Juz Qais Baqi Ghalib (pehle Qist)

جز قیس باقی غالب (پہلی قسط)

عابدہ ظہیر عابی جمعرات اپریل

Juz Qais Baqi Ghalib (pehle Qist)
قیس المشہور مجنوں، عشق و محبت کی بلندی کا وہ حسین استعارہ کہ لیلی جو اس کے عدسہ آئین میں وار، دم میں سانس، تو تن پہ نقش جنونی بن کر ہویدہ تھا کہ اس کا پیرہن ڈنکا جنوں خیزی پہنے بابانگ بلند اقرار عہد وفا بنا۔ 
جذبہ بے اختیار وجود چاٹنے لگا۔ شب و روز کے ملنے کی آس لگن۔۔۔آتش کباب کیے دیتی۔۔۔ اپنے ہی وجود میں پابہ زنجیر ہوا۔عالم تقدیر سے رجوع کرتا رہا۔

۔۔ دنیا سنگ سنگدل ہوتی گئی۔آزمائشیں بڑھتی رہیں۔ شوق دم، دم شمشیر ہوا۔۔۔ آشفتگی کا سوز سوز جاں ہوا۔ دل و دماغ کا روشن سا قیس سانولی سی لیلہ کے حسن روپ پر ایسا فدا ہوا کہ اپنی مت بھول گیا۔
جب حاصل کی راہ دشواریوں، آزاریوں اور کلفتوں سے اٹی تو تن من بس شوق دید اور پانے کی لگن کے مقصد کے گرد گرداب بن کر چکرانے لگا۔

(جاری ہے)

 

جب غالب قیس سے ملے، اس کے حال حالات کو جانا۔

۔۔ اسے بہت سمجھایا۔۔۔ قیس نے برملا ببانگ دبنگ غالب کو للکارا کہ۔۔۔اے غالب میرے راستے میں رقیب بن کر مت آ اور مجھے نہ زیادہ سمجھا۔
غالب کو پتنگے لگے۔۔۔ارے بھئی! تم مجھے اپنے معاملے سے مجھے الگ ہی سمجھو ___ارے جاؤ۔۔۔جا کر خاک چھانو۔
خاک چھانو۔۔۔کہاں کی؟ قیس نے حیرانگی سے پوچھا۔ کو بھلا بتاؤ۔۔۔ عشق کا پیچا تجھے صحرا میں لے گیا ۔

اب مجنوں کہاں کی خاک چھانے گا۔۔۔صحرا کی چھانے گا ناں۔۔۔
ہاں جانتا ہوں۔۔۔شاعر ہو۔۔۔
صرف شاعر نہیں ہوں۔۔۔اقبال اور میں آم کھانے اور کھلانے کے شوقین بھی ہیں۔ مہمان نوازی ہمارا طرہ امتیاز ہے۔
مجنوں نے حیران آنکھوں سے غالب کی دیوانگی کو دیکھا۔۔۔اسے کوئی پریشانی نہیں ___اسے کسی سے محبت پیار نہیں ہے۔ مجنوں کی سوچ پر غالب پرملال ہوئے 
 صحرا، مگر تنگی _ چشم حسود تھا
مجنوں پیارکے لبالب پیمانے سے بھرا تھا مگر وہ سیراب نہیں، سراب تھا۔

یہ غالب کا نظریہ ہے۔۔۔غالب تو عام کھلانے کی سوچ رہے تھے اور قیس کو یہ صدمہ لاحق ہوا کہ غالب ان کا درد سمجھتے ہوئے بھی کوئی دوا، کوئی علاج، کوئی راہ نہیں سوجھا رہے۔ عشق کی پریشانی کے باعث دل سے دھواں رقت آہ و فغاں کی صورت اٹھا تو رونق دل معدوم ہوئی۔۔۔بزم میں تنہائی مزید در آئی___
 غالب نے مزہ لیتے ہوئے کہا، ”بھئی ہم تو چونچالی ہیں بیٹھنا ہے تو رنگ و بو۔

۔۔گفت و شنید کرنا ہوگی۔“
قیس نے مجنونانہ قہقہہ لگایا 
 مجھے آگ نے چھو لیا میرے تن بدن میں رچ گئی۔ یہ ہجر میری بے قراری ہوا۔۔۔اچھا۔۔۔۔ غالب نے پہلی بار سنجیدہ ہو کر مجنوں کے موجودہ حالات کو دیکھا یار مجنوں تو مجھے بڑا جی دیدار لگ رہا ہے۔ ذرا دوڑ کر جا میرا حقہ کا ٹھنڈا اور چلم پخا کے لا۔۔۔ وہ کیا ہوتا ہے؟ قیس نے حونق میں رونق ہو کر پوچھا یہ تجھے صحرا میں دوڑکی لگوانے کی پہلی پہلی تیاری ہے۔

جا یار اب تو انکار نہ کر۔۔۔ میری فارسی کی غزل منمنا رہی ہے۔کہہ رہی ہے مجنوں حقہ بھر کے لائے گا تبھی اپنی ادائیں لکھواؤں گی۔ضد کر رہی ہے۔ مجنوں نے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔اور اور پھر خالی خالی نظروں سے غالب کو تکنے گا۔۔۔اچھا تو آپ کی ”ان“ کو میری پخائی گئی چلم نڑی ملے گی تو وہ یہاں بیٹھ کر لکھوائیں گی۔۔۔مجنوں سمجھ گیا۔۔۔غالب اپنا نام بنا رہا ہے اصل میں ان کی ان کو یہ فن آتا ہے۔

 میں برملا لیلیٰ لیلیٰ کہتا ہوں۔۔۔
 آپ بھی اپنی لیلیٰ کا نام بتایئے 
 بات غالب کو سمجھ میں آگئی مگر وہ غالب ہی کیا جو غلبہ نہ پائے۔۔
 ” تم نے نام لے تو دیا“، غالب نے بیخودی سے کہا۔
 کیا لیلیٰ ____؟(مجنوں) قیس نے حیرانگی سے پوچھا۔
 ہاں بھئی۔۔۔غالب نے اثبات میں گردن ہلائی۔
 پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔قیس نے نروٹھے پن سے کہا۔

Your Thoughts and Comments