Joroon K Dard

جوڑوں کے درد

امجد محمود چشتی ہفتہ جولائی

Joroon K Dard
فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے انسان کو عرش پہ بنے جوڑوں کی وساطت سے دنیا میں لانے کا اہتمام ہوا۔پھر انسانی جسم میں تین سو ساٹھ جوڑوں کی موجودگی نے جوڑوں کی اصطلاح کو انسان سے لازم کر دیا۔ یوں انسان کے اندر کے جوڑوں اور عرش پہ بنے جوڑوں کے اپنے اپنے درد متعارف ہوئے ۔ پر یہاں فقط اک دوجے کے لباس قرار دئیے گئے جوڑوں کے گفتہ ،شگفتہ و نا گفتہ دردوں کا تذکرہ ہے ۔

جوڑوں کے درد کی تاریخ انسانی تخلیق سے جُڑی ہے ۔اسی درد کے موجب انسان جنت بدر ہوا اور یہی دردزمین پر پہلے قتل کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا ۔ وقت گزرا توبنی نوع انسانیت میں وٹامن شی ، وٹامن” ہی “ اور پروٹین کی کمی شدت اختیار کر گئی اور ان کا محض ایک دوسرے پہ گزارا مشکل ہونے لگا۔لہٰذاشرعی و غیر شرعی کثیرالازواجی اور دیگر رشتوں کے ساتھ منہ بولی بیویوں کا رواج بھی عام ہو گیا ۔

(جاری ہے)

جوڑوں کی اقسام دیکھیں تو ان میں مثالی جوڑے ، چھچھورے جوڑے ، ِبن بتوڑے جوڑے ،گھگھو گھوڑے جوڑے ،توڑے مروڑے جوڑے ،لمبے چوڑے جوڑے اور بھگوڑے جوڑے شامل ہیں اور ان میں ہمیشہ جوڑ توڑ جاری رہتا ہے ۔۔ بلحاظ قسمت یہ جوڑے پہلے ،دوسرے،چوتھے اور ساتویں آسمان پہ بنائے جاتے ہیں ۔ سبھی جوڑے اپنے اپنے حصے کی خوشیاں اور درد ساتھ لاتے ہیں اور ان کے معاشقے قیدِشریعت سے دوچار ہوکر کثرتِ اطفالی کو فروغ دیتے ہیں ۔

بالی عمر کے جوڑے نظر بازوں کی عمیق نظروں کے باعث غیر محفوظ شمار ہوتے ہیں لیکن خستہ سال و حال جوڑے محفوظ مگر غیر محظوظ ہوجاتے ہیں ۔ ہر جوڑا ہر روز ایک دن پرانا ہوجاتا ہے ۔ بڑھتی عمرسر پر بھاری گزرتی ہے اور مرد کا سر باہر سے جبکہ عورت کا اندر سے خالی ہونے لگتا ہے ۔ کہہ سکتے ہیں کہ بچپن میں یہ درد نا ہونے کے برابر پر پچپن میں سَوا ہوجاتے ہیں کیونکہ اس دور میں رومانس کیلئے کچھ باقی نہیں رہتا ۔

ایک دوسرے سے اَک کر نَکو نک بھر چکے ہوتے ہیں مستزاد منکوحہ کے میکے جانے کے امکانات بھی مکمل معدوم ہو چکے ہوتے ہیں ۔ پھر نوک جھوک کے سوا کوئی کرنے کا کام بھی نہیں ملتا ،محض یوں مکالمات ہوتے ہیں۔
اپنی زوجہ سے کہا اک مولوی نے نیک بخت
تیری تربت پر لکھیں تحریر کس مفہوم کی
اہلیہ بولی عبارت سب سے موزوں ہے یہی
دفن ہے بیوہ یہاں پر مولوی مرحوم کی
 پھر کرونا نے بھی غضب ڈھائے کہ مہینوں شب وروز ایک گھر میں رہنا پڑا ۔

