Langar Gup

لنگر گپ

بدھ فروری

Langar Gup
 کرنل ضیاء شہزاد
 صاحبو، ہم تو لگی لپٹی رکھے بنا کہے دیتے ہیں کہ دنیا کا لذیذ ترین کھانا بھی لنگر کے پکوان کے سامنے پانی بھرتا ہے ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں کسی مرغ ومسلم سے بھرپور کھانے کا ذکر ہورہا ہے۔ نہیں حضور ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ یہ تو اکثر اوقات تندوری روٹی کے ہمراہ تڑکے والی دال پر ہی مشتمل ہوتا ہے۔ لنگر کی اس دال کامزہ فوجی کو ایسااسیر کر لیتا ہے کہ اسے عمر بھر رہائی کی طلب نہیں ہوتی ۔

لنگر کا یہ سادہ سا کھانا فوجی جو ان کے لئے من وسلویٰ سے کم نہیں جس کا ذائقہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نہیں بھول پاتا۔ لیکن لنگر کے کھانے کا مزہ جس چیز سے دوبالا ہوتا ہے وہ ہے لنگر گپ، جس کا منبع عموماً کلرک، ڈرائیور، آپریٹر، اردلی اور بیٹ مین حضرات ہواکرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذوقِ خدائی کے حامل یہ ”پراسرار بندے“ جب غازی بن کر لنگر کا رخ کرتے ہیں تو ایک کی چار بنا کر اڑاتے ہیں جو بے پرکی ہوتے ہوئے بھی چشم زدن میں پوری چھاؤنی میں گھوم جاتی ہے۔

اس لنگر گپ میں دیگر افراد بھی اپنی اپنی خواہشوں ، اندازوں اور پیشگوئیوں کا تڑکا لگا کر اسے مزید مصالحے دار بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔
کہنے کو توان خبروں میں حقیقت برائے نام ہی ہوتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ ان میں سے اکثر سچ بھی نکل آتی ہیں۔ لنگر گپ زیادہ تر تنخواہوں میں اضافے ، افسروں کی تبدیلی ، یونٹ کی جنگی مشقوں پر روانگی اور اسی طرز کے دیگر معاملات سے متعلق ہوتی ہے۔

ابتداء میں تو ہم جب بھی کوئی ایسی لنگر گپ سنتے، تو اس پر یقین کرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے لیکن جب ایک دو مرتبہ ہمیں اپنی تبدیلی کی خبربھی لنگر گپ کے ذریعے ملی تو ہم بھی دل وجان سے اس کی افادیت کے قائل ہوگئے۔
ایک مرتبہ ہماری یونٹ کو پنوں عاقل چھاؤنی میں پانچ سال گزر گئے تو نئی چھاؤنی کے بارے میں لنگر گپ پھیلنا شروع ہوگئی۔ اردلی بوٹا خبر لایا: سر ، سنا ہے یونٹ لاہور جارہی ہے۔

“ یہ سن کر چشم تصور لاہور کی رنگینیوں سے جگمگانے ہی لگی تھی کہ اچانک ویٹرنذیر نے کان میں سرگوشی کی : ” سر، پکی بات ہے، یونٹ کا اگلا اسٹیشن سیالکوٹ ہوگا۔ “ ابھی سیالکوٹ کی دلچسپیوں کے بارے میں خواب باندھے شروع ہی کیے تھے کہ ڈرائیور بشیر رازداری سے کہنے لگا: سر، ابھی ابھی معلوم ہوا ہے کہ یونٹ اوکاڑہ چھاؤنی کے لئے منتخب ہوگئی ہے۔ ” سوچا ،چلو اچھا ہے اوکاڑہ چھاؤنی ہمارے آبائی شہر ساہیوال سے زیادہ دور نہیں، خوب آنا جانا رہے گا۔

گھر پہنچے تو بیگم صاحبہ نے ہماری خوب خبرلی: آپ کو تو کسی بات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ مجھے پکی اطلاع ملی ہے کہ یونٹ بہاولپور جارہی ہے۔ “
”ٹھیک ہے بھئی سسرال کے اور قریب ہوجائیں گے۔ ہم نے ہنستے ہوئے بات ٹال دی۔
دن یونہی گزرتے رہے اور آخر کار جب جی ایچ کیو کی جانب سے سرکاری چٹھی موصول ہوئی تو یہ جان کر ہاتھوں کے طوطے اڑگئے کہ اگلے دو سال کے لئے یونٹ کا پڑاؤ سیاچن میں ہوگا۔
فتح بھی اک شکست ہی ہوگی
آرزوؤں سے محو جنگ ہوں میں

Your Thoughts and Comments