Main Ne Qaidi Kesay Chhoray

میں نے قیدی کیسے چھڑائے

بدھ مئی

Main Ne Qaidi Kesay Chhoray

اب سنیئے کہ میں نے کیسے انگریزی قیدیوں کو فرانسیسوں کی قید اور ظلم کے پنجے سے نکالا ۔ جبرالٹر سے انگلستان واپسی کا سفر میںنے فرانس کے راستے کیا میں چونکہ غیر ملکی تھا لہٰذا مجھے کوئی تکلیف نہ ہوئی۔ انگلستان اور فرانس کے درمیان رودبار انگلستان ہے جس کے فرانس والے کنارے پر کیلے کی بندرگاہ ہے اور انگلستان والے کنارے پر ڈوور ہے ۔ فرانسیسی بندرگاہ پر میںنے ایک جہاز دیکھا جس میں انگریز جہازی قید تھی۔

میں نے فوراََ ٹھان لی کہ ان غریبوں کو چھڑانا چاہیے۔ میں نے دو بہت بڑے بڑے پَر بنائے۔ ہر ایک کوئی بیس گز لمبا اور چودہ گز چوڑا اور انکو اپنے بازو¿وں سے باندھ کر جہاز کے اُوپر اُڑنے لگا۔ یہ صبح کا وقت تھا اور سبھی لوگ حتیٰ کہ سنتری اور پہردار بھی خواب غفلت میں مست تھے ۔

(جاری ہے)

میں نے اپنے گوپھیاکی مدد سے تین کمندیں جہاز کے مستولوں میں اٹکا دیں اور جہاز کو کئی گز پانی سے اُونچا اُٹھا لیا اور اسی عالم میں اسے ڈوور لے گیا وہاں میںکوئی آدھ گھنٹے میں پہنچ گیا۔

اب چونکہ مجھے پروں کی ضرورت نہ رہی تھی وہ بھی میں نے ڈوور کے قلعہ کے گورنر کی نذر کر دئیے۔انگریز قیدیوں اور فرانسیسی پہرہ داروں کی آنکھ کوئی دو گنٹے بعد کھلی۔ انگریزوں کی سمجھ میںمعاملہ آیا تو انہوں نے فوراََ سنتریوں کو قابو میں کیا اور اپنا مال اسباب اُن سے چھینا۔ لیکن اس سے زیادہ نہیں کیونکہ انگریز لوگ بہادر اور فیاض ہوتے ہیں اور اپنے حق سے زیادہ لینے کو لوٹ کھسوٹ سمجھتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments