Hawaszar

ہوس زر

حافظ مظفر محسن منگل دسمبر

Hawaszar
بھائی اللہ دتہ پانی پتی سر جھکائے اپنے بہت بڑے آفس کی بہت بڑی میز کے پیچھے ایک بڑے ہی رعب اور دبدبے والی کرسی پر بیٹھے تھے کہ میں نے انہیں ڈسٹرب کردیا۔”اے ڈی سیٹھ تم بھی اگر یوں پریشان بیٹھے ہوتو یقینا انقلاب آہی جانا چاہئے۔“
میرے اس اچانک آجانے پر سیٹھ گھبرا گیا کیونکہ اسے میری کھری کھری باتوں سے شدید نفرت تھی۔جب میں اسے جھوٹ بولنے سے روکتا ہوں تو وہ مجھے پتھر کے زمانے کا جنوبی انسان کہہ کر چلے جانے کا حکم دیتاہے،مگر ہم کب جانے والے ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے بچپن کایار ہے۔

ہم جائیں گے تو وہ ہمارے گھر پہنچ جائے گا۔حالانکہ اسے مصری شاہ اور لاہور کے دہلی دروازہ کی بے ہنگم ٹریفک سے گزر کر شادباغ آنا قطعاً پسند نہیں مگر اسے اپنی بھاری بھر کم لینڈ کروزر پر شادباغ آنا تو پڑتاہے کیونکہ بہت دن پہلے وہ بھی تو اسی پسماندہ علاقے کا رہائشی رہ چکا ہے۔

(جاری ہے)

اے ڈی سیٹھ بلاشبہ ایک کنجوس شخص ہے مگر ایک فرض کئی سالوں سے اس نے اپنے سر لے رکھا ہے۔

وہ ہمیں ہر چھ ماہ بعد کسی نہ کسی پہاڑی مقام کی سیر پر اپنے ساتھ ضرور لے کر جاتاہے اور ان خوشگوار سفروں پر ہونے والے سارے اخراجات خود برداشت کرتاہے۔اس دوران ہمیں یوں محسوس ہوتاہے جیسے وہ ہمارا راجا ہو اور ہم اس کی رعایا۔دوران سفر جب ہم اسے راجا صاحب کہہ کر بڑے”احترام“سے پکارتے ہیں تو وہ پھول کر کپابن جاتاہے۔
حقیقت کچھ یوں ہے کہ بہت سال پہلے راجا صاحب یعنی اے ڈی سیٹھ بھی ہماری طرح ایک غریب سرکاری ملازم کا بیٹا تھا اور ہماری طرح اسلامیہ کالج ریلوے روڈ پڑھنے جایا کرتا تھا۔

پھر اسے لاہور کی ترقی کے لئے کچھ نہ کرنے والے ایک ادارے میں کسی طرح سے ملازمت مل گئی۔بس․․․․․․بس پھر کیا تھا؟اللہ دتہ پانی پتی سے موصوف اے ڈی سیٹھ بن گئے۔ادھر پلاٹ خریدا ادھر پلاٹ بیچا،ادھر سے مال ادھر سے ملا اور پھر ایک دن میرے گھر تشریف لائے تو بڑے جلال سے فرمایا”یہ ملازمت․․․․․․بے ہودہ سی ملازمت چھوڑرہاہوں․․․․․․․“
الٰہی خیر یہاں ملازمت ملتی نہیں۔

وہاں ملازمت چھوڑی جارہی ہے اور پھر ملازمت چھوڑ دی گئی․․․․․․ایک بڑی سی فیکٹری میں حصہ ڈالا گیا یعنی چالیس فیصد فیکٹری ،موصوف کی والدہ کے نام تھی اور ساٹھ فیصد حصہ ان کا اپنا تھا(آپ سمجھ رہے ہیں ناں میری بات؟)
کچھ عرصہ بعد یہ فیکٹری مکمل طور پر اے ڈی سیٹھ کی ہو گئی اور دوسری فیکٹری میں انہوں نے”حصہ“ڈال دیا۔
ہم ان کی قربت سے محروم ہو گئے کیونکہ انہوں نے آٹھ کنال کی”مختصر “سی کوٹھی ہم سے دس بارہ کلو میٹر دور خریدلی تھی۔

آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ محترم کے مشاغل میں بھی خاصی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ایک دفعہ ہم مری کی مال روڈ پر پھررہے تھے کہ ہمارے پاس ایک نوجوان گزرا․․․․․وہ کچھ بڑ بڑا رہا تھا․․․․․․”جن“․․․․․․”جانی واکر․․․․․․․“میں نے پوچھا راجا صاحب یہ نوجوان کیا جن بھوتوں کی باتیں کررہا ہے؟خوب ہنسے بلکہ ہنس ہنس کے ان کے پیٹ میں بل پڑ گئے اور فرمایا․․․․․․”بے وقوف تم ٹھہرے پتھر کے زمانے کے جنوبی غیر ترقی یافتہ انسان ․․․․․․یہ شراب کی بوتلوں کی بات کررہا تھا․․․․جو مناسب دام پر ہوٹل میں خود ہی پہنچا دیتاہے۔

پھر مزید بتایا کہ تمہیں یاد نہیں یہی نوجوان رات کو ہمارے کمرے میں آیا تھا اور ایک بوتل تھما گیا تھا۔جواب بھی کمرے کی فریج میں پڑی ہے آدھی ۔اوہوجسے آپ کھانسی کا شربت بتا کر پی رہے تھے وہ کیا یہی کڑوا پانی تھا؟ہم نے حیرت اور پریشانی میں پوچھا تو زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔شاید اب بھی موصوف نے کوئی ایسی ہی چیز پی رکھی تھی۔
ہاں!تو میں بتا رہا تھا اے ڈی سیٹھ کی پریشانی کے بارے میں نے سر میز پر رکھے پریشانی کے عالم میں سوچنے کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ تمہیں پتہ ہے میرے تین بیٹے ہیں اور فیکٹریاں صرف دو۔


اللہ اکبر۔کیا پریشانی ہے ۔کیا مستقبل پر نظر ہے۔ٹھیک ہے تین بیٹے ہیں اور دو فیکٹریاں ہیں مگر بیٹے تو سبھی دس سال سے بھی کم عمر کے ہیں اللہ پاکستان کو سدا سلامت رکھے۔گھبرائیے مت جب تک ہمارے تین بھتیجے جوان ہوں گے آپ کی دو فیکٹریاں دو سے تین بن چکی ہوں گی․․․․․ہم نے وضاحت کی اور دلاسہ دیا تو ہماری شان میں خوب”گستاخیاں“کرنے لگے اور”غیر ترقی یافتہ جنوبی“کہہ کر اپنا مزید غصہ ہم پرنکالا۔


اصل میں یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی آج دو وقت کی روٹی کا نہیں سوچتا۔ہر شخص بہت سے پلاٹ‘بہت بڑا بنک بیلنس اور بہت سی کاریں حاصل کرلینے کی خواہش لئے ہر دن نئے ذرائع سے بے تحاشہ دولت حاصل کرنے کی فکر میں ہے۔
ضرورت ہزار روپے ہے مگر خواہش ایک لاکھ ہے ۔ہمارے حکمران اسی خواہش کے پیش نظر اربوں ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں چھوڑ کر وفات پاجاتے ہیں۔

شاہ ایران مرحوم کی مثال ہمارے سامنے ہے‘مگر ہم نے مثالوں سے سبق حاصل کرنا چھوڑ دیا‘ہم سب کے اندر ایک ایک اے ڈی سیٹھ موجود ہے کہ جس کے تین کمسن بیٹے ہیں مگر فیکٹریاں صرف دو؟اور اسی غم میں وہ ٹیکس چوری کرتا ہے‘مزدور کو کم تنخواہ پر گزارہ کرنے کی ترغیب دیتاہے اور ایک روپیہ کے لئے ہاتھ پھیلانے والے فقیر کو جھڑک دیتاہے کیونکہ اسے صرف اپنی بہت سی خواہشیں نظر آتی ہیں۔اسے دوسروں کی ضرورتوں سے کیا مطلب؟

Your Thoughts and Comments