ماسک نے الگ گُل کھلائے کہ چور ،سادھ ، خاوند اور جیٹھ کی شناخت کا بحران پیدا ہوگیا ۔اچھی صورت بری شئے ہے کیونکہ جو ڈالے ،بری نظر ہی ڈالے ۔ کوئی” غیر “اگر زیادہ اچھی لگنے لگے تو اس پہ بری نظر پارساؤں پر بھی واجب ٹھہر جاتی ہے ۔یوں جوڑوں کے یک طرفہ ،دو طرفہ یا سہ طرفہ درد اٹھنے کے سلسلے دراز ہونے لگتے ہیں اورشادی کے کچھ عرصہ بعداکثر دو کی بجائے تین افرادکی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے ۔

گویا میاں بیوی گاڑی نہیں رکشہ بن جاتے ہیں ۔پھر ،،کفو ،، پہ پورا نہ اترنے اور مزاجوں کے تفاوت کے نزلے بھی جوڑوں کے اعضائے رئیسہ پر گر تے ہیں ۔ایک فریق میر کے سرہانے تو دوسرا توپ کے دہانے پہ کچھ کہنے کہلانے کا خوگر ہوتا ہے ۔ یہ بھی دیکھا سنا ہے کہ میا ں بیوی خوش رہ سکتے ہیں بشرطیکہ میا ں کسی اور کا اور بیوی بھی کسی اور کی ہو ۔ بیویوں کو شوہروں کی معلومات کم مگر بیواؤں کو ان کے اصل ٹھکانوں کا وثوق سے علم ہوتا ہے ۔

ویسے بھی پہلی بیوی سے ٹوٹ کر محبت کا رواج کہاں؟ ۔یوسفی کے مطابق شاہ جہان نے بھی آٹھویں بیوی کیلئے محل بنوایا ۔ عرب ممالک میں یک زوجئیے کو مسکین سمجھا جاتا ہے ۔دیکھا دیکھی اپنے ہاں کا یک زوجیہ بھی اس درد کی شدت محسوس کرتے ہوئے شرح خاوندگی میں اضافے کی ،، ہِڈک ،، میں مبتلا رہتا ہے ۔ شاعر نے خوب کہا ہے
میں تو اہل ہوں کسی اور کا میری اہلیہ کوئی اور ہے
میں ردیف ِ مصرعہ  عشق ہوں میرا قافیہ کوئی اور ہے
کسی تجربے کی تلاش میں میرا عقدِ ثانوی ہوگیا
میری اہلیہ کو خبر نہیں میری اہلیہ کوئی اور ہے
بنی نوع مردانیت میں کچھ ایسے مردِ آزاد بھی ہیں کہ پیری میں رال ٹپکانے سے باز نہیںآ تے اور نہ ہی سگی یا سوتیلی بیویوں میں فرق کرتے ہیں ۔

ہمسائے سے زیادہ ہمسائی کے خیر خواہ ہوتے ہیں ۔یوسفی نے سچ کہا تھا کہ سیانا مرد نظریں نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے ۔کنوارے ان دردوں سے مُستثنٰی ہیں کیونکہ کنوراے پن کی ایک دن کی زندگی شادی شدہ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے ۔ تاہم ان میں سے کچھ آؤٹ سٹینڈنگ کی تلاش میں خود” آؤٹ “سٹینڈنگ ہوجاتے ہیں ۔ ان کے اپنے ڈھیروں درد ہیں جیسے
تیرے وعدے اگر وفا ہوتے
ہم مجازی سہی ، خدا ہوتے
کچھ کنوارے طرح طرح کے قصے کہانیاں سن کر شادی سے خائف ہوجاتے ہیں۔

