Jamhoriyat Ki Asaal Khushbu

جمہوریت کی اصل خوشبو

ہفتہ اکتوبر

Jamhoriyat Ki Asaal Khushbu
سید عارف نوناری
جمہوریت کا تصور بہت وسعت طلب ہے رائے عامہ کا اظہار اور اس کی مقبولیت کو اہمیت دینا خالص جمہوریت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلامی جمہوریت اور موجودہ جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے اسلامی جمہوریت کا واضح تصور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور خلفائے راشدین کے دور میں ملتا ہے جہاں صرف اور صرف حکومت اور جمہوریت کا مقصد عوام کی خدمت کرنا تھا نہ کہ انفرادی مفادات کو مد نظر رکھ کر جمہوریت اور اسلام کے اصولوں سے انحراف کرنا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زندگی جمہوریت کا عملی نمونہ تھی جہاں عدل و انصاف اور مساوات کا عملی نمونہ ملتا ہے۔کاش کہ ایسی جمہوریت دنیا کے اسلامی ممالک میں دیکھنے کو ملے تاکہ امن و سکون کی فضا تمام عالم میں محسوس کی جا سکے اور اسلامی دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اسلامی مذہب مضبوط استحکام کے ساتھ نمایاں مقام لے کر صیہونی اور غیر مسلم قوتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر سامنے آئے۔

(جاری ہے)

کاش کہ ایسا جلد ممکن ہو جائے اور اسلامی جمہوریت کا بول بالا ہو جہاں بے انصافی‘قتل و غارت اور لالچ کے عناصر پروان چڑھ رہے ہوں وہاں اسلام پھر سے اسلامی قلعہ بن جائے اور دور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پھر سے نافذ ہو جائے۔
وہی قوانین عوام کے مطالبات بن کر ابھریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے لئے مسلسل مجموعی کاوشیں اور جدوجہد کو عمل میں لایا جائے ۔

اسلام میں جمہوریت کا تصور بہت واضح ہے۔موجودہ حالات کے خراب ہونے کا سبب صرف اسلام کے اصولوں،قواعد و ضوابط اور اسلامی قوانین سے انحراف کا نتیجہ ہے موجودہ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام موجودہ حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں۔پاکستان کے حالات خاص کر اسلام کے قوانین کے نفاذ کے متقاضی ہیں۔اسلام عدل و انصاف‘مساوات‘ہمدردی وانس‘محبت باہمی تعاون کا روادار ہے ۔

کیا موجودہ جمہوریت ان اصولوں کے مطابق چل رہی ہے کہ موجودہ حالات ہمیں ان اصولوں کو اپنانے کی تلقین کرتے ہیں اگر جمہوریت کو دیکھنا ہو تو پھر ہمیں آج سے چودہ سو سال قبل کے حالات و واقعات کی طرف جانا ہے جس زمانہ میں جمہوریت ایسی تھی کہ حاکم بننے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا تھا بلکہ اس بوجھ کو برداشت کرنا مشکل تھا۔عالم اسلام میں مسئلہ کشمیر‘مسئلہ بوسنیا‘مسئلہ فلسطین اسلامی جمہوریت اور اسلام کے زریں اصولوں کے تحت ہی حل ہو سکتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میری ریاست میں اگر ایک کتا بھی بھوکا سو گیا تو قیامت کے دن میں اس کے لئے جوابدہ ہوں گا۔

وہ دور اگر آج بھی آجائے تو پھر ان کا خیر مقدم یقینا بڑے پر جوش انداز میں کیا جائے۔
عوام ایسی جمہوریت اور اسلام سے مطمئن ہوتے ہیں۔موجودہ حالات نے اب مجبور کر دیا ہے کہ صرف اسلامی قوانین جو کہ بین الاقوامی قوانین ہیں ان کے ذریعہ موجودہ اہم مسائل کا حل تلاش کریں۔جمہوریت کے تقاضے تقاضا کرتے ہیں کہ جمہوریت میں عوامی نظریات و خیالات کو ترجیح دی جائے اور مثبت خیالات و تجاویز کو ملک کے حکمران تسلیم کریں۔

کیا یہ اسلامی جمہوریت اور اسلام ہے کہ ملک کے عوام کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے روکا جائے اور منتخب نمائندوں کی رائے کو عوامی رائے تصور کرکے مان لیا جائے اسلامی تقاضے اس رائے اور خیالات کو قبول نہیں کرتے بلکہ اسلامی جمہوریت کا تصور کرنا آج کے دور میں ناممکن نظر آتا ہے اسلام ایک مکمل آئین ہے آج کل اسلامی آئین جو کہ قرآن و حدیث ہے اس کو پس پشت ڈال کر انگریزی آئین کی تقلید و پیروی کو اولیت دی جا رہی ہے۔

خلفائے راشدین کا زمانہ وہ زمانہ تھا جس میں ہر ایک کی آواز آسانی سے حکمران تک پہنچ جاتی تھی اور اس آواز کو سنا جاتا تھا‘یہ جمہوریت تھی اور اسلامی آئین کی دفعہ ہے جس میں انصاف ہے‘عملی نمونہ ہے اور باز پرس ہے۔ہم کیوں کسی مسئلہ کے حل میں کامیاب نہیں ہوتے۔ہم کیوں عالمی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ہم کیوں غیر مسلموں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ہمارا نظام کیوں تباہی کی طرف جا رہا ہے کیونکہ ہم غیروں کے آئین کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اسلامی طرز زندگی کو فراموش کرکے تاریک ڈگر پر چل رہے ہیں۔
کیا جمہوریت اور اسلام موجودہ تقاضوں کے لئے کافی نہیں؟اس کا جواب صرف حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور قرآن کی تقلید میں مضمر ہے ایسا کیسے ممکن ہے اس کا جواب صرف یہ ہے کہ جمہوریت اور اسلام ہی موجودہ تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں ان کی وجودیت بین الاقوامی سطح پر عائد ہوتی ہے موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ان پر عمل کرکے حالات کا مقابلہ کرکے فتح حاصل کی جائے اور مسائل کو حل کرکے بین الاقوامی سطح پر مسلم لیگ یک جان ہو کر بین الاقوامی اتحاد سے اپنا نام پیدا کرکے پھر آج سے چودہ سو سال قبل کی تاریخ کو دہرا کر عالمی سطح پر اسلام کی مقبولیت کو دوبالا کریں۔

اگر عالمی سطح پر جمہوریت اور اسلام کا تجزیہ کیا جائے تو اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ اسلام کے قوانین ابدی ہیں جو کہ ہر وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان قوانین کے نتائج مثبت ہی نکلتے ہیں منفی نہیں ہو سکتے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اصولوں پر عمل کیا جائے تاکہ اسلامی ممالک حقیقی طور پر اسلامی ممالک بن کر عالم میں اپنا نام پیدا کرکے کافروں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکیں اور ایک سچے جمہوری نظام پر عمل کرکے دنیا پر ثابت کر دیں کہ جمہوریت اور اسلام ہی موجودہ تقاضوں کے لئے کافی ہیں کسی دوسرے نظام کی کوئی ضرورت نہیں۔

Your Thoughts and Comments