Maindaak

مینڈک

بدھ جولائی

Maindaak
 خالد محمود
انسان اشرف المخلوقات ہے،یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ،بالکل اسی طرح جس طرح سورج کا نکلنا اور چاند کی کرنوں کا پھیلنا ایک مسلمہ حقیقت ہے۔
لیکن مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے میں شبہ ہے کیونکہ میں نے زندگی کے ہر مرحلے پر حقیر سے حقیر مخلوق کے سامنے خود کوبے بس پایا ہے،اس کا مطلب ہے کہ میں اشرف المخلوقات نہیں کہلایا جا سکتا۔خیر یہ کوئی پریشان کن مسئلہ نہیں،اصل مسئلہ یہ ہے کہ میں شکل وصورت سے اچھا خاصا انسان ہوں اور میری شکل وصورت ہو بہو عام انسانوں جیسی ہے۔

تلاش کے باوجود مجھے اپنی پشت پردم یاسر پر سینگ نظر نہیں آئے حالانکہ بار ہاآئینے میں اپنا بغورمشاہدہ کیا ہے۔
منطق کی رو سے اس مسئلے کا مطالعہ کیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے۔کہ میں انسان نہیں بلکہ انسانوں اور حیوانوں کے بین بین کوئی مخلوق ہوں۔

(جاری ہے)

یہ اور بات ہے کہ قادر مطلق نے فراخدلی سے کام لیتے ہوئے میری شکل انسانوں جیسی بنائی ہے۔


منطق کی رو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ میں انسان ہونے کی وجہ سے اشرف المخلوقات ہوں۔
تجربے نے ثابت کیا ہے کہ میں اشرف المخلوقات میں سے نہیں ہوں۔
پس ثابت ہوا کہ میں انسان نہیں بلکہ کوئی اور انسان نمامخلوق ہوں۔
میں نے منطق کی رو سے جو نتیجہ برآمد کیا ہے وہ آپ کے لیے حیران کن ہو گا لیکن میرے لیے نہیں!
اب آپ خود ہی انصاف کیجئے کہ میں کس حد تک حق بجانب ہوں۔

مثلاً مینڈک ہی کو لیجئے،کیسی یتیم ،مسکین اور بے ضرر قسم کی مخلوق ہے۔جسامت دیکھئے تو لمبائی اور چوڑائی دونوں میں ڈیڑھ دوانچ سے زیادہ فرق نہیں۔
چار چھوٹی چھوٹی ،غیر اہم سی ٹانگیں، سب سے نمایاں چیزدوچمک دارزردآنکھیں ہیں۔سمع خراشی کے لیے ،ایک شعلہ سالپک جائے ہے،قسم کی آواز جو دن کاچین اور راتوں کی نیند حرام کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔


اگر آپ بھی ان اہل درد میں شامل ہیں جن کا جینا مینڈکوں کے ہاتھوں دوبھر ہوچکا ہے تو اس مخلوق کی ستم ظریفیوں سے خوب آگاہ ہوں گے اور میرے بیان کو مبالغہ آرائی پرمحمول نہیں کریں گے۔
صبح آپ کسی مست ناز کے خوابوں میں سرشار قیامت خیز انگڑائیاں لیتے ہوئے بیدار ہوتے ہیں ۔سبحان اللہ!صبح کا کیسا سہانا اور روح پر ورسماں ہے ۔اس موقع پر آپ کو صبح کی شان میں بے اختیار جوش کی یہ مدح سرائی یاد آجاتی ہے۔


”صبح کی دلہن روپہلی گہنا پہنے،تاروں کا سینہ چیرتی ہوئی،چھم چھم کرتی چلی آئی اور خواب وخیال پر ایک چمک دار دھند بن کر چھا گئی۔“
معاً خیال آتا ہے کہ غسل خانے جا کر منہ ہاتھ دھولیا جائے ۔آپ اٹھے اور زمین پر پاؤں رکھنے کا ارادہ کیا کہ چپل پہنیں لیکن یہ دیکھ کر کانپ اُٹھے کہ چپل میں ایک مکروہ مینڈک بیٹھا آپ کو گھوررہا ہے۔خوابوں کا سلسلہ چشم زدن میں تار تار ہو جاتا ہے ۔

