Hakoomat Ki Gari Kaise Chale Gi

حکومت کی گاڑی کیسے چلے گی

جمعہ نومبر

Hakoomat Ki Gari Kaise Chale Gi
سید عارف نوناری
حکومت کی ذمہ داری قبول کرنا آسان ہے جب کہ حکومت چلانا مشکل ہے۔ہمیشہ یہ اصول حکمت کے قیام اور رہنے میں کارفرما رہتا ہے کہ حکومت عوام کو اپنے اعتماد میں لینے تک کامیابی سے چل سکتی ہے۔کامیابی سے چلانے کے لئے اگر دیئے گئے فارمولوں پر عمل کیا جائے تو کامیاب حکومت ممکن ہے جن پر عمل کرکے عوام اور خاص کر غریب عوام کو مسلسل اعتماد میں رکھا جا سکتا ہے۔


ہر شعبہ میں ایسی پالیسیاں تشکیل کرنا چاہئیں جو انصاف کے قریب ترین ہوں۔
غریب عوام کے مسائل پر نہ صرف توجہ دینا چاہیے بلکہ مسائل کو ختم کرنا بھی ضروری ہے۔پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے اگرچہ غربت اور مسائل کو ختم کرنے کے وعدے تو کئے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر رہے۔اسی لئے اکثر حکومتوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

(جاری ہے)


اشیاء ضروریات کی قیمتوں کو معیار پر لانا اور مہنگائی کا خاتمہ اگرچہ غریب عوام کا بنیادی حق ہے اس سے سیاسی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مہنگائی کے سبب اکثر عوام پریشان اور ذہنی طور پر مطمئن نہیں ہیں۔
بے روزگاری پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک روگ ہے تعلیم کا تناسب 66فیصد ہے لیکن تعلیم یافتہ طبقہ معاشی مسائل میں مبتلا ہے لہٰذا بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے پرانی پالیسی پر نہیں بلکہ نئی حکمت عملی اختیار کرکے نوجوان عوام کو بھی روزگار دلانا ضروری ہے اس معاملہ میں خاص طور پر اقربا پروری اور دیگر بدعنوانیوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔


وفاقی وزراء کو ہدایات جاری کرنا ضروری ہیں کہ وہ اپنے فرائض انصاف کے تقاضوں کے علاوہ عوام کے ساتھ خادم کی حیثیت سے پیش آئیں حکومت کرتے وقت ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھیں‘اگر وفاقی وزراء جذبہ حب الوطنی پیدا کر لیں تو حکومت اور پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کی بنیادیں مضبوط ہو سکتی ہیں جتنی بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں ان میں خود غرض رہی انہوں نے حکومت کو حکومت تصور کرکے عوام پر حکومت کی۔


صوبائی سطح پر ہر محکمہ کے سربراہ کو ہدایات جاری کرنی ہونی چاہئیں کہ وہ انتظامی فرائض کو فرائض سمجھ کر ادا کرے نہ کہ ایک سربراہ کی حیثیت سے،آمریت اور افسر شاہی کو اپنا شیوہ نہ بنا لیں۔اگر پیپلزپارٹی کے منشور کا تجزیہ کیا جائے تو اس کا منشور آج سے 36سال قبل بھی غریب عوام کے مسائل کا حل تھا اور آج بھی یہ ضروری ہے۔
خارجی تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں اور خارجیت کے علاوہ اندرونی معاملات پر بھی گہری نظر رکھیں تاکہ عوام کو تحفظ میسر آسکے۔

سب سے اہم اور ضروری کام جو وزیراعظم کے لئے ایک برننگ کوئسچن ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اور اقتصادی حالت جو ڈانواں ڈول ہے اس کو استحکام دینا ضروری ہے قیام پاکستان کے بعد جتنے بھی پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے سب کے ہدف پورے نہ ہو سکے۔اس سلسلہ میں وزیراعظم سے گزارش ہے کہ وہ اخراجات کو کم کریں اور ملکی آمدنی کے علاوہ زرمبادلہ میں اضافہ کریں جس کے لئے شعبہ زراعت میں فرسودگی کے جمود کو ختم کرنا چاہیے اس کے علاوہ مرکزی وزراء کی کارکردگی پر کڑی نگرانی کرنا اہم جزو ہے تاکہ وہ پہلی حکومتوں کی طرح حکومت کو نہ لوٹ سکیں۔


اگر ہم پہلی حکومتوں کی پالیسیوں پر طائرانہ نظر ڈالیں تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ سب نے اقتدار کی خاطر سیاست میں حصہ لیا۔خدمت عوام کے جذبہ کے تحت کوئی حکومت برسر اقتدار نہ آئی۔پھر آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس حکومت کے نمائندوں کے ایسے خیالات ہوتے ہیں وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کیسے کام کر سکتے ہیں۔شاید پیپلزپارٹی کی کامیابی کی وجہ بھی یہی ہے کہ عوام نے اور خاص کر غریب عوام نے اپنی اصلاح اور ظلمیت سے بچاؤ کے لئے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا۔

وزیراعظم کے لئے اب یہ ضروری ہے کہ وہ عوامی امنگوں کے مطابق پورا اتریں۔بیرونی حالات کی نسبت اندرونی شورشوں کے لئے اپنی پالیسی تشکیل دینا ضروری ہے جو عملی طور پر اور موثر طریقہ سے امن کی صورت حال قائم رکھ سکے۔سیاسی مفکرین بھی اس نظریہ کے قائل ہیں کہ:
”جس حکومت میں انصاف نہیں رہتا اس کو جلد زوال آجاتا ہے۔“
لہٰذا وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ انصاف کی پرورش کریں اور ہر شعبہ زندگی میں انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکومت کے نمائندوں کو اس کی تلقین کریں۔


قیام پاکستان کے بعد سے اب تک رشوت‘سفارش‘بدعنوانی کے خاتمہ میں تمام حکومتیں ناکام رہیں۔کوئی بھی ان کو معاشرہ سے مکمل طور پر ختم نہ کر سکی۔اگر حکومت اس معرکہ میں کامیاب ہو جائے تو مضائقہ نہیں کہ ان کی حکومت ایک مثالی حکومت بن جائے۔میری یہ گزارش ہے کہ وہ اپنی حکومت کو حقیقی طور پر اسلامی خطوط پر استوار کریں۔کوئی وجہ نہیں کہ وزیراعظم اور ان کی پارٹی آئندہ کے لئے لوگوں کے ذہنوں میں مقام نہ پائے اور برسر اقتدار نہ رہے۔


وزیراعظم سیاسی باریکیوں سے اچھی طرح باخبر ہیں لیکن پھر بھی ان کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہے تاکہ حزب اختلاف ان کی حکومت کو داغدار نہ کر سکے۔سب سے اہم بات جو ان کو ہر وقت اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے۔جب تک وہ عوام کے اعتماد میں رہتے ہیں ان کی حکومت مضبوط اور مستحکم رہتی ہے ورنہ زوال کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

اکثر عوام یہ کہتے ہیں کہ بھٹو کا دور حکومت اچھا نہیں تھا۔وزیراعظم محترمہ بے نظیر کو اپنے والد کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرنے تھے تاکہ ان کی شخصیت برقرار رہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی واضح کرنا ہے کہ عورت اسلامی قانون کے مطابق وزیراعظم پاکستان بن سکتی ہے یا کہ نہیں تاکہ اصل حقائق سے عوام کے ذہنوں میں یہ گنجل بھی کھل جائے۔


المختصر یہ کہ اگر حکومت کو وہ کامیابی سے چلانا چاہتے ہیں تو اسلام کے مطابق ہر شعبہ اور ہر محکمہ کو ڈھالنے کی کوشش کریں تاکہ نظریہ پاکستان کے مقاصد بھی پورے ہو سکیں اور ملک ایک اسلامی ریاست کے ساتھ معاشرہ میں بھی تبدیلی لا سکیں کیونکہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جسے اپنا کر ہر میدان میں ترقی کی جا سکتی ہے۔وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنے کردار کو لوگوں کے لئے مثالی بنائیں تاکہ عوام خود بخود سیدھے راستے کو اختیار کریں۔بہر حال اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اقدامات ہیں جن کے کرنے کی ضرورت ہے۔

Your Thoughts and Comments