Islamabad Main Siyasi Sargarmiyon Ka Hashar

اسلام آباد میں سیاسی سرگرمیوں کا حشر

جمعرات اکتوبر

Islamabad Main Siyasi Sargarmiyon Ka Hashar
سید عارف نوناری
اسلام آباد میں اجلاس کے بعد سیاسی گرمی نے اتنی شدت اختیار کرلی تھی کہ اسلام آباد کے لوگ قدرتی گرمی کو بھول گئے جب اجلاس ختم ہوئے تو قدرت نے سیاسی گرمی کے ساتھ ساتھ بارش سے عوام کے اندر گرمی کی شدت کو بھی کم کر دیا بارش اتنی شدت سے ہوئی کہ قومی اسمبلی ٹپکنی شروع ہو گئی اور خدا کو بھی بارش ڈالنے کا خیال سیاسی گرمی ختم ہونے کے بعد آیا۔

اگر اسمبلی کے اجلاس کے دوران بارش ہو جاتی تو شاید سیاسی گرمی اتنی نہ پڑتی۔راقم حروف اسلام آباد میں بارش کے دوران روزنامہ پاکستان کے دفتر میں تھا ایک صحافی دوست نے بتایا کہ یہاں سے ممبران اپنے اپنے گھروں کو گئے ہیں تو پھر بارش ہوئی ہے ورنہ شاید اسلام آباد گرمی میں جھلس جاتا۔
وہ اسمبلی جہاں اجلاس کے دوران اتنی گہما گہمی ہوتی ہے کہ عام آدمی اسمبلی کے اندر داخل ہونے کی جرات نہیں کر سکتا کوئی ممبر کسی وزیر کو مل رہا ہوتا ہے اور کوئی کسی وزیر کو مل رہا ہوتا ہے جب اجلاس ختم ہو جاتے ہیں تو اسمبلی میں سناٹا چھا جاتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں اجلاس کبھی ہوئے ہی نہیں۔

(جاری ہے)

اسلام آباد کی کشادہ سڑکیں بھی آرام کرنے کے لئے بیٹھ جاتی ہیں اور نمبر پلیٹ گاڑیاں اسلام آباد میں کم نظر آتی ہیں پھر اسلام آباد پولیس بھی خدا کا شکر ادا کرتی ہے جان چھوٹی لاکھوں پائے۔منو بھائی بھی اس بارش میں نہائے اور شاید اتنے نہیں بھیگے جتنا بھیگنا چاہئے تھا البتہ وہ اسلام آباد کی بارش کے قطروں کو بھانپ ضرور گئے کہ قطرے آئندہ کے لئے ٹھنڈک رکھیں گے یا پھر موسم خراب ہو جائے گا۔


بے نظیر تو چاہتی ہیں کہ اپوزیشن تعاون کرکے انھیں پانچ سال حکومت کرنے دے لیکن اپوزیشن نہیں چاہتی کہ بے نظیر پانچ سال حکومت کرکے پاؤں مضبوط کرے۔ادھر سندھ میں پی پی پی کے حالات خراب کرکے مرتضیٰ بھٹو کو اور نصرت بھٹو کو کسی طریقہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو سے لڑا کر اپنا مقصد نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اصل میں نواز شریف کے پاس اب موجودہ حکومت کے خاتمہ کے لئے ایک مہرہ ہی زیادہ موثر ثابت ہوسکتا ہے ۔

وہ مہرہ مرتضیٰ بھٹو ہے۔سندھ میں اگر مرتضیٰ بھٹو کو محترمہ بے نظیر وزیر اعلیٰ بنا دیں تو پھر بے نظیر بھٹو کو شدید خطرات سے دو چار ہونا پڑے گا اسی لئے بے نظیر بھٹو سمجھداری سے کام لے رہی ہیں اور مرتضیٰ بھٹو کو وزیر اعلیٰ سندھ نہیں بنانا چاہتی ہیں۔اگر مرتضیٰ بھٹو کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا تو پھر نواز شریف کے لئے راستہ ہموار ہو جائے گا۔