چپل تو بہر حال پہننی ہی ہے لیکن مینڈک کم بخت چپل کو اپنی خواب گاہ بنائے اطمینان سے بیٹھا ہے اور اس کی چھوٹی چھوٹی زرد آنکھیں آپ کے چہرے پر جمی ہوئی ہیں۔
ایسے موقعے پر آپ کیا کریں گے!شاید آپ اس نابکار کی زندگی کا خاتمہ کردیں گے مگر مجھ سے تو یہ بھی نہیں ہوپاتا کیونکہ بڑی بوڑھیوں سے سن رکھا ہے کہ مینڈک مارنا گناہ ہے ،جسم پر کوڑھ نکل آتا ہے ۔


جب بھی مینڈک مارنے کا ارادہ کیا اور ڈنڈالے کر اس پر پل پڑنے کی نیت سے آگے بڑھے تو چشم
تصور سے ایک کوڑھ زدہ جسم دیکھ کر و ہیں لرز کررک گئے۔توبہ توبہ کرنے لگے اور مینڈک کو نہایت آرام سے ایک طرف بھگا دیا۔
اس مخلوق کا دائرہ کار صرف آپ کے جوتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی سلطنت کی سرحد یں لامحدود ہیں۔
برسات کا موسم ہے ،اتنا حبس ہے کہ دم گھٹ رہا ہے۔

پسینہ بہہ رہا ہے اور آپ گرمی سے بولائے نہانے کی نیت سے غسل خانے میں داخل ہوتے ہیں۔دروازہ کھلتے ہی ایک لحیم شحیم مینڈک ٹراکرآپ کا استقبال کرتا ہے اور آپ کے لیے راہ چھورڑدیتا ہے ۔اب آپ اسے بھگانے کے لیے پیر فرش پر زور سے مارتے ہیں،آپ کے دماغ کا انجر پنجر ہل کررہ جاتا ہے مگر وہ جیالاوہیں ڈٹا ہوا ہے ۔آپ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں،آہ وزاری کرتے ہیں اور جب ہرحربہ آزماکر ناکام ہو جاتے ہیں تو اپنی بے بسی کو دل ہی دل میں کوستے ہوئے اس کی موجودگی نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


تھوڑی دیر بعد آپ صابن کی جھاگ میں ملفوف ہیں کہ آپ کے پاؤں پر کوئی چیز کودنے لگتی ہے۔تجربہ شاہد ہے کہ یہ تخریب کا ر،مینڈک کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ایسے موقع پر میں تو جلدی میں خود پر ڈھیروں پانی انڈیل لیتا ہوں ۔اکثر یہ بھی ہواہے کہ صابن آنکھوں میں گھس جاتا ہے ،یوں لگتا ہے کہ آنکھیں ابھی باہر آجائیں گی اور ہم اس تابکار مینڈک کے ہاتھوں بینائی سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔


ایک دومرتبہ تو ایسا ہوا کہ میں نے حملہ آور مینڈک کے مورچے کا اندازہ کرنے کے لیے جلدی جلدی منہ پر چھینٹے مارے اور مینڈک مارنے کے لیے لپکا لیکن جلد بازی کا شکار ہوتے ہوئے پھسل کر منہ کے بل جاگرا اور مینڈک گویا ہماری بدحالی پرخوشی سے چھلانگیں لگاتا ہوا کسی کو نے کھدرے میں گھس گیا یاسر نیہوڑا کر بند دروازے کے نیچے سے باہرنکل گیا۔
رات کو کھانا کھا کر اکثر چہل قدمی کرنے کوجی چاہتا ہے ۔

برسات کی شامیں دوپہر کی نسبت خاصی بہتر ہوتی ہے ۔سارا دن پنکھوں کے نیچے لیٹنے کے بعد شام سیر کا موڈبن جاتا ہے لہٰذا کھانا کھانے کے بعد میں اکثر چہل قدمی کرنے باہر جاتا ہوں۔
ہوتا کچھ یوں ہے کہ میں بڑے خوشگوار موڈ میں خراماں خراماں معطرمعطر چلا جارہا ہوں۔حبس بھری دوپہر میں جلنے کے بعد سرمئی شام میں گرم ہوا کے جھونکے بھی راحت جاں سے کم نہیں۔

رات آسمان کے آنگن میں تاروں بھراآنچل اوڑھے اتررہی ہے۔آسمان پر تارے جھلملارہے ہیں۔ہلکی ہلکی ہوالوریاں سی دیتی محسوس ہورہی ہے۔
جی چاہتا ہے کہ یہیں کہیں کسی اینٹ کو تکیہ بنا کر دراز ہو جائیں اور اس رنگوں بھری دنیا میں پہنچ جائیں جسے عالم خواب کہتے ہیں۔میں یونہی نیند کے ہلکور ے لیتے چلا جارہا ہوں کہ اچانک ٹپ کی ناقابل فہم آواز خیالوں کا سلسلہ منقطع کردیتی ہے۔


سوچتا ہوں غالباً پاؤں کے نیچے کوئی پتھر پھسل گیا ہے یا شائد ہمارے سر پر کوئی جامن گراہے،بہر حال کچھ نہ کچھ ہوا ضرور ہے۔پیر جو اٹھایا تو ایسا نظارہ دیکھا کہ مارے کر اہت کے ابکائی آنے لگی۔لگتا ہے کہ بس کھایا پیا ابھی باہر نکل آئے گا۔پیرکے نیچے ایک مینڈک کی مسخ شدہ لاش پڑی ہے اور دوچمک دار آنکھیں بدستور ہمیں گھوررہی ہیں ۔یقین مانئے ہمیں مینڈک کی آنکھوں سے بڑا خوف آتاہے۔


آج تک کتابوں میں یہی پڑھا ہے کہ سانپ کی آنکھوں میں ایسا سحر ہوتا ہے کہ اگر وہ انسان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے تو انسان مسحور ہوجاتا ہے ۔اسی مفروضے کے متعلق میں کچھ عرض نہیں کر سکتا کیونکہ آج تک کسی سانپ سے سابقہ نہیں پڑاالبتہ میں مینڈک کے بارے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ مینڈک کی آنکھوں میں ایسی ”آسیبی کشش“ہوتی ہے جو دیکھنے والے کو بے حس وحرکت کردیتی ہے۔


میں نے کئی مینڈک کو تاک کر مارنے کے لیے جوتا اٹھایا اور جوش وجذبات میں کوڑھ زدہ جسم کے دہشت ناک تصور کو بھی نظر اندازکر گیا لیکن جو نہی میری نظر مینڈک کی قاتل نظروں سے ملی ،گرفت ڈھیلی پڑگئی اور میں کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح جوتا پھینک کر کھڑا ہو گیا۔اگر مینڈک نے راستہ دینے سے انکار کر دیا تو میں نے کسی شریف ڈرائیور کی طرح اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔


میرے خیال میں اتنے تیر تو محبوب کے نینوں نے بھی سینہ عاشق پر نہیں برسائے ہوں گے جتنے مینڈک کی بظاہر ننھی ننھی آنکھیں مجھ پر برساتی ہیں ۔بقول فیض ع تیری آنکھوں کے سوادنیا میں رکھا کیا ہے
مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی خطر ناک غنڈہ مجھ پر چاقو تان کر کھڑا ہو جائے تو میں اتنا خوفزدہ ہر گز نہیں ہوں گا جتنا ایک مینڈک کو دیکھ کر ہو جاتا ہوں۔


جس روز کوئی مینڈک میرے قدموں تلے راہ وفامیں جان دے دے تو میری حالت کچھ یوں ہوتی ہے کہ ہر طرف مینڈک ہی مینڈک نظر آتے ہیں اور میں کئی روز تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزاپاتا ہوں۔
ایک دن بیگم نے دستر خوان پر کھانا لا کر رکھا اور طشتری میری طرف بڑھاتے ہوئے بولیں”لیجئے،ذراچکھ کرتودیکھئے،آج قیمہ بھرے کریلے پکائیں۔“
میں نے ایک کریلا رکابی میں ڈالا لیکن ناگاہ محسوس ہوا جیسے ایک سالم ،تلا تلایا مینڈک رکابی میں پڑامجھے گھوررہا ہے۔


میں کھانا چھوڑ کر اٹھ گیا۔بیگم منہ پھلا کر بیٹھ گئیں کہ اتنے شوق سے سالم کریلے بنائے تھے اور آپ نے چکھے تک نہیں۔بیگم کے سامنے لاکھ وضاحت کی کہ بھئی جو چیز بھی مینڈک کی طرح ہو،اسے دیکھ کر مجھے کراہت آتی ہے مگر بیگم ایسی باتوں سے مطمئن ہوجائیں تو کم ازکم مجھے تقدیر سے گلہ نہ ہو!مینڈک کے بعد بیگم ایسی ہستی ہیں جنہوں نے میری زندگی عذاب کررکھی ہے۔