کچھ کا اطباء کرام ،، تراہ ،، نکالے رکھتے ہیں ۔انشاء جی سے معذرت کے ساتھ ۔۔
پاگل نہ بنو ، کچھ ہوش کرو یہ شادی بیاہ رچانا کیا
شوہر کو سکون سے کیا مطلب ،رنڈوے کا نگر میں ٹھکانہ کیا
پہلے جو طبیب سے جا ملتے تو بھرم شرم کچھ رہ جاتا
اب رات سہاگ جو آئی ہے سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
 البتہ ماہرین مجنوں،رانجھا،مرزا ، پُنوں اور ماہیوال کے دردوں کی طبی،اخلاقی اور شرعی نوعیت وضع کرنے سے یکسر قاصر ہیں ۔

ان کے علاوہ جوڑوں کے درد کے اسباب میں ساس کا وجود ناقابلِ تردید حقیقت ہے ۔ اسی طرح گھر دامادی اور زن مریدی بھی ان دردوں کی شدت بڑھاتی ہیں ۔ زن مرید وں میں حسن ِ ظن اور حسنِ زن کے موجزن ہونے کے موجب ،، تھلے لگنے ،، کی خداداد صلاحیت پائی جاتی ہے جو اسے معاشرے میں شرم کے مقام پر فائز کرتی ہے ۔ ان کے دلوں میں خوفِ الٰہی و اہلیہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔

ایسے شوہر حقِ شوہریت اور ،، بیگم ڈانٹ کام،، میں فرمانبردارانہ مہارتوں کے بل بوتے پر چھپے خصم نکلتے ہیں ۔ گلِ نوخیز اخترکے مطابق خواتین کو شکوہ رہتا ہے کہ بھوک نا لگنے کے باوجود ان کا وزن بڑھتا جارہاہے ۔سسرال نے آج تک بہو تسلیم نہیں کیا ،اوپر سے شناختی کارڈ پر غلط تاریخ پیدائش لکھوا دی ہے ۔میری قسمت میں سکون کہاں؟میرے سارے بھائی رن مرید ہیں۔

خالو کے بیٹے کے رشتے میں مجھ سے مشورہ تک نہیں کیا گیا ۔ شوہر شاپنگ پہ نہیں لے جاتا۔یہ کوئی زندگی ہے ۔ شکیل ہی ٹھیک تھا ۔ ادھر حضرات کے بھی نرالے درد ہیں جیسے ،پاؤں دبوانا کہاں کی شرافت ہے۔سارے تولئے ایک ہی دن دھونا ضروری ہیں؟۔ پھر بستر کی چادر سے منہ بھی صاف نہیں کرنے دیتی ۔موبائل سے کون سی ویڈیو پہلے ڈیلیٹ کی جائے۔گھر میں کوئی چیز وقت پر نہیں ملتی۔

لڑکیوں کو انکل کہتے شرم نہیں آتی ۔شیو آج کی جائے یا پرسوں؟ ۔وغیرہ۔غرض یہ دنیا کے تمام خطوں میں پایا جانے والا سب سے بڑا انسانی ازدواجی عارضہ ہے جس کے وقتی مداوے بھلے عقدِ ثانی ،دولت کی روانی اور من مانی سہی مگرجُز مرگ شائد ہی کوئی ابدی علاج ہو۔مشہور زمانہ و زنانہ ڈرامہ ،،میرے پاس تم ہو کے انجام سے بھی یہی پیغام ملا کہ مرد عورت سے بچھڑجانے سے ہرگز نہیں بلکہ اس کے واپس آنے کے خدشے سے مر جاتا ہے ۔

تاہم آخر میں بنی نوع نسوانیت کی عظمت میں اعتراف لازم ہے کہ مرد کی طرح عورت کے قلب و نظر پر بھی قفل نہیں ہوتے مگرجب کبھی دلوں اور گھروں کے ٹوٹنے کی نوبت آ پہنچے تو عورت ہی ہے جو فطری صلاحیتوں سے اپنی خواہشات قربان کرکے خود اور خود سے جُڑے بہت سے افراد کو بکھرنے اور ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے ۔

Your Thoughts and Comments