Gussa Ho Tu Aaisa

غصہ ہوتو ایسا

حافظ مظفر محسن منگل دسمبر

Gussa Ho Tu Aaisa
انسان بہت سی اچھی عادات کے ساتھ پیدا ہوتاہے اور پھر یہ عادتیں ساری زندگی انسان کے ساتھ چمٹی رہتی ہیں۔کچھ لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے۔گھر میں جھوٹ بولنے والے بڑے بڑے جھوٹ بھی بولنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی تو فراڈ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔جھوٹ کی طرح کچھ لوگوں کو سچ بولنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگ گھرماں باپ سے پٹتے ہیں۔سکول میں اساتذہ سے اور عملی زندگی میں زمانہ ان پر سوار ہوتاہے اور وہ اپنی سچائی کے ہاتھوں کبھی کبھی تو جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر سچائی کا دم بھرتے ہیں۔

آج کا معاشرہ ایسے لوگوں کو”بدھو․․․․․․کم عقل․․․․․․بے وقوف“اور نہ جانے کیا کیا کہتاہے۔
کچھ لوگوں کو بہت غصہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔آج کل غصہ کرنے والے لوگ”بلڈپریشر“کو بدنام کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

خواہ مخواہ․․․․․․․!حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں کا غصہ ہمارے غصے سے مختلف نہیں ہوتا۔ہمیں بچپن میں بہت غصہ آتا تھا۔جب والدہ پڑھنے کو کہتی ہمیں غصہ آجاتا۔

اس غصے نے ہمیشہ ہمیں فائدہ پہنچایا۔کچھ لوگوں کو غصہ اس وقت آتاہے جب کوئی قرضہ واپس لینے آجائے۔ایسے میں بیگم اور بچوں پر خوب غصہ نکالتے ہیں اور بے چارہ آنے والا قرضے کی واپسی کا تقاضا ہی نہیں کرپاتا اور کبھی کبھی تو خواہ مخواہ شرم سے پانی پانی ہوجاتاہے یا پھر عورتیں غصہ کرتی ہیں‘جب کبھی ساس سسر آجائیں تو ۔کبھی بچوں کو ڈانٹ ،کبھی ملازمہ کی پٹائی۔

ادھر ادھر بس نہ چلے تو پالتو کتے کو ڈانٹنے لگتی ہیں اور کتے پر غصہ وہ اکثر انگریزی زبان میں نکالتی ہیں۔
دفتروں میں غصہ بہت زیادہ دیکھنے کو ملتاہے۔کلرک سے فائل نکالنے کو کہیں تو غصہ کرجائے گا۔چوک میں کھڑا پولیس والا غصے میں اپنی مثال آپ ہوتاہے۔مہینے کے آخری دنوں میں انسان موٹر سائیکل پر بھی حساب کتاب میں مصروف ہوتاہے۔ایسے میں سرخ اشاروں پر رکنا بھول جائے تو پولیس مین”کوڈی․․․․․کوڈی․․․․․․کوڈی“کہتا دونوں ہاتھوں سے موٹر سائیکل گھیرنے لگتاہے اور جب تک جلدی سے چابی موٹر سائیکل سے کھینچ نہ لے چین نہیں آتا۔

پھر فوراً کاپی(چاہے الٹی ہی ہاتھ میں آجائے)پر نمبر لکھنے لگتاہے اور خود ہی غصے میں گنگنا تاہے۔”میں نے آج تک اپنے باپ کو چالان کئے بغیر نہیں جانے دیا․․․․․سمجھے“اور ․․․․․․پھر جب غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور وہ آپ کو بغیر چالان کے چھوڑ بھی دے تو․․․․․․تو بہت غصہ آتاہے ”مہینے کی آخری تاریخوں پر․․․․․․“
ہمارا خیال تھا کہ غصے کے صرف فائدے ہیں،نقصان نہیں۔

مگر کچھ دن پہلے ہمیں غصے کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔قرطبہ چوک میں ہم نے مزے مزے میں ایک گاڑی میں اپنی موٹر سائیکل دے ماری۔سڑک خالی تھی سوہم نے موقع سے فائدہ اٹھا کر رفو چکر ہونے کی کوشش کی کہ ایسے میں گاڑی والے نے منہ باہر نکال کر بلند آواز میں ہماری تعریف میں کچھ”مہذب“قسم کے کلمات کہہ ڈالے․․․․․ہمیں غصہ آگیا اور ہم بھاگتے بھاگتے واپس آئے اور تکرار شروع کردی․․․․․․نتیجتاً ہمیں ہر جانہ بھی ادا کرنا پڑا اور․․․․․․اور چالان بھی ہو گیا۔

(چالان سے صبر کہیں بہتر ہے!)۔
دفتر میں اکثر بڑے افسر سے جھاڑ پڑے تو آدمی دل ہی دل میں کڑھنے لگتاہے مگر کچھ کہہ نہیں پاتا‘شام کا انتظام کرتاہے۔چپڑاسی نہ مانے اور زبان درازی کرے تو پھر بہت غصہ آتاہے مگر شام کا انتظار کرتاہے۔راستے میں جگہ جگہ پولیس والے روکتے ہیں تو پھر بہت غصہ آتاہے مگر آدمی شام کا ہی انتظار کرتاہے اور پھر شام کو گھر آتاہے تو بڑے افسر کا بدلہ ،چپڑاسی کا بدلہ اور پھر پولیس والے کا بھی بدلہ بیوی پر غصہ نکال کر پورا کرتاہے․․․․․․․کم ظرف کہیں کا۔

Your Thoughts and Comments