Meem Se Mehengai

م سے مہنگائی

حافظ مظفر محسن جمعہ دسمبر

Meem Se Mehengai
مہنگائی کیخلاف جاری احتجاجی تحریک دن بدن زور پکڑرہی تھی مگر حکومت کے کانوں پر ابھی تک جوں نہیں رینگی تھی۔شعلہ بیان مقرر ہر روز اپنی شعلہ بیانی کا مظاہرہ