بعض اوقات تو بیگم کی جارحانہ حرکتیں دیکھ کر اور دل جلادینے والی باتیں سن کر یہ شبہ ہوتاہے جیسے کوئی مینڈک مجھ سے انتقام لینے کے لیے بیگم کا رو پ دھار کر آگیا ہے ۔ایک روز شام کو بیٹھاٹی وی دیکھ رہا تھا۔کمرے میں میرے چھوٹے بیٹے اعظم کے سواسب بچے موجود تھے میں بڑی دیر سے یہ سوچ رہا تھاکہ ملازمہ کو بھیج کر غسل خانے کے سارے مینڈک مروادوں ،کم از کم ان مینڈکوں کا خون تو میرے سر پر نہیں ہو گا اور اس مصیبت سے بھی نجات مل جائے گی۔


میں نے بیگم سے پوچھا”بیگم!مینڈک کہا ہے ؟ذرا کنیز کو غسل خانے بھیج کر اعظم کومروادو۔“
بیگم بیٹھی چھالیہ کتر رہی تھیں۔سروتہ پٹخ کر بولیں”تو بہ ہے،آپ ہوش میں تو ہیں؟کسی افسانے کا پلاٹ سوچ رہے ہوں گے تبھی منہ سے الٹی سیدھی باتیں نکال رہے ہیں۔“
میں نے احتجاج کیا”بیگم آخر میں نے کہا کیا ہے جو آپ کو ناگوار گزرا ہے ؟اگر کنیز اپنے قیمتی وقت میں سے چند منٹ نکال کر مینڈک ماردے گی تو کیا غضب ہو جائے گا؟“
بیگم چمک کر بولیں”بھاڑ میں گیا مینڈک!آپ نے ابھی کہا ہے کہ کنیز کو بھیج کر ،میرے منہ میں خاک،اعظم کو مروادو۔

آپ کو ہو کیا گیا ہے !میں آپ کے سارے افسانے آج ہی آگ میں جھونکوں گی۔“
میں بھی جلال میں آگیا،اپنے افسانوں کی یہ توہین بھلا کب گواراتھی!میں نے گرج کر کہا”بیگم!اگر آپ نے ہمارے مینڈکوں کے بارے میں کچھ کہا تو اچھا نہیں ہو گا۔ہم آج ہی سارے افسانوں کو خود ہلاک کردیں گے اور آپ کی لاڈلی کنیز کو زحمت نہیں دیں گے۔“
بیگم ماتھا پیٹ کربولیں”تو بہ اللہ!مینڈک نہ ہواوبال جان ہو گیا۔


مینڈک نے میری کردار کشی میں بھی اہم کردار اداکیا ہے اور بیگم کے دل میں میرے بارے میں جو شکوک وشبہات پیدا ہو چکے ہیں وہ میں آج تک دور نہیں کر سکا۔
ایک شام میں کنیز کو غسل خانے میں مینڈکوں کی خفیہ جائے رہائش دکھاکر ہدایات دے رہا تھاکہ جو نہی مینڈک باہر آئے وہ میندک کو مارڈالے کہ بیگم کسی کام سے کمرے میں آئیں ۔کنیز کو غسل خانے میں موجود پاکر خدا جانے کیا سمجھیں کہ ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔

وہ بھونچال کی طرح آگے بڑھیں،کنیز کے ہاتھ سے ڈنڈا چین کر پرے پھینکا اور ڈانٹ کر بولیں”چل مردار دفع ہو۔چولہے پر ہنڈیا یونہی چھوڑ آئی ہے ،کام چور ،ذلیل۔“
کنیز تو ڈانٹ کھا کر چلی گئی مگر بعد میں بیگم نے میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ بیان سے باہر ہے ،جوش جذبات میں مجھے غنڈا!بدمعاش!!!اور نہ جانے کیاکیا کہہ گئیں۔
میں نے لاکھ صفائی پیش کی کہ بخدا میں تو محض کنیز سے مینڈک مروارہا تھا،آپ کو شبہ ہوا ہے ،مگروہ تو سدا سے ہماری مخالف رہی ہیں فوراً بولیں ”ہونہہ !یہ بھلاوے کسی اور کو دینا ،کیا ایک چھ فٹ کا مرد مینڈک خود نہیں مارسکتا؟واہ بھئی مینڈک مارا جارہا تھا یا کوئی شیر پچھاڑاجارہا تھا؟مجھے تو پہلے ہی شبہ تھا کہ․․․․“
اب میں بیگم کے الزام کا کیا جواب دیتا جبکہ وہ کچھ سننے کے لیے تیار نہیں تھیں۔

ناچار خاموش رہا ،لیکن آج تک مجرم ٹھہرایا جاتا ہوں۔جب بیگم زیادہ جوش میں آئیں تو واقعہ الم نشرح کرنے کی دھمکیاں دینے لگتی ہیں اور میں جگر تھام کررہ جاتا ہوں۔
اب میں انہیں کیسے سمجھاؤں کہ بیگم میں شیر مار سکتا ہوں،آسمان سے تارے توڑکرلا سکتا ہوں مگر․․․․مینڈک کا مقابلہ کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔
آج کل موسم برسات ہے جو افسانوی لحاظ سے اچھا خاصا رومانوی ہے ۔

بارش ہو رہی ہے۔ساون کے ملہار گائے جارہے ہیں ۔باغوں میں جھولے پڑے ہوئے ہیں۔پکوان تلے جارہے ہیں ۔خوب صورت لڑکیاں رنگ برنگے لباس پہنے جھولا جھول رہی ہیں ۔درختوں میں آم پکے ہوئے ہیں ۔فضا میں پکوانوں کی سوندھی سوندھی خوشبو رچی ہے ۔ہر طرف رنگ ہی رنگ ہیں، خوشبو ہی خوشبو ہے اور حسن ہی حسن ہے۔
لیکن صاحب میں تو اتنا جانتا ہوں کہ برسات کا سب سے بڑا تحفہ․․․․مینڈک ہیں․․․․جدھر دیکھو ،جہاں جاؤ مینڈک ہی مینڈک نظر آتے ہیں۔


سارا دن دفتر میں افسروں کی جھڑکیاں کھانے میں گزر جاتا ہے ۔گھر آؤ تو بیگم کے طعنے کلیجہ چھلنی کیے دیتے ہیں ۔خدا خدا کرکے رات آتی ہے تو سونے کی نیت سے بستر پر دراز ہو جاتا ہوں کہ چلو صاحب چھٹکارا ہوا،رات تو اپنی ہے،دھیر دھیرے نیند آرہی ہے مگر ٹھہریے تقدیر کے ترکش میں ابھی ایک اور تیر باقی ہے
خدا جانے کہاں کہاں سے مینڈکوں کے ٹرانے کی آوازیں آنے لگتی ہیں ۔

مجھے توشبہ ہوتا ہے کہ کوئی بدمعاش مینڈک عین میرے کان کے نیچے دبکاٹرارہا ہے ۔گھبرا کر اٹھ بیٹھتا ہوں، روشنی جلا کر سارا بستر چھان مارتا ہوں ،مگر کہیں مینڈک کا نام ونشان نہیں ملتا۔
خداجانے یہ بلائے آسمانی کہاں پوشیدہ ہے ،عجیب پُراسرار سامعاملہ ہے۔میں چاروناچاربستر پرلیٹ جاتا ہوں اور اپنی تقدیر کوکوس کرسونے کی کوشش کرتا ہوں ۔

دل میں حسرت ہی رہی کہ یہ بے حیا مینڈک ہاتھ آجائے تو دو جوتے مار کر پوچھوں ”کیوں بے،اب ٹرائے گاسالے؟بخدا مار ڈالوں گا۔شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہاہے ۔یہ مت سمجھ کہ میں تمہیں مار نہیں سکتا ،یاد رکھ ،میرا غصہ بہت براہے۔“
مگرکیا کریں،مجبوری یہ ہے کہ مینڈک میری زبان نہیں سمجھتے اور میں مینڈکوں کی لوری سنتے سنتے سوجاتا ہوں۔صبح بیدار ہوتا ہوں تو پھر وہی مینڈک!وہی بیگم سے تو تکار اور وہی راگ میگھ ملہار!!

Your Thoughts and Comments