Hindsoon Ka Chakar Or Pagal Pan

ہندسوں کا چکر اور پاگل پن

حافظ مظفر محسن بدھ جنوری

Hindsoon Ka Chakar Or Pagal Pan
ہمیں میٹرک کے بعد”اعلیٰ تعلیم“کے حصول کے لئے شہر آنا پڑا۔آنا کا لفظ یہاں استعمال اس لئے کرنا پڑاکہ جب شہر میں”آنا“ہو جائے تو پھر گاؤں”جانا“ممکن نہیں رہتا کیونکہ ہم جیسے دیہات سے آنے والوں کے باعث کراچی پھیل کر”کراچا“ہو چکا ہے جب کہ لاہور آپے سے باہر ہوجانے کے باعث ”لاہورا“بن چکا ہے۔بات اعلیٰ تعلیم سے شروع ہوئی تھی مگر خواہ مخواہ کراچی سے کراچا اور لاہور سے لاہور اتک پہنچ گئی۔

شہر میں ایک عدد خالہ صاحبہ کے گھر قیام کرنا تھا۔جی ہاں وہی خالہ جان جن کے ہاں قیام کے دوران ہم نے ایک لاکھ تین سوبارہ انڈے کھائے تھے۔دوبارہ بتادوں کہ یہ انڈوں کی تعداد ایک لاکھ تین سوبارہ ہے کیونکہ ہمارے محلے میں”جیون وہمی“صرف اس ہندسوں کے چکر میں پاگل ہو گیا تھا۔ہوایوں کہ آج پھل کم فروخت ہوئے ہیں اور منڈی سے جن ٹوکروں میں وہ پھل لایا تھا وہ سب نیچے سے گلے سڑے تھے اس نے کیلکو لیٹر پکڑا اور حساب کتاب شروع کر دیا۔

(جاری ہے)


زیرو آگے ہو گیا یا زیرو پیچھے ہو گیا جو نقصان کیلکولیٹر نے دیکھا وہ دولاکھ بنتا تھا اور بس جیون بے چارہ ”جیون وہمی“بن گیا۔گلی گلی شورمچاتا پھرے”لوگو!مجھے دولاکھ کا نقصان ہو گیا․․․․․․“لوگو!میرا دولاکھ کا نقصان ہو گیا“محلے کے مولوی صاحب نے ہم بچوں کی مدد سے جیون وہمی کو پکڑا اور چارنمبر بس پر چڑھ گئے۔یہ بات میں آپ کو نہیں بتانا چاہتا کہ وہاں”پاگل خانے“والے شبے میں ہمیں اور مولوی صاحب کو بھی اندر کرنے لگے تھے کیونکہ مولوی صاحب نے پاگل خانے کے مین گیٹ پر موجود کلرک سے جاتے ہی کہاں تھا کہ ہمیں ”بڑے پاگل“صاحب سے ملناہے۔

وہ تو اللہ کا شکرہے کہ ہم نے وضاحت کر دی تھی کہ ”نہیں جی نہیں جی“ہمیں بڑے پاگل صاحب سے نہیں بلکہ بڑے ڈاکٹر صاحب سے ملنا ہے جن کے نام کا سفارشی رقعہ ہمارے محلے کے ایک”سابقہ“پاگل نے ہمیں دیا تھا۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جیون وہمی بھی پاگل خانے کے علاج سے شفایاب نہیں ہوا تھا بلکہ جب ہم نے اسے ایک ملاقات میں پاگل خانے جاکر بتایا کہ تمہاری پھل کی دکان میں تو کل ملاجلا کر پھل ہی چودہ سوروپے کا ہوتاہے پھر بھلا تمہیں دولاکھ کا نقصان کیسے ہو سکتاہے ۔

تو وہ سمجھ گیا اور بالکل اسی طرح ہنسنے لگا جیسے سابقہ پاگل ہنستے ہیں۔یہ ہماری ایجاد کردہ اصطلاح”سابقہ پاگل“پر آپ زیادہ غور نہ کریں ورنہ آپ کوکئی لوگوں سے ملنے کے بعد ہماری یہ اصطلاح یاد آجایا کرے گی۔
بات ہورہی تھی خالہ جان کے انڈوں کی یعنی خالہ جان کے کھلائے گئے انڈوں کی۔خالہ جان کا اصول تھا کہ گرمی ہو یا سردی جونہی مہمان آیا پانچ انڈے ایک لیٹر پانی میں ڈالے اور چولہا پر چڑھادیے۔

ادھر انڈے ابلے ادھر چائے تیار ہوئی۔
انڈے سے چھلکے اترے اور درمیان سے کاٹ کر پانچ انڈوں کے دس کئے۔نمک چھڑکا اور چائے کے ساتھ مہمان کے سامنے پیش کر دئیے۔مہمان زیادہ قریبی ہوتا تو وہ آدھ کٹے ہوئے انڈے کھاتا ورنہ ایک ہاف پر ہی گزارہ ہوتا اور باقی کے انڈے ہم جو بچہ لوگ پردوں کے پیچھے جھانک جھانک کر دیکھ رہے ہوتے تھے جونہی مہمان جاتا ہم اس سے پہلے کہ گھر کے بڑے دروازے سے خالہ جان مہمان کورخصت کرکے آئیں پہلے ہی آٹھ آٹھ کٹے انڈے صاف کرچکے ہوتے اور خالہ جان سے اس گستاخی پر زیادہ سے زیادہ ہمیں دوتھپڑکا حصہ پڑتا تھا۔


خالہ جان کے ہاں قیام کی طویل کہانی تو آپ ہماری نئی کتاب”ہم اور ہماری خالہ جان“میں پڑھیں گے فی الحال یہاں صرف یہ بتانا مقصد تھا کہ خالہ جان کی بڑی بیٹی کی شادی ہو گئی اور پھر جب ہماری کزن میکے آئیں تو خالہ فوراً ہمیں پرانی شلوار کاٹ کر بنایا ہوا تھیلا تھمادیتیں اور حکم ہوتا کہ”بہن آئی ہے پانچ کلو قندھاری انار بھاگ کے لے آؤ“اور پھر کزن نمک چھڑک کر مزے مزے سے انار کھاتیں۔


بھابھی صاحبہ گھر آئیں تو ہم نے وہی تھیلا پکڑا اور پیسے طلب کئے کہ بھابھی کے لئے پانچ کلو قندھاری انار لانا ہیں۔پھر جو خالہ نے چمٹے سے ہماری ہاتھوں کی خبر لی․․․․․․․․خدا کی پناہ ․․․․․․پھر”پیار“سے پاس بیٹھایا چمٹا پرے پھینکتے ہوئے”غصے“سے بولیں۔”بیٹا بھابھی کا انار سے گلہ خراب ہو جائے گا۔اسے کہو ایک انڈا اُبال کے کھالے۔


اب میں نے ایک دن خالہ جان سے پوچھا کہ خالہ جان آپ بہو کے لئے بیٹی والا قانون کیوں نہیں بناتیں۔تو مسکرانے لگیں چمٹے کو ہاتھ تو اب لگا نہیں سکتیں کیونکہ اب میں بڑا ہو گیا ہوں اور ایم بی بی ایس کرنے کے بعد انگلستان سے چھپا کی میں سپیشلائز بھی کر لیا ہے۔بتاؤ کہ کیا بیٹی اور بہو کے لئے ایک ہی قانون بن سکتاہے؟میں پھٹی پھٹی نظروں سے باورچی خانے کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں بھابھی جون کے مہینے میں اپنے کھانے کے لئے دو انڈے اُبال رہی تھی اور مسکرابھی رہی تھی جیسے ”سابقہ پاگل“۔

Your Thoughts and Comments