Kiss Mitti K Bane Ho?

کس مٹی کے بنے ہو؟

حافظ مظفر محسن بدھ دسمبر

Kiss Mitti K Bane Ho?
”السلام علیکم !․․․․․․“ ہم نے بڑے افسر کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے ادب سے کہا اور محترم نے حسب عادت اور شاید حسب دستور سلام کا جواب دئیے بغیر فون پکڑا اور کئی نمبر گھمانے شروع کردئیے ۔ سخت گرمی سے ایک دم بڑے افسر کے ایئرکنڈیشنر والے کمرے میں آنے سے میرا سر بھی گھومنے لگا۔
لوگوں کا سرگرمی سے ٹھنڈی جگہ پر آجانے سے گھومنا بند ہوجاتا ہے جب کہ ہمارا معاملہ بالکل الٹ ہے اصل میں اس سارے الٹ پھیر کے ہم ذمہ دار نہیں بلکہ یہ سارا کیا دھرا لوڈشیڈنگ کا ہے جس نے ہماری عادتیں بگاڑ ڈالی ہیں اب ہم یعنی پوری قوم ہروقت پسینے میں شرابورہونے کو تیار رہتی ہے قوم کو الرٹ رکھنے کا یہ اچھا طریقہ ہے ۔


” جی فرمائیے ․․․․․․؟“ بڑے افسرنے رسیورکودائیں ہاتھ سے بائیں ․․․․․․پھر بائیں سے دائیں اور․․․․․ دائیں سے پھر بائیں پکڑتے ہوئے سخت غصے سے جابرانہ انداز میں پوچھا۔

(جاری ہے)


جی ․․․․․ جی میں نے فون کی منتقلی کی دو ماہ پہلے درخواست دی تھی ․․․․․ وہ․․․․وہ !“
”آپ خالد سے مل لیں “ ۔ بڑے آفیسر نے ہماری نامکمل سی فریاد پر بغیر غور کئے حکم صادر کیا اس دوران فون سے کھیلنے کا عمل جاری رہا۔


” جی میں ․․․․ خالد سے ہی مل کر آرہا ہوں ۔ ہم نے عاجزی سے وضاحت کی ․․․․․!“
” کیا کہا․․․․․ ؟ افسر زور سے گرجا۔ “
” جی میں ابھی خالد ہی سے مل کر آرہاہوں ۔ “
ہم نے اپنی بات دہرائی بلکہ چوہزائی۔
” اچھا ․․․․․ “ آپ خالد سے مل کر آرہے ہیں تو ٹھیک ہے ․․․․․ آپ پھر خالد سے مل لیں ․․․․․ “بڑے افسر نے مجھ سے بھی پہلے اپنے دفتر سے تیز قدموں کے ساتھ باہر جاتے ہوئے مزید غصے سے کہا ۔


میں بھی تیزی سے باہر نکلا۔ دو خواتین جو پہلے ہی باہر کھڑی کسی سے بحث وتکرار میں مصروف تھیں بڑے افسر کودیکھتے ہی مزید آپے سے باہر ہوگئیں وہ ” ہمارا فون ․․․․ ہمارا فون ․․․․․“ کی رٹ لگائے جارہی تھیں مگر بے سود، شاید بڑے افسروں کو ٹریننگ کے دوران تیز سے تیز بھاگنا بھی سکھایا جاتا ہے ؟ اسی لئے بڑے افسران خواتین کے ” شر“ سے بال بال بچ گئے اور وہ خواتین کچھ نہ بیان کرنے والی باتیں کرتے ہوئے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگئیں ۔


ہم نے ڈرتے ڈرتے پھر پی اے سے رابطہ کیا ڈرم اسٹک ․․․․( چائینز پکوڑے) کے ساتھ نان کھا رہے تھے شاید جلدی جلدی کھانے کی پڑی تھی یا کوئی فوری لالچ درپیش تھا، لقمہ ان کے حلق میں اٹک گیا اسی دوران فون کی گھنٹی بجنے لگی․․․․․ اس سے پہلے کہ وہ لقمہ نگلنے کے لئے پانی کا خالی گلاس کولر سے بھرنے کے لئے اٹھتے دوسرے ٹیلی فون نے بھی چیخنا شروع کردیا۔

عجیب اذیت ناک منظر تھا․․․․․ گلے میں بڑا سا لقمہ اٹک جانے سے پی اے کی ( سرخ سرخ) آنکھیں باہر کو آرہی تھیں جب کہ اتفاق سے دونوں ٹیلی فون کا لیں بھی اعلیٰ افسران کی معلوم ہوتی تھیں۔ پی اے صاحب ”ہیلو ․․․․․ ہیلو“ کی بجائے ” غاؤں ․․․․․․ غاؤں“ کررہے تھے اور دوسری طرف سے لگتا تھا کہ انہیں معطلی کے احکامات جاری ہورہے تھے ۔
سرخ چہرے اور اذیت سے باہر کو نکلتی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی ۔

اس سے پہلے” غاؤں غاؤں“ کی دردناک آواز ” ہائے ․․․․ ہائے “ کے راگ میں بدلتی ،ہم نے پانی کا گلاس جلدی بھر کے خود ہی پی اے کے منہ سے لگادیا۔پانی کے دو گھونٹ اندر گئے تو ان کی جان میں جان آئی ․․․․․ ہم اپنا غم ( یعنی فائل ) ہاتھ میں لئے باہر نکلنے لگے تو انہوں نے ” درد کے مارے ہنستے ہوئے “ ہمیں بازو سے پکڑ لیا ․․․․․” آپ نہیں جاسکتے ․․․․․؟ “
” یااللہ ․․․․․خیر․․․․․․ ہم ڈرگئے کہ نہ جانے کیا گستاخی ہوگئی جو ہمیں بازو سے پکڑ کر بیٹھنے کو کہا جارہا ہے؟“
آئیں ․․․․ پہلے آپ کو کھانا کھلائیں ․․․․․؟“ ( ہائے یہ مہربانیاں ) پی اے نے آنکھوں میں آنسو لئے مسکراتے ہوئے کہا ․․․․․․ میں سمجھ گیا کہ پی اے صاحب ہمیں اپنی جان بچانے کے عوض کچھ انعام واکرام سے نوازناچاہتے ہیں ۔


” میں تو جی ․․․․․ نان کے ساتھ ” ڈرم اسٹک “ ( چائینز پکوڑے ) نہیں کھا سکتا ․․․․․سوری ․․․․․“
” اصل میں غریب آدمی نان کے ساتھ پکوڑے کھانے کا عادی ہوتا ہے اسی لئے نان کے ساتھ ڈرم اسٹک کھانے سے ڈرتا ہے․․․․․! “
میری معذرت پر پی اے نے وضاحت کی۔
نہیں جناب یہ بات نہیں ․․․․․ اصل میں آپ کے ساتھ نان اور ڈرم اسٹک نے جوحال کیا ہے اس سے ڈر لگتا ہے ․․․․“ ہم نے دل کی بات کہہ دی۔


چلیں پھر کوئی اور کام بتائیں ․․․․․ پی اے نے کمال شفقت سے پوچھا ہم اس حیرت انگیز تبدیلی پر پریشان تھے کہ اچانک دور سے بڑے افسر آتے دکھائی دئیے ․․․․ انہیں دیکھتے ہی معاملہ پھر الٹ گیا۔
” آپ بس خالد سے مل لیں ․․․․․․“ پی اے نے پھر ہمیں غصے سے کہا اور اپنے کام میں مگن ہوگئے ‘ اب تک یہ اتارچڑھاؤ خاصی حدتک ہماری سمجھ میں آچکا تھا۔


خیرجب بڑے افسر اپنے کمرے میں داخل ہوگئے تو پی اے کے کرخت چہرے پر پھر سے نرمی آگئی ۔ ہم نے عرض کی جناب آپ ہمارا کام وام نہ کریں صرف اور صرف یہ بتادیں کہ یہ خالد سے مل لیں “ والی بات کی اصلیت کیا ہے ؟
آپ نے چونکہ ہماری جان بچائی ( توبہ توبہ ) اس لئے ہم آپ کو صاف صاف بتادیتے ہیں کہ یہ خالد بڑے صاحب کا ایک چہیتا ہے اور بالا بالا ہونے والے سبھی ” اصلی نقلی “ کام وہی ڈیل کرتا ہے ۔

دفتر میں کسی اور کو اس طرح کی ” ڈیلنگ“ کی اجازت نہیں ۔ “
اب بات پوری طرح ہماری سمجھ میں آچکی تھی اس لئے ہم جلدی جلدی ” خالد“ تک پہنچے جو “ ڈبل پان “ منہ میں ڈالے، سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے ” سرعام“ بہت سے گاہکوں کو ڈیل کررہا تھا ․․․․․!
ہم نے بھی مدعابیان کیا‘ جو حکم ملااس پر فوراً عمل کیا۔ پھر ایک چٹ پر ہمیں کچھ ” عبرانی “ زبان میں لکھ کر دیا گیا۔

ڈاکٹر کا نسخہ ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جسے بڑے سے بڑا پڑھا لکھا سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے جب کہ یہ دوسری تحریر تھی۔ جو لاکھ کوشش کے باوجود ہمیں سمجھ نہ آسکی۔ چٹ ہمیں تھمادی گئی اور بڑے افسر سے ملنے کا حکم جاری ہو گیا۔
ہم نے چٹ پکڑی اور فائل بغل میں دبائے پورے اعتماد کے ساتھ (جو چٹ ملنے سے پہلے ہم میں نہ تھا) سینہ تانے ” بڑے افسر “ کے کمرے میں داخل ہوگئے جو اب بھی فون کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے ۔


” ہاں بھئی اب بولو“ ہم سامنے آئے تو جھٹ سے غرائے۔
” تم کس مٹی کے بنے ہوئے ہو! آپ خالد سے مل لیں اور بس جائیں۔ دماغ کھانے باربار آجاتے ہیں فضول ․․․․․“
اس سے پہلے کہ ہمیں کمرے سے دھکے دے کر نکالا جاتا ہم نے جلدی سے ” خالد “ کی طرف سے جاری کردہ ” عبرانی “ زبان والی چٹ پیش کردی۔ ” اوہو․․․․․ سوری ․․․․․ بھئی سوری، ہاں ․․․․․ ہاں بیٹھو ․․․․․“ اور ” عبرانی “ زبان میں فائل پرسبز رنگ کی روشنائی سے پھر کچھ لکھ دیا گیا ۔


” جی ․․․․․السلام علیکم “ ہم اٹھنے ہی والے تھے کہ ایک نوجوان کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پیار سے بولا ․․․․․
” ہاں ہاں ․․․․․ میاں تم بولو․․․․․ “ افسر نے ناگواری سے سلام کرنے والے نوجوان سے پوچھا
” جی ․․․․․ جی وہ ہیں ․․․․․؟ “
وہ صاحب کچھ وضاحت کررہے تھے کہ بڑے افسرنے بات مکمل ہونے سے پہلے ہی حسب عادت اور حسب دستور حکم فرمادیا۔ ” میاں ․․․․․ آپ خالد سے مل لیں ․․․․․ مجھے ذرا جلدی ہے ․․․․․ “
” خالد ․․․․․؟ “” ارے ارے ماموں ․․․․․․ یہ میں ہوں ․․․․․․ کاشف ! “
” اوہو ‘ سوری بیٹا ․․․․․․․سوری بھئی ․․․․․․“ بڑے افسرنے بھانجے کو خاصی شرمندگی سے گلے لگالیااور ہم خوشی خوشی کمرے سے باہر آگئے ۔

Your Thoughts and Comments