Israr Khudi - Footpath Per

اسرار خودی، فٹ پاتھ پر

منگل اکتوبر

Israr Khudi - Footpath Per
 اعتبار ساجد
ابھی ہم مشہور زمانہ شاعر جناب مستانہ گورکھ پوری کی کتاب ” گورکھ دھندہ“ کی افتتاحی تقریب میں جانے کے لیے پر تول رہے تھے کہ مشہور نقاد حضرت عاجزقلندر آبادی تشریف لے آئے ان سے بات چیت ہونے لگی۔ یہ سلسلہ کچھ اتنا طویل ہوا کہ تقریب کا وقت نکل گیا۔ ہمیں بہت افسوس ہوا۔ مستانہ گورکھ پوری ہمارے ان شاعروں میں سے ہیں جو کہیں مل جائیں تو بہت اصرار کرکے چائے پلاتے ہیں اور نہایت عجزوانکسار کے ساتھ دو چار غزلیں سنا کر بالآخر چائے کا بل خودادا کرنے کاؤنٹر جاتے ہیں تاکہ حساب براہ راست ہوجائے بیرے کوٹپ نہ دینی پڑے ۔

ایسے محتاط شاعر کے مجموعہ کلام کی تقریب رونمائی میں شرکت کرنا ہمارا قومی فریضہ تھا تاکہ ہماری عدم شرکت سے ادب کی ترقی وغیرہ میں رختہ نہ پڑے۔

(جاری ہے)

لیکن حضرت عاجز قلندر آبادی بھی ایسی شخصیت نہیں جنہیں کوئی نوآموزادیب نظر انداز کردے کیونکہ ہمارے ملک کی پچاسی فیصدادبی کتابوں کے فلیپ یہی ذات شریف لکھتے ہیں ۔ حال ہی میں ان کے لکھے ہوئے فلیپوں کی پہلی جلد ” کھیپ “ کے نام سے شائع ہوئی ہے باقی پانچ جلدیں چھپنے کے لیے تیار پڑی ہیں۔

جوں ہی کوئی پبلشر اس کام پر آمادہ ہوگا۔ انشاء اللہ بقایا جلدیں بھی مارکیٹ میں آجائیں گی ” کھیپ “ کے سلسلے میں ایک نوجوان ادیب دوست نے ہمارے اصلاح کی کہنے لگے ۔
” یہ نام کھیپ نہیں کھپ ہے ۔ “
بہر حال عاجز کی کھیپ ہے یاکھپ یا فرزانگی کی بڑ۔ ہمیں تو حضرت عاجز کا ایک فقرہ نہیں بھولتا جوانہوں نے جاتے جاتے عنایت فرمایا۔
” نئی کتاب خریدنے کے لیے ہر گز عجلت نہ کرنا۔

یادرکھو جو کتاب نئی ہے اسے ایک دن پرانابھی ہونا ہے۔ لہٰذا خوب صورت بکسٹالوں کی بجائے جمعہ بازار کے فٹ پاتھوں کا رخ کیا کرو۔ یقین رکھو۔ تمہاری مطلوبہ کتاب رعایتی دام پر یہیں مل جائے گی ۔
اس فارمولے پرہم نے دس پندرہ دن بعد عمل کیا ۔ پچھلے جمعے صدر کے فٹ پاتھوں کا طواف کیا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ گورکھ پوری کی کتاب ” گورکھ دھندہ “ پڑی جگمگا رہی ہے ایک دم کتاب ہم نے اٹھا کرورق گردانی کی۔

پہلے ہی صفحے پر جہاں کتاب کا مصنف اپنی کتاب کسی کی نذر کرنے کے لیے آٹوگراف دیتا ہے اور چند الفاظ لکھتا ہے اس پر جناب مستانہ کے آٹوگراف تو صاف پڑھے جاتے ہیں اوریہ سطر بھی ۔ نہایت عقیدت کے ساتھ ۔ مگر عقیدت کے ساتھ یہ کتاب جسے پیش کی گئی تھی اس ناہنجارنے اپنے نام پر سیاہی پھیردی تھی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جناب مستانہ گورکھ پوری کے منہ پر کالک مل دی تھی ۔


