Juz Qais Baqi Ghalib (dusri Qist)

جز قیس باقی غالب (دوسری قسط)

عابدہ ظہیر عابی جمعہ مئی

Juz Qais Baqi Ghalib (dusri Qist)
”مجھے بھی دکھاؤ اپنی لیلیٰ“، قیس نے ضد کی۔ 
 اچھا بھئی ٹھیک ہے۔۔۔پہلے آگ پانی۔۔۔پھر دید دیوانی۔ 
 مجنوں شوق دید میں تیار آب سوار ہوا۔۔۔ادھر غالب نے اپنی ادھیڑ عمر سیکرٹری کو بلوا بیجھا۔
 ادھیڑ عمر سیکریٹری نے آتے ہی پوچھا، ”جی حضور والا فرمائیے کیا حکم ہے؟“ 
 بس تم بے نقاب یہاں بیٹھی رہو۔غالب کی انوکھی فرمائش سن کر سیکریٹری نے کہا مگر کیوں؟ وہ بھونچکا رہ گئی۔

” میں جو کہہ رہا ہوں“، غالب نے رعب و دبدبے سے کہا۔ سیکرٹری نے ادھر ادھر دیکھا کوئی دکھائی نہ دیا۔۔۔خاموشی سے بیٹھ کر اس نے اپنی عینک اور ہیٹ گود میں رکھ لیں۔ غالب مراقبے میں پہنچ گئے۔
 آمد اشعار اس تیز رفتاری سے حملہ آور ہوئی کہ کاغذ قلم سر دھننے لگے۔ 
 ارے کوئی ہمارے یارو کو مجنوں کی خبر دے دے۔

(جاری ہے)

۔۔

 غالب نے لکھتے لکھتے گنگنایا۔

 
” جی۔۔۔کون مجنوں؟“ سیکریٹری نے یکدم پوچھا۔ 
غالب جو عالم شوق میں نعرہ مستانہ لگا چکے تھے فوراً گویا ہوئے میرا یار ہے۔ سیکریٹری نے دیکھا کہ ایک خوبرو نوجوان تازی تازی مسیں بھیگی ہوں گی۔۔۔۔ معصوم سا نوجوان ہاتھ میں حقہ چلم لیئے آرہا ہے۔ 
یہ یار ہے آپ کا۔۔۔
سیکرٹری نے پر شوق دید لیئے اچھنبے سے پوچھا۔
ہاں ہاں سیدھا جنت سے ادھر ہی آیا ہے۔

 
کہہ رہا تھا مجھے تمہارے رب نے تمہارے لئے بھیجا ہے سو میں نے اسے کام پر لگا لیا۔ روٹی پانی کے علاوہ خرچہ پانی بھی طے ہے۔ 
تو میری کیا ضرورت باقی رہی؟ تو میں چلتی ہوں۔ سیکرٹری نے اوپری تڑی ڈالی۔۔۔غالب بھلا کب رعب میں آنے والے تھے۔ انہوں نے عینک جھکائی آبرو اونچے کیئے اور اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے سیکرٹری کو دیکھتے ہوئے بولے تم چلی گئیں تو یہ ٹکے گا نہیں۔

تم بس خاموشی سے دیکھتی رہو، یہ تمہارے حصے کے کام بھی کر دے گا۔ غالب نے للچایا۔ ہاں یہ بات ہے تو پھر تو ٹھیک ہے، سیکرٹری کے لبوں پر مطلبی مسکراہٹ چھائی۔۔۔ غالب نے کن اکھیوں سے دیکھا، پھر لب پھڑپھڑائے۔۔۔برداشت کرنا آسان نہیں ہوا تو برملا کہہ دیا 
مطلبی ہے دنیا ساری مطلبی زمانہ۔ 
میتھیو نے سنا، سمجھا اور لاتعلقی سے بیگ کے ہینڈ سڑیپ کو دبوچنے لگی۔

اتنے میں قیس حقہ اور چلم پخا کر لے آیا اور زمین پر دھڑ سے رکھتے ہوئے بڑی برہمی سے سیکرٹری کو دیکھا جس نے نامناسب لباس زیب تن کر رکھا تھا۔۔۔چلبلا کر رہ گیا۔ 
 ”یہ ہیں آپ کی فارسی کی غزل لیلی “۔۔غالب نے مزہ لیتے ہوئے دریافت کیا ”کیوں بھئی پسند نہیں آئی ہماری اور تمہاری فارسی کی غزل“۔
 مجنوں کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات اور غصے کی تپش نے عجب گل بہار رنگ بکھیر دیے تھے۔

غالب نے کہا، ”واہ!۔۔۔مجنوں (تمہاری ناپسندیدہ یہ ادا بھی خوب رہی) “۔ 
 غصے کی تمتماہٹ سے غالب کو بھی سیک لگا۔ 
 قیس کا پیار سے ہاتھ تھاما تو انگارہ تھا۔ 
 مجنوں کی تپش کو تھپتھپاتے ہوئے سیکرٹری کو کہا کہ گلاسز اور ہیٹ پہن لو کچھ تو ڈھک جاؤ گی۔
 غالب نے حکمیہ انداز سے کہا، ”میتھیو جاؤ اور ہمارے یارو کو بلا لاؤ۔

۔۔ مجنوں کے بارے میں کچھ مت کہنا“۔
 میتھیو نے اپنا بیگ اٹھایا اور داخلی دروازے کی طرف چل دی اور پھر جلد ہی جلوس کی صورت میں لوٹ آئی۔ 
 آتے ہی سب غالب کے گردا گرد بیٹھ گئے، مجنوں کو اچٹتی سی نگاہ سے دیکھا اور سبھی چونک گئے، ”ارے مجنوں تم“، سبھی نے یک زبان ہو کر کہا۔ غالب نے مسرور لہجے میں اپنے دوستوں کو دیکھا پھر ستائشی نگاہ سے مجنوں کو دیکھتے ہوئے گویا ہوئے، آج کی فخریہ پیشکش: 
 مجنوں خالص مجنوں غالب کی چہک دیدنی تھی اور مخمور لہجہ شراب کی سراہی کی طرح محبت سے چھلکا جا رہا تھا۔

 
 سبھی کی نگاہ کی وارفتگی سے مجنوں محجوب سا ہوگیا۔
 عشق پیمانہ مستی کو بھرنے چلا مجنوں 
 پہلے بھگویا حقہ پھر چلم بھرنے چلا مجنوں 
 پہلی پہلی مشقت کی ہے یارو، لوٹا دو جو ہے مجنوں پہ 
 نچھاور کر دو۔۔۔ اور پھر خال خال ویل پڑھنے لگی تو غالب نے غراتی نگاہ کے تیر سے سبھی کو سیدھا کر دیا تو والٹ کھلنے لگے اور بڑے نوٹ نچھاور ہونے لگے۔

واہ واہ کیا کہنے۔۔۔سبھی کی واہ واہ تھمی 
 قیس کو لیلی گم ہوئی نظر آئی 
 غالب میں لیلی ملتی نظر آئی 
 مجنوں غالب کی اتنی عزت افزائی پر دیوانہ ہو گیا۔
 دست پر بوسہ وفا ثبت کیا۔ غالب نے کاندھے پر پیار بھری تھپکی دی۔ ادھر حاضرہن اس شعر پر بھی واہ واہ کے تیر و برمے چلانے لگے۔
 محفل میں رنگ و بو رونق کی طرف گامزن ہوئی اک حل چل سب نے محسوس کی۔

دلچسپ محول کی رنگینی میں سیکرٹری بمہ گلاسز اور ہیٹ کے ڈھکی چھپی سی سیلقے سے چائے، ابلے انڈے، بسکٹ اور کیک رس تواضع کے لیئے لے آئی اور سبھی کو سرو serve کر کے اندر جانے لگی۔۔۔
 تو آواز لگائی ”لیلی“
 میتھیو نے رک کر جی کہا 
 لہجہ شرمیلا تھا 
 جوبن گہن زدہ 
 غالب نے اسے غور سے دیکھا اور پھر کہا کچھ نہیں تم جاؤ۔

جب بلاؤں تو آجانا۔ 
 غالب نے شریر لہجے۔۔۔مسکراتی آنکھوں سے کہا وہ فوراً چلی گئی۔ 
 سن مجنون! یوں اس سن میں سب کی لیلی ایسی ہی ہو جاتی ہیں پلپلی سی۔۔۔
 کتنے ہی غازے لگا لیں وہ عشوہ و نخرہ کہاں باقی رہتا ہے۔ تم ہمارے مجنوں قیس ہو۔۔۔ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے، تمہاری خاطر ہم اپنی لیلی کو چھوڑ دیں گے۔ 
 نہیں نہیں یہ ظلم ہوگا۔

۔۔مجنوں کے علاوہ حاضرین محفل نے بھی یک دم کہا۔ وہ غالب کے ہم نوا ہوگئے تھے اور وہ غالب کے بھلے مقصد کو سمجھ گئے تھے (کہ وہ مجنوں کو راہ راست پر لا رہے تھے)۔ 
 لیلی اب تم جاؤ
 بخدا جاؤ
 غالب نے ضبط دہن (مسکراہٹ) کی انتہا کردی اور ایسا زبردست ایکشن مارا کہ لیلی کچھ بھی نہ سمجھی اور تمام برتن اٹھا کر لے گئی پھر تھوڑی ہی دیر میں واپس آئی اب رخصت چاہتی ہوں حضور والا۔ 
 لیلی نے با آواز بلند سبھی کو آداب کہا اور چلی گئی۔ 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔( جاری ہے)۔۔۔۔

Your Thoughts and Comments