Loadshedding K Masbat Pehlu

لوڈ شیڈنگ کے مثبت پہلو

حافظ مظفر محسن جمعہ دسمبر

Loadshedding K Masbat Pehlu
”کتب کریم“سے ہمیں ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ہر بات عجیب اور ہر کام انوکھا ان کی عادت ہے۔سیاست میں لوگ بھٹو صاحب یا مولانا مودودی کولیڈر مانتے ہوں تو کتب کریم کی کوشش ہو گی کہ وہ ولی خان کو لیڈر ثابت کریں۔ملازمت سے انہیں ریٹائرڈ ہوئے عرصہ ہو گیا مگر ابھی پر امید ہیں کہ حکومت ان کی”ذہانت“کو مد نظر رکھتے ہوئے دوبارہ بلالے گی(شاید ان کا خیال ہو کہ اب ذہین پیداہونے بند ہو چکے ہیں)۔

ریٹائرمنٹ سے دو سال پہلے انہوں نے ایک تحریک چلائی اور پورے ملک کے طوفانی بلکہ”شیطانی“دورے کئے اور بڑے پیمانے پر اپنے حامی بھی پیدا کر لئے(جن میں اکثر وہ سیاستدان تھے کہ جن کی بڑھاپے کی وجہ سے بینائی ختم ہو چکی تھی)اور مطالبہ کیا کہ ہر میدان میں ریٹائرمنٹ کی عمر85سال مقرر کی جائے۔

(جاری ہے)

اس سلسلہ میں فخر سے غلام اسحاق خان،جی ایم سید اور ولی خان صاحب کی مثال ہمیشہ دیتے ہیں اور ان کے”کارہائے نمایاں“بھی گنواتے ہیں۔


ہمیں بہر حال ان کی باتوں سے الجھن ہوتی ہے مگر ایک بات ان میں ایسی بھی ہے کہ جو ہمیں بہت پسند ہے اورہم نے ہمیشہ کے لئے”پلے“بھی باندھ لی ہے اور وہ ہے ہر چیز کو مثبت انداز میں دیکھنا۔مال روڈ پر جلوس نکل رہا ہو،ٹائر جلائے جارہے ہوں اور لوگوں میں”افراتفریح“(یہ ڈاکٹر یونس بٹ نے لگتاہے پوری قوم کی اردو بگاڑنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے ہم بولتے جارہے ہیں کہ جوک درجوک ٹھیک ہے یا جوق در جوق غلط)پھیلی ہو مگر ماسٹر جی وہاں بھی کوئی نہ کوئی مثبت پہلو تلاش کرنے میں مصروف ہوں گے جیسا کہ ہمارے اکثر سیاستدان ہر مارشل لاء کے مثبت پہلو تلاش کرنے میں کامیاب ہوہی جاتے ہیں۔


آج ملک میں لوڈ شیڈنگ کا دور دورہ ہے مگر ہم کتب کریم کے زیر سایہ اس کے بھی مثبت پہلو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔موجودہ لوڈشیڈنگ کا سب سے اہم مثبت پہلو ہماری نظر میں بچوں کی اچھی صحت ہے۔ہمارے زمانے میں کوشش کی جاتی تھی کہ بچوں کی چھ یا سات سال کی عمر میں سکول میں داخل کرایا جائے مگر آج پیدائش سے پہلے ہی بچوں کی سکولوں میں رجسٹریشن کروالی جاتی ہے۔

ہمارے ایک دوست نے الٹراساؤنڈ کے ذریعے اطلاع ملنے پر کہ”بیٹی “ہے لڑکیوں کے سکول میں رجسٹریشن کروادی مگر پیدائش کے وقت پتہ چلا کہ ”بیٹا“ہے تو بہت شرمندہ ہوئے مگر مخلوط تعلیم کی وجہ سے مزید شرمندگی سے بچ گئے۔
بات ہورہی تھی لوڈشیڈنگ کی۔توجناب آج کل لوڈشیڈنگ ہی کی وجہ سے بچے صحت مند ہوتے جارہے ہیں۔کہاں لوڈشیڈنگ سے پہلے بچے”17گھنٹے “پڑھنے میں مصروف رہتے تھے اور یقینا اس کے صحت پر منفی اثرات پڑتے تھے مگر آج کل وہ صرف11گھنٹے پڑھتے ہیں(ان میں سے دو گھنٹے وہ نکال دیں جو سکول میں استانی جو سویٹر بننے میں صرف کرتی ہیں اور بچے لڑنے میں بلاشبہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ آرام فرماسکتے ہیں)۔


لوڈشیڈنگ کا اثر(مثبت)دفتروں میں کام کرنے والوں پر بھی پڑا ہے،خاص طور پر سرکاری دفاتر میں۔پہلے لوگ دفتروں میں ”تین گھنٹے“روزانہ کام کرتے تھے۔اور اب صرف ایک گھنٹہ!آپ حیران نہ ہوں۔آپ کی بات سچ ہے کہ پہلے دفتری اوقات آٹھ گھنٹے ہوتے تھے۔اصولی طور پر اب بھی دفتری اوقات یہی ہیں مگر بچوں کو سکول چھوڑنا بھی تو ہماری ہی ذمہ داری ہے اور پھر واپس لانا بھی ہمارا ہی کام ہے۔

پہلے ہم دفتر ساڑھے نو بجے پہنچ کر ساڑھے بارہ بجے واپس آتے تھے۔اب درمیان والے تین گھنٹوں میں سے دو گھنٹے”باہر دھوپ“میں گزارنا پڑتے ہیں۔لوڈشیدنگ کی وجہ سے(بھلا اس میں ہمارا کیا قصور)۔
ہم نے کالم لکھنے سے پہلے ایک دوست سے بات کی تو اس نے ہمیں کان میں چپکے سے ایک بات بتائی اور دعویٰ کیا کہ یہ”اطلاع “اگر وزیر اعظم صاحبہ کو دے دی جائے تو وہ فی الفورلوڈشیڈنگ کے خاتمے کا”غیر مشروط“اعلان کر سکتی ہیں“۔

(صبر کریں آپ کو بھی بتائیں گے)۔
ہمارے دوست نے ہمیں بتایا کہ میاں نواز شریف صاحب کے چہیتے آفسر ابھی مختلف محکموں میں ہیں اور سنا ہے واپڈاوالوں نے کما ل”ہوشیاری “سے ماڈل ٹاؤن میں لوڈ شیڈنگ کا وقت رات9بجے سے9:30بجے تک رکھا ہے تاکہ میاں صاحب ”خبر نامہ“دیکھنے سے بچ سکیں۔اب آپ لوگ یقینا بات کی”تہہ“تک پہنچ گئے ہوں گے ٹھیک ہے اگر آپ کی سمجھ میں بات نہیں آئی تو ہم بتا دیتے ہیں ۔

اصل میں ہمارے دوست نے بتایا تھا کہ اگر اس بات کی اطلاع محترمہ بے نظیر صاحبہ کو دے دی جائے کہ میاں نواز شریف صاحب واپڈاوالوں کی”ملی بھگت“سے نہیں دیکھ رہے“خبر نامہ“ہی تو ہے جو”اعصاب شکن“حملوں سے”سردجنگ“کے مثبت اثرات اقتداروالوں کے حق میں پیدا کر تاہے۔
امید ہے اب آپ بھی”کتب کریم“کی ذہانت کے قائل ہو چکے ہوں گے۔مت گھبرائیے لوڈشیڈنگ سے مارشل لاء سے، تحریک عدم اعتماد سے اور وٹو فیصل،چپقلش سے کہ ہر چیز کا مثبت پہلو مد نظر رکھنا ہی زندگی ہے۔

Your Thoughts and Comments