اس کتاب کی قیمت پچاس روپے تھی لیکن ردی فروش نے اس پر کاٹے کا نشان لگا کر لکھ دیا تھا ۔
”صرف پچیس روپے “ ہم نے پچیس روپے میں یہ گورکھ دھندہ خریدلیا۔ خیال تھا کہ جناب مستانہ کو پوری روئیدادسنائیں گے اور اس بات پر گہرے دکھ اور ملال کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے ہمیں کتاب نہیں دی۔ ایسے لوگوں کو بانٹ دی جو اس دربے بہا کر فٹ پاتھ پر بیچ آئے ہم دل ہی دل میں حضرت مستانہ گورکھ پوری کو نادم ، شرمندہ ، محجوب اور مجہول کرنے کے لئے فقرے سوچ رہے تھے کہ ساتھ والے فٹ پاتھ پر نظر پڑی ۔

نظر کیا پڑی بینائی جاتی رہی۔ آنکھوں میں ترمرے ناچنے لگے ۔ پاؤں تلے زمین سرکنے لگی۔ پرانے ڈائجسٹوں کے ڈھیر میں ” اسرار خودی “ پڑی کسمسارہی تھی شاعر مشرق کے کلام کی یہ بے حرمتی دیکھ کر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ بڑھ کر ہم نے ردی فروش کا دامن تھام لیا پوچھا۔” اے ناقدر شناس فن ایسی محترمہ کتابوں کو فٹ پاتھ پر دھرکے بیچتے ہوئے تجھے شرم نہیں آئی ؟ “
کہنے لگا․․․․․․ جناب ذرا غور سے دیکھیں ۔

فٹ پاتھ پرہم نے دری بچھارکھی ہے اس کے اوپر کتابیں رکھی ہیں ۔
ہم نے کہا ․․․․․” دری سے کیا فرق پڑتا ہے ہے تو فٹ پاتھ ہی ․․․․․․“
بولا․․․․․ ” میری سرکار۔ ہم تودکانداری کرتے ہیں ․․․․․ کاروبار میں کیا شرم کیا لحاظ ․․․․ یہ تو ایک اسرارخودی ہے آپ حکم کریں تو میں گنجینہ گوہر پیش کروں بہشتی زیورنکالوں ․․․․․ سقراط ، بقراط ، ارسطو، افلاطون کی کتابیں حاضر کروں “
 واقعی یہ تو اس ردی فروش نے ٹھیک کہا کہ کاروبار میں آدمی کتابوں کے حفظ مراتب کا خیال نہیں رکھ سکتا۔

لیکن ایسی بھی کیا بے شرمی اور بے لحاظی کہ ہدایت نامہ خاوند کی آغوش میں مشاہیر کے اقوال زریں پڑے ہوں۔ ایذراپاؤنڈ کے ساتھ سگھڑبیوی پڑی ہو۔ ایسٹر میکلین کے ساتھ تحریک خلافت دھری ہواور تاریخ ادب کے سرہانے گربھ شاستر پڑی ہولیکن ایک ردی فروش کی ناسمجھی کا تو شکوہ فضول ہے ہمارے پڑھے لکھے ادیب تک کم فہمی اور کج فہمی کا شکار ہیں۔ گھر سے ٹینڈے اور گوشت خریدنے نکلتے ہیں جمعہ بازار کے فٹ پاتھ پر جا کر ان کی نیت بدل جاتی ہے کچن کے سامان کی بجائے گربھ شاستر عرف برتھ کنٹرول خریدلاتے ہیں ان ردی فروشوں کی ناسمجھی اور ناقدری اپنی جگہ․․․․ لیکن جمعے کے جمعے کتابوں سے سجنے والے ان فٹ پاتھوں کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کو کسی کتاب کی تقریب رونمائی میں جا کر چار پانچ گھنٹے تقریریں اور مقابلے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ۔

بس ہر ہفتے ایک چکر ادھر لگالیا اور اپنا گوہر مقصود پالیا۔ اس جمعے نہیں تو اگلے جمعے ․․․․․ اگلے نہیں تو اس سے اگلے سہی ۔

Your Thoughts and Comments