹیرے۔میں تو انہیں”بیچارہ“کہوں گا۔

وجہ‘تو جناب وجہ یہ ہے کہ اس بیگ میں میرا کوئی بل نہ تھا بلکہ سبھی میرے اعلیٰ افسروں کے تھے اور ساتھ ساتھ آج کا اخبار تھا۔جسے چھوتے ہی ان بیچاروں کے یقینا ہاتھ جل جائیں گے۔جی ہاں اخبارکو چھوتے ہی ان کے ہاتھ ضرور جلیں گے کیونکہ کچھ عرصہ پہلے صبح اخبار کی تیزو تندخبریں پڑھ کے بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا تھا مگر اب صبح اخبار پکڑتے ہی ہاتھ جل جاتے ہیں۔

اس قدر”گرم“خبریں‘سانپ کے کاٹے کا علاج تو شاید ہو جائے مگر آج کل کے اخبارات کے کاٹے کا کوئی علاج نہیں۔
نہ یقین آئے تو آج ہی اخبار پکڑ کے دیکھ لیں اور اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو ٹی وی کا مشہور پروگرام ”مقابل ہے آئینہ“دیکھ لیں۔مگر ایک بات یاد رکھیں کہ”مقابل ہے آئینہ“دیکھتے ہوئے ٹی وی سے کم از کم ایک سوگزضرور بیٹھیں ورنہ ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔


پہلے پہل ریلوے سٹیشنوں پر ٹھیلے والے آوازیں لگاتے تھے”پکوڑے گرم“”چائے گرم“کباب گرم“مگر اب آوازیں لگاتے ہیں۔”اخبار گرم“رسالہ گرم“حکومت گرم “اپوزیشن گرم“۔
بات ہورہی تھی چوری چکاری کی اور چلتے چلتے پہنچ گئی نوجوان ڈاکوؤں تک کہ جن کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں قلم نہیں بلکہ ان ہاتھوں میں نقل یا رشوت سے حاصل کردہ ڈگری ہے یا پھر وہ کلاشنکوف ہے جو”مشکل“میں ان کا ساتھ دیتی ہے۔

ایسے نوجوان اکثر اوقات ”مشکل “میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب لوگ مشکل میں خدا کو یاد کرتے تھے۔اپنے بزرگوں سے مشورہ لیتے تھے مگراب ہر مشکل کا حل ہمارے نوجوانوں کو اسلحہ اٹھانے میں دکھائی دیتاہے۔عقل مندوں کا خیال ہے کہ جدید مشغلہ سیاسی جماعتوں کی وجہ سے نوجوانوں نے اپنایا ہے اور سیاسی جماعتیں کہتی ہیں کہ یہ”نیکی“ہم نے نہیں ذیلی طلبہ تنظیموں نے کی ہے جن سے ہمارا کوئی خاص تعلق نہیں۔

اصل میں روایت بدل چکی ہیں ۔مشاغل تبدیل ہو چکے ہیں۔ریڈیو کی جگہ سی ڈی ،ڈش انٹینا ،کیبلز نے لے لی ہے۔ایک زمانہ تھا جب باپ کی خواہش ہوتی تھی کہ بیٹا مسلمان بنے۔بیٹا شیطان نہ بنے۔بیٹا انسان بنے مگر اب ہر باپ کہتا ہے کہ بیٹا انسان بنے یا نہ بنے سیاست دان بنے۔نہ ڈگری کی ضرورت نہ اخلاقیات سے سروکار․․․․․اسمبلی کے اندر”مخصوص“زبان۔

اسمبلی کے باہر”مخصوص “زبان ۔ہر وقت عوام کو ڈرائے رکھو‘کسی امریکن امدادنہ ملنے کا ڈر اوا’کبھی امریکن امداد جانے کا ڈراوا۔
عوام ڈرے رہیں۔روٹی کی فکر میں مگن رہیں۔اپنے حقوق کا خیال آئے نہ کسی کی غلطیوں پر تنقید کی فرصت ہو۔اپوزیشن کی بات سمجھ آئے نہ حکومت کی۔اپوزیشن حکومت کو چور ثابت کرنے میں مگن اور حکومت وقت اپوزیشن کو چور کہتے نہ تھکے۔

اور عوام ان عقل مند اور سیانے لوگوں کی تلاش میں رہیں کہ جو چور اور عنوان کی صحیح تعریف بیان کر سکیں کہ جہاں ہماری روایت بدل چکی ہیں۔جہاں ہم نے نئے مشاغل اپنا لئے ہیں اور جہاں سود کو مارک اپ کا نام دے دیا گیا ہے۔وہاں یقینا چور اور بدعنوان کی تعریف بھی پہلے سے کافی مختلف ہو گی۔
ایسے میں لوگ عام طور پر علماء اور مساجد کا رخ کرتے ہیں ۔مگر اب تو وہاں بھی فرقہ پرستی کی باتیں ہورہی ہیں۔بم پھینکے جارہے ہیں۔دیواروں پر ایک دوسرے کو کافر کافر لکھا جارہا ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں کافر کی بھی کوئی نئی تعریف تلاش کرنی پڑ جائے؟“اور نئی نسل کو پتہ ہی نہ چلے کہ کافر کسے کہتے ہیں؟۔

Your Thoughts and Comments