Kunwara Gardi

کنوارہ گردی

منگل 17 جنوری 2023

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
لاہور میں دہشت گردی اور آوارہ گردی کے بعد کنوارہ گردی کا ارتکاف کرنے والوں کے مکمل کوائف بھی تھانوں میں طلب کر لئے گئے ہیں۔اس سے پہلے ان ”چھڑوں“ کے یہ کوائف میرج سنٹرز والوں کے پاس ہی جمع کرائے جاتے تھے۔لیکن خوشی ہوئی کہ اس کار خیر کے لئے پولیس بھی میدان میں کود پڑی ہے۔

یوں اب لوگوں کو رشتوں کی تلاش میں میرج سنٹروں پر مارا مارا نہیں پھرنا پڑے گا۔تھانے گئے‘سب کنواروں کی لسٹیں دیکھیں جو رشتہ پسند آیا‘تھانے دار کو کہہ کر طلب کروا لیا۔یہی نہیں ”چھڑے“ بھی ہر ہفتے تھانے حاضر ہو کر پوچھا کریں گے کہ سر بڑی دیر ہو گئی‘میرا بھی کچھ کر لیں‘کب تک چھڑوں کی لسٹ میں رہوں گا۔

(جاری ہے)

کوئی شریف فیملی دیکھ کر میرا بھی ”مک مکاؤ“ کروا دیں۔

یوں پہلے جن کو تھانے جاتے ہوئے شرم آتی تھی‘اب شرماتے ہوئے تھانے جایا کریں گے۔صرف جایا کریں گے اس لئے لکھا ہے کہ پکا پتہ نہیں کہ وہ واپس بھی آیا کریں گے۔ویسے جو رشتے قانون بنوائے گا وہ سب قانونی ہوں گے۔یوں بھی شادی کے بعد سارے رشتے قانونی ہوتے ہیں۔ساس قانونی ماں‘سالی قانونی بہن‘سسر قانونی باپ‘اور سالے قانونی بھائی اور تھانے تو ہیں ہی قانونی گھر۔

پہلے خواتین کسی کو کچھ بتا نہیں سکتی تھیں۔میری ایک جاننے والی کو اس کے خاوند نے برا بھلا کہا۔میں نے پوچھا ”کیا کہا“؟تو بولی”اس نے وہ کچھ کہا جو میں کسی شریف آدھی کو نہیں بتا سکتی۔“لیکن اب وہ یہ بات تھانیدار کے کان میں کہہ سکے گی۔بلکہ سبزی لینے جاتے وقت گھر کی چابیاں تھانے میں دے جایا کرے گی کہ منے کے ابا آئیں تو انھیں دے دینا۔

ایسی ہی ایک عورت اپنی مرغیاں تھانے میں چھوڑ گئی جس میں آدھی تو پولیس مقابلے میں جان سے گئیں۔باقی آدھی بھاگ نکلیں۔بڑی مشکل سے سپاہیوں نے اکٹھی کیں۔جب وہ خاتون لوٹی تو تھانیدار نے اسے کہا ”بی بی مرغیاں فرار ہو گئیں تھیں‘مشکل سے گیارہ کو پکڑا جا سکا“۔تو اس نے کہا“بڑی خوشی کی بات ہے کیونکہ میں تو چھ مرغیاں چھوڑ کر گئی تھی“۔
پہلے جس کا اندراج تھانے میں ہوتا تھا‘اسے لوگ اپنی بیٹی نہ دیتے۔

اب اسے نہ دیں گے جس کے کوائف تھانے میں نہ ہوں گے کہ یہ خالص کنوارہ نہیں‘اس نے ضرور کہیں فیملی رکھی ہے۔پھر خاوند بیویوں کو چھوڑ کر نہ جا سکیں گے کہ فوراً پکڑے جائیں گے۔ایک ایسے تھانے کو ملزم کے چھ مختلف پوزوں کی تصویریں بجھوائی گئیں تاکہ ملزم گرفتار کئے جا سکیں۔اگلے دن تھانے دار نے رپورٹ دی پانچ ملزم گرفتار کر لئے گئے ہیں‘ایک کی تلاش ہنوز جاری ہے!
پولیس سے میل ملاپ کی وجہ سے ان کنواروں کو وقت کی قدر بھی ہو گی کیونکہ پولیس والے تو وقت کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ جہاں 12 بجے واردات ہو۔

وہاں اتنی جلدی پہنچ جاتے ہیں کہ ابھی بارہ بجنے میں گیارہ گھنٹے ہوتے ہیں۔
ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔یہ گیارہ سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں بشرطیکہ محکمہ منصوبہ بندی مداخلت نہ کرے۔اگرچہ پولیس کی‘فیملی کے بغیر رہنے والوں سے یوں پوچھ گچھ محکمہ منصوبہ بندی کے خلاف سازش ہے تاہم اس سے پاکستان کی آدھی آبادی بہت خوش ہے‘آدھی اس لئے کہ اتنی ہی عورتیں ہیں۔


اگر پولیس یہ بھی کر دے کہ جو فیملی کے بغیر باہر پھرتا نظر آئے اس کی بھی قریبی تھانے میں رپورٹ کی جائے تو کئی گھروں کے ازدواجی حالات سدھر جائیں۔لوگ ذاتی بیویوں کے ساتھ پھرتے نظر آئیں گے۔یوں پہلے جو دوست آ کر کہتے ہیں کہ یار موٹر سائیکل تو دینا لکشمی چوک تک جانا ہے اب آ کر کہیں گے ”یار ذرا فیملی تو دینا“۔بندہ اپنی بیوی کو ہر ممکن خوش رکھنے کی کوشش کرے گا کہ کہیں یہ نہ ہو بیوی لڑ کے میکے چلی جائے اور اسے بغیر فیملی کے رہتے ہوئے دھر لیا جائے۔


”چھڑوں“ کو مکان کرائے پر نہ دینے کی وجہ سے اب ہر پراپرٹی ڈیلر کے کمرے میں ایک مولوی نکاح کا رجسٹر لئے بیٹھا ہو گا۔یوں جو شخص کرائے پر مکان نہ لے سکے گا لوگ اس سے پوچھیں گے کیوں بھئی مکان کا کرایہ طے نہ ہو سکا؟تو وہ کہے گا کہ کرایہ تو مناسب تھا بس حق مہر سے بات رہ گئی۔
رچرڈ کراشا نے کہا ہے کہ میں شادی کروں گا‘مگر میری کوئی بیوی نہیں ہو گی کیونکہ میں اپنے ساتھ شادی کروں گا۔شکر ہے کہ وہ لاہور میں نہیں رہتا ورنہ اسے فیملی کے بغیر پا کر ایس پی سٹی اسے رچرڈ کراشا کی بجائے رچرڈ کرا شادی کہتا۔اگرچہ پولیس نے یہ بڑا سگھڑ قدم اُٹھایا ہے لیکن میں اس سے متفق نہیں کیونکہ جس بات سے میں متفق ہو جاتا ہوں لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بات یقینا غلط ہی ہو گی۔

Your Thoughts and Comments