نواز شریف نے موجودہ حکومت پر الزامات لگا کر عوام کو بہکانے کی کوشش کی جب برسر اقتدار حکومت نے نواز شریف کے پول کھولنے شروع کر دئیے تو پھر وہ بھی ٹھنڈے ہو کر بیٹھ گئے اور موجودہ حکومت کے خاتمہ کے لئے اقدامات اور حربے کم استعمال کر رہے ہیں لہٰذا بجٹ کا شور شرابا بھی مچانے کے لئے منصوبے بنائے گئے تھے لیکن ان تمام منصوبوں پر اوس پڑ گئی اور اب حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے پہلے کی نسبت کچھ سکون ملا ہے۔

بات کی جا رہی تھی اسلام آباد کی تو یہ کہ اسلام آباد کی اسمبلی چوناکوئی معمولی واقع نہیں۔کہیں غریب کا گھرچو جائے تو بے چارہ خاموش نہیں رہتا یہ تو پھر نیشنل اسمبلی ٹپکی کہ جیسے کچا کوٹھا ٹپکتا ہے۔عالمی دنیا اگر بات کو جان جائے تو وہ ضرور سوچے گی کہ پاکستان کے سیاستدان اتنے گئے گزرے ہیں کہ جہاں بیٹھ کر اجلاس کرتے اور خود بیٹھتے ہیں اسے بھی بے ایمانی کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔

سیاسی فضا اسلام آباد کی کبھی خوشگوار اور کبھی ناخوشگوار ہو جاتی ہے اسلام آباد میں اتنی بارش کا ہونا کہ صحافیوں کے موٹر سائیکل بھی دھل گئے ان کے اوپر کئی ماہ کی گرد و غبار بھی اتر گئی اب وہ پہلے کی نسبت زیادہ شفاف نظر آنے لگے ہیں۔لاہور کے صحافی اکثر اسلام آباد کا چکر لگاتے ہیں تاکہ تازہ ترین اور مضبوط اطلاعات کی روشنی میں تجزیے کر سکیں بعض صحافی ٹولوں کی شکل میں اپنے کام نکلوانے کے لئے لاہور کو چھوڑ کر اسلام آباد کو رونق بخشتے ہیں۔


کشمیر کمیٹی کے ممبران کا وفد چار ممالک کے دورہ پر روانہ تو کر دیا ان میں ایسے ممبران کو شامل کیا گیا ہے جو شاید اپنے بارے میں مکمل طور پر نہیں جانتے۔اسلام آباد کی بات میں پھر مسئلہ کشمیر آگیا لیکن ڈراما وفا میں ایک ایسے شخص کو کاسٹ کیا گیا جس نے کبھی فلم میں نیکی کا کام کیا ہی نہیں بس نواز شریف بھی مصطفی قریشی کی طرح مار دھار چھوڑ کر نیکی کا کام کر گزریں تو کیا حرج ہے کیونکہ اب پاکستان کو نیکیوں کی ضرورت ہے۔

تیل دیکھیں یا تیل کی دھار۔اب محترمہ بے نظیر بھٹو بھی پہلے سے الرٹ نظر آرہی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ نبض کو کہاں سے پکڑ کر مریض کا علاج کرنا ہے۔اسلام آباد میں حکومتی دفاتر دیکھ کر بندہ حیران ہو جاتا ہے کہ پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کی صف میں شامل کیا جاتا ہے ،کروڑوں روپیہ ان دفاتر کے علاوہ حکومت کی شہ خرچیوں پر صرف ہوتا ہے اور سارا بوجھ غریب عوام پر،ایم این اے ہوسٹل میں اسمبلی کے دوران کفایت شعاری نہیں بلکہ فضول خرچیوں کی لائن لگ جاتی ہے۔

یہ ممبران اسمبلی میں ایسے جاتے نظر آتے ہیں جیسے کوئی نواب،جاگیردار جاگیرداری کر رہا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے اور عوام بے چارے بھوکوں مر رہے ہیں اور ممبران کو کیا پروا،کوئی مرے یا جیئے ان کی بلا سے ان کو تو بس شاہانہ زندگی سے پیار ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کو چاہیے کہ وہ ان شہ خرچیوں کو ختم کرنے کے لئے ایسے طریقے اپنائیں اور جرات پیدا کریں کہ ممبران قوم کے خادم بن جائیں اور عوام آسانی سے ان سے رابطہ کر سکیں۔اگر ایسا ہو گیا تو پھر یقینا پاکستان اسلام کا قلعہ بن جائے گااور مسلم لیگ موجودہ حکومت کے ساتھ تعاون کی روش اپنا کرہی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

Your Thoughts and Comments