Goga Khel Raha Hai

گوگا کھیل رہا ہے

جمعرات اکتوبر

Goga Khel Raha Hai
 اعتبار ساجد
کھڑکی سے ہوتی ہوئی تیز رفتار گیند دھپ سے کمرے میں گری۔ وہ تو خیر گذری کہ اب کی بار گیند کی راہ میں الماری کا کونہ حائل ہوگیاورنہ شیشے کا بڑا گلدان تہس نہس ہوجاتا۔ آج کوئی تین مرتبہ گیند ہمارے کمرے میں آئی۔ چونکہ کھڑکی کے تمام شیشے گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں نے نیست ونابود کردئیے ہیں لہٰذا گیندکو کمرے میں آنے سے کوئی چیزروک نہیں سکتی۔

چھٹی والے دن عموماً تھوڑی دیر بعد یہی ہوتا ہے۔ پہلے گیند آتی ہے۔ پھر کھڑکی کا ہٹا ہوا پردہ مزید ہٹا کر کوئی چہرہ طلوع ہوتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے۔
” کی ہوریااے انکل ․․․․․․؟
ہم خوش اخلاقی سے جواب دیتے ہیں ۔ ” لکھ رہاں ہوں۔ “
” لکھی جاؤ․․․․․․ “نہایت فراخدلی سے کہا جاتا ہے۔ ” ساڈی گیند آئی اے․․․․․ ذرا ادھر سٹ دیو۔

(جاری ہے)


دوتین مرتبہ تو ہم لکھنا روک کر گیند ڈھونڈڈھاند کے بچوں کے حوالے کرتے ہیں پھر کھڑکی کے پٹ بند کر کے اندر سے کنڈی چڑھا دیتے ہیں ۔

اب تھوڑی تھوڑی وقفے سے گیند دھائیں دھائیں آکر کھڑکی کے بند کواڑوں سے ٹکراتی ہے، اور ہمارا لکھنے پڑھنے کا موڈ تہہ وبالا ہو جاتا ہے ۔ بچوں کو ڈانٹتے اس لیے نہیں کہ بازتوانہوں نے آنا نہیں۔ پھر ڈانٹنے کا فائدہ؟ پیار سے اس لیے نہیں سمجھاتے کہ کہیں سچ مچ ان کے دل پر ہمارے الفاظ اثر ہی نہ کربیٹھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ رقیق القلب ہو کر کانوں کو ہاتھ لگائیں اور وکٹیں گیند اور بلا سمیٹ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔

کہیں گلی سونی نہ ہوجائے۔ بچوں کی چہکار کے ذریعے تو شہر ، شہر بنتے ہیں۔ گلیاں، گلیاں کہلاتی ہیں۔ یہی پھول نہ مہکیں ، یہی پرندے نہ چہکیں تو زندگی کا باغ ویران ہو کر رہ جائے ۔ اسی ڈرسے ہم بچوں کو روکتے نہیں۔ ٹوکتے نہیں چاہے ہماری کھڑکی کے شیشے ٹوٹیں یا روشندان کے۔
لیکن کبھی کبھی ہمیں یہ شاعرانہ سوچ مہنگی پڑتی ہے۔ ایک چھٹی والے دن صبح ہی صبح ایک بے تکلف دوست آدھمکے۔

ہم نے ان کے لیے چائے بنائی۔ بڑے اہتمام سے چائے دانی کے ساتھ دو پیالیاں سجائیں اور ٹرے لیے کچن سے نکلے۔ ابھی دو قدم دورہی تھے کہ اچانک کھڑکی کے طرف سے ایک گیند خراٹے بھرتی ہوئی آئی اور اس سے پہلے کہ ہم سنبھل سکتے وہ گیند سیدھی چائے دانی سے ٹکرائی۔ اور دوسرے ہی لمحے چائے معہ پیالیوں اور چائے دانی کے ٹکڑوں کے فرش پر ہلکوے لے رہی تھی ۔


ہم نے بگڑ کر کہا۔ ” کون ہے اوئے “؟
بڑی منحنی سے آواز آئی۔ ” گوگااے جی۔“
” کون گوگا اوئے ․․․․․ ؟ “ ہم نے گرج کر پوچھا۔
”ماسی فاطمہ داپتر غلام محمد عرف گوگا جی․․․․․․ “ جواب آیا․․․․․․ ” گوگا کھیڈریا اے۔“
ہم نے کہا۔ ” گوگا شوق سے کھیلے۔ لیکن ہماری کھڑکی کے شیشوں ، چائے دانیوں مہمانوں اور ہمارے جذبات سے نہ کھیلے۔


لیکن گوگا باز نہیں آیا۔ کھیلتارہا۔ ہماری کھڑکی سے کراکری سے بھی ، مہمانوں سے بھی اور ہمارے جذبات سے بھی۔ دراصل یہ گوگے کھیل کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ لاکھ سمجھاؤ۔منع کرو۔ باز نہیںآ تے۔ زندگی کے ہر شعبے میں گوگے موجود ہیں۔ادب میں بھی، صحافت میں بھی، فلم میں بھی۔ سیاست میں بھی۔ ان کا کام ہے کھیلنا۔ چاہے کسی کے شیشے ٹوٹیں، گلدان پھوٹیں، سرمیں گومڑ پڑیں یا جذبات مجروح ہوں۔

گوگوں کو اپنے کھیل سے غرض ہے۔ ان شرارتی بچوں پر کوئی وعظ اثر نہیں کرتا۔ کوئی نصیحت کار گرنہیں ہوتی۔ وہ اگر ادب کی گلی میں بیٹنگ کرتے ہیں ان کا چھکاپڑوسیوں کے روشندانوں اور کھڑکیوں کے شیشے توڑتا ہے۔ صحافت میں بالنگ کرتے ہیں تو تاک کے ایسے گیند پھینکتے ہیں کہ صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑ جائیں۔ سیاست میں فیلڈنگ کرتے ہیں تو ایسے کرشمے دکھاتے ہیں کہ ساتھی کھلاڑیوں کورن آؤٹ کردیں۔

فلم میں ہوتے ہیں تو بڑکیں مار مار کے تماشائیوں کاناک میں دم کردیتے ہیں۔ کوئی شعبہ ان کی کارگذاریوں سے خالی نہیں۔ کوئی گلی ان کی دسترس سے دور نہیں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ ہمیں ایمپائرز بھی ایسے ملے ہیں کہ دھاندلیوں اور اذیت کوشیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ آدمی انصاف مانگنے کہاں جائے۔ کس گلی سے گذرے۔ کس دروازے سے نکلے۔ باہر تو گوگے کھیل رہے ہیں۔ کوئی دستار کوئی سر سلامت نہیں۔ کوئی پگڑی محفوظ نہیں۔ گاڑیوں کے لیے ون وے کا بورڈ لگانے والوں کو چاہیے کہ اب عافیت پسند شرفاء کے لیے بھی ممنوعہ کا بورڈ جگہ جگہ لگوادیں جن پر لکھا ہو۔ ” خبردار ۔ داخلہ ممنوع ہے۔ گوگا کھیڈریا اے۔ “

Your Thoughts and Comments