Kiya Waqt Hua Hai

کیاوقت ہوا ہے!

جمعرات اکتوبر

Kiya Waqt Hua Hai
 اعتبار ساجد
کچھ لوگوں کو بار بار گھڑی دیکھنے کی عادت ہوتی ہے ۔اور کچھ کو بار بار وقت پوچھنے کی ۔ایک طویل ،بیزار کن انگڑائی لیکر پہلے اپنی گھڑی دیکھیں گے پھر آسمان کا جائزہ لیں گے۔پھر آپ سے پوچھیں گے۔کیا وقت ہوا ہے جی․․․․․؟
آپ جان چھڑانے کے لیے خود بھی ایک جمائی لیں گے جلدی سے کہیں گے۔گیارہ بج کر تین منٹ ہوئے ہیں میرا خیال ہے اب اٹھنا چاہیے خاصی رات ہو چکی ہے۔


وہ ایک اور طویل جمائی لیکر حیر ت سے کہیں گے ۔گیارہ بج کر تین منٹ ۔کمال ہے ابھی تو خاصی رات باقی ہے۔بیٹھو تو سہی چلتے ہیں ۔آپ پریشان ہو کر کہیں گے․․․․نہیں ․․․․اب چلنا چاہیے۔مجھے بہت کام کرنا ہے میرا خیال ہے اب چلنا ہی چاہیے۔“وہ آپ کا بازو پکڑ کر بڑی اپنائیت سے پوچھیں گے۔”بھلا کیا کرنا ہے آپ کو ؟“
آپ زچ ہو کر کہیں گے۔

(جاری ہے)

”خاصی لکھت پڑھت ہے مجھے اب اجازت دیں۔


”بھائی میرے ․․․․!وہ آپ کا بازو مروڑ کر ازرہ تلطف آپ کی کمر سے لگاتے ہوئے کہیں گے۔“لکھنے پڑھنے کے لیے اللہ میاں نے دن بنایا ہے رات سونے یا باتیں کرنے کے لیے ہوتی ہے۔بیٹھیں ایک آدھ گھنٹہ پھر چلیں گے انشاء اللہ․․․․․“
جتنی دیر آپ تذبذب کے عالم میں کھڑے رہیں وہ آپ کو بٹھاتے رہیں گے جب آپ بیٹھ جائیں گے تو وہ کھڑے ہو کر ایک تھکی تھکی سی انگڑائی لیں گے۔

بڑی بیزاری سے پوچھیں گے ”کیا وقت ہواہے۔؟“
ایسے لوگ وقت صرف اس لیے پوچھتے ہیں تاکہ دوسروں کو یاد دلاسکیں کہ وقت بھی کوئی چیز ہے۔یہ ساعتیں جوگزررہی ہیں ان کا بھی کوئی پیمانہ ہے۔خود ان کے لیے وقت کی اہمیت صرف یہ ہوتی ہے کہ جب موضوع ختم ہو جائے یا بوریت بڑھ جائے تو بوجھل بوجھل سی فضا میں زندگی اور حرکت پیداکرنے کے لیے ایک فقرہ لڑھکادیں۔

”کیا وقت ہوا ہے جی“سچ تو یہ ہے کہ عشاق ،دفترکے بابوؤں اور طلباء سے زیادہ وقت کے لئے کوئی متردد نہیں ہوتا۔عاشق کو مقررہ وقت پرمحبوب سے ملنا ہوتاہے اسی طے شدہ وقت میں وہ ایک منٹ کی کمی بیشی برداشت نہیں کر سکتا۔راستے میں طوفان حائل ہوں یا ظالم سماج وہ کہیں نہیں رکتا۔کسی کی پرواہ نہیں کرتا بگٹٹ اپنے ہدف کی طرف بھاگتا ہے۔ساتھ ساتھ گھڑی دیکھتا جاتاہے۔

مزید احتیاط کے لیے راہ گیروں اور دکانداروں سے وقت پوچھتا جاتاہے بابوؤں اور طلباء کے نقطہ استفسار میں البتہ فرق ہے با بو اس لیے وقت پوچھتے ہیں کہ بروقت دفتر پہنچ سکیں اور حاضری رجسٹر میں کر اس نہ لگنے پائے ۔طلباء اس لئے وقت پوچھتے ہیں تاکہ اطمینان ہو جائے کہ مزید کتنی دیر بعد انہیں کالج پہنچنا ہے تاکہ ان کا ناپسندیدہ پیریڈگزر جائے۔


دوران سفر وقت پوچھنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے آپ کے پاس اگرکوئی بے گھڑی شخص بیٹھا ہے تو وہ زبان کی بجائے ہاتھ کا استعمال اپنا حق ہمسفری سمجھتا ہے۔بڑی بے تکلفی سے آپ کی کلائی تھام لیتا ہے ہاتھ کو حسب منشاسیدھا الٹا کرتاہے بھوئیں سکیڑتا ہے اف یا افوہ کی تشویشناک آواز نکالتا ہے اور ہونٹ بھینچ لیتاہے۔چند لمحوں تک گزرتی ہوئی گاڑی سے رینگتے ہوئے مناظردیکھتا ہے پھر بڑے اطمینان سے آپ کی کلائی تھام لیتا ہے اور اس مرتبہ نظریں جما کر ڈائل پر حرکت کرنے والی سوئیوں کا معائنہ کرتا ہے ایک سر سری نظر آپ کے چہرے پر ڈالتا ہے پھر اخلاقاً پوچھ لیتاہے۔


”یہ کون سی گھڑی ہے جی !“
سیکو فائیو! آپ ہمسفری کی مزید بے تکلفی سے بچنے کے لیے دوسری طرف دیکھتے ہوئے جواب دیتے ہیں۔
اگلا سوال عموماً غیر متوقع نہیں ہوتا․․․․․آج کل قیمت کیا ہے جی اس کی ؟“
آپ قیمت بتاتے ہیں ہم سفر ہونٹ سکوڑ کر اف کی آواز نکالتا ہے ۔آپ سمجھتے ہیں وہ گھڑی کی قیمت سن کر سراسیمہ ہو گیا ہے مگر وہ آپ کی خوش فہمی اچانک یہ کہہ کر رفع کر دیتا ہے اوف ․․․․اتنی کم قیمت۔


ظاہر ہے گھڑی کی یہ ناقدری آپ کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیتی ہے آپ اپنے دفاع میں کہتے ہیں۔“میں نے آج سے سات سال پہلے کی قیمت بتائی ہے۔“ہمسفر اس وار کو اپنی منطق کی ڈھال پر روک لیتاہے۔جبھی تو میں حیران تھا کہ اس کی اتنی کم قیمت کیوں ہے ۔آج کل تو اس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔اگر آپ سچ پوچھیں تو اس وقت یہ گھڑی۔ “اب وہ بڑی لاپرواہی سے آپ کی کلائی تھام لیتاہے۔

”اس کنڈیشن میں میں حد سے حد ․․․․․میرے خیال میں․․․․․تقریباً․․․․اندازاً․․․․․ آپ جلدی سے اپنی کلائی چھڑا کر دوسرے ہم سفر سے مخاطب ہونے کے لیے بہانہ ڈھونڈتے ہیں․․․․پلیز ․․․․ذرا یہ کھڑکی بند کر دیں۔ادھر ٹھنڈی ہوا براہ راست آرہی ہے۔“
دوسرا ہم سفر آپ کی پریشانی سے قطعاً لاعلم لا تعلق بڑے اطمینان سے کہتاہے۔”کھڑکی میں نے سگریٹ پینے کے لیے کھول رکھی ہے جناب۔

سگریٹ ختم ہو گی تو بند کردوں گا آپ محض پہلے ہمسفر سے مراسم کا آغاز کرتے ہیں۔”کون سی سگریٹ پی رہے ہیں“
”کنگ سائز فلٹر۔“جواب آتاہے۔
آپ پہلے ہم سفر کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے لیے کہتے ہیں۔”جبھی میں کہوں یہ اتنی بہترین خوشبو کہاں سے آرہی ہے۔کیا بات اس کنگ سائز فلٹر کی”نتیجہ“حسب توقع برآمد ہوتاہے۔پہلا ہم سفر آپ سے مایوس ہو کر کسی اور کی کلائی ڈھونڈتا ہے اور دوسرا ہم سفر آپ کو بڑے احترام سے سگریٹ پیش کرتا ہے اور آپ کی خواہش کے موجب کھڑکی بند کر دیتا ہے حالانکہ اب کھڑکی کھلی رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

بعض لوگوں کو صرف وقت پوچھنے سے غرض ہوتی ہے۔اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ وقت
 پوچھنے کایہ کون سا موقع اور کون سے مقام ہے آپ بڑی عجلت میں ہیں انتہائی مصروف ،شاہراہ کاٹریفک سگنل چند لمحوں کے لیے سرخ ہوتاہے آپ لپک جھپک کر سڑک پار کرنا چاہتے ہیں سڑک کے بیچ میں پہنچتے ہیں کہ سامنے سے آنے والا ایک شخص گزرتے گزرتے وقت پوچھتا ہے آپ آستین اونچی کرتے ہیں کلائی سے قمیض کا کف اوپر اٹھاتے ہیں ایک نظر گھڑی پر ڈالتے ہیں اور جواباً کہتے ہیں․․․․“بارہ پینتیس !مگر مخاطب آپ کا جواب سننے سے پہلے سڑک پار کرکے دوسری طرف جا چکا ہے۔

کسی کو آپ کے بتائے ہوئے وقت سے ہمدردی ہوتو آپ کی اشک شوئی کے لیے کہہ دیتا ہے․․․․بارہ پینتیس!․․․․بلے بلے․․․․دیکھتے ہی دیکھتے دن گزر گیا․․․․!
ہمارے ایک دوست کے ساتھ عجب اتفاق ہوا۔ایک روز وہ بس سٹاپ پر کھڑے بڑی دیر سے اپنے روٹ کی بس کا انتظار کررہے تھے کہ میک اپ میں ملفوف ایک خاتون نے آہستہ سے پوچھا۔”کیا وقت ہواہے؟“
انہوں نے جلدی سے کلائی اونچی کی پھر بوکھلا کر بولے۔

”سوری میرے پاس گھڑی نہیں ہے وہ سرگوشی میں بولی۔“سوروپے کی گھڑی نہیں خرید سکتے۔ہزار ڈیڑھ ہزار روپے کا سوٹ پہنے کھڑے ہیں۔ہونہہ،کنجوس․․․بعد میں وہ اہم سے شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگے دوباتوں کا گہرا قلق ہوا․․․․“
”پوچھا․․․․پہلی بات کون سی۔ْ“
کہنے لگے۔افسوس یہ کہ اس نے سوٹ کی قیمت غلط لگائی۔
اور دوسری بات؟
وہ ایک سرد آہ بھر کر بولے․․․․”اب میں اسے کیسے بتاتا کہ نیک بخت سوٹ کی طرح گھڑی لنڈے سے نہیں ملتی۔


بعض لوگ وقت بتانے میں بڑی دریا دلی سے کام لیتے ہیں ۔آپ پوچھیں نہ پوچھیں وہ آپ کو بتاکے
 رہیں گے عموماً ان کا طریقہ وار دات یہ ہوتا ہے کہ پہلے تو زمانے کی ناقدری کا گلہ لے بیٹھتے ہیں پھر ساتھ ہی ساتھ رواں ہوتے جاتے ہیں۔ اب دیکھئے نا کیا زمانہ آگیا ہے اس وقت دن کے گیارہ بج کر چھپن منٹ ہوئے ہیں مگر صاحب دیکھ رہے ہیں آپ ہر طرف دھند پھیلی ہوئی ہے لگتا ہے صبح کے چھ بجے ہیں حالانکہ ہمارے زمانے میں صبح کے چھ رات کو دو بجے بج جاتے تھے۔

وقت وقت کی بات ہے کسی چیز میں برکت نہیں رہی۔“یہ کہہ کر وہ باقاعدہ ایک خاص اہتمام سے گھڑی دیکھیں گے اور با آواز بلند اعلان کریں گے۔
”یا اللہ خیر․․․․بارہ تو یہیں بج گئے۔“جتنی دیروہ آپ کے پاس موجود رہیں گے یا آپ ان کے پاس موجودرہیں گے وہ وقفے وقفے سے اعلان کرتے رہیں گے۔
”لوجی․․․․بارہ دس ہوگئے․․․․“
”بج گئے جناب سوابارہ․․․․“
”بارہ بیس پر سوئی جارہی ہے جی․․․․“
اچھارب راکھا ․․․․ہم چلتے ہیں․․․․بارہ بج کر اکتیس منٹ ہوئے ہیں۔


کہتے ہیں ہجر کے مارے عاشق کے لئے وقت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی پھر بھی وہ رات کو بار بار بستر سے اٹھ کر پانی پیتا ہے گھڑی دیکھتا ہے ستارے گنتا ہے شاعر ہے تو خود غزل کہتا ہے ورنہ گلوکاروں کی گائی ہوئی غزلوں سے کام چلاتا ہے اسے اگر وقت بتایا بھی جائے تو پرواہ نہیں کرتا۔ناک بھوں چڑھا کر صرف اتنا کہتا ہے اچھا․․․․․اس اچھا کو کبھی کبھی سوالیہ بنادیتاہے۔


”اچھ․․․․․چھا!“
اس سوالیہ انداز کا مطلب مخاطب کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ اس کا بتایا ہوا وقت اس تک پہنچ گیا ہے۔جب عاشق کی بیزاری انتہاؤں کو چھور ہی ہوتو اسے وقت بتانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیوں کہ وہ
 جواباً ایک کمزورسی آواز میں ٹالنے کے لیے کہتا ہے اچھ․․․․چھا اگر وہ”چھا “پر زدردے رہا ہوتو اسے”جا“سمجھنا چاہیے اور ٹل جانا چاہیے ورنہ وہ جھنجھلاکر کہہ دے گا۔
”بج گئے ہوں گے بارہ․․․․․میں کیا کروں یارا“

Your Thoughts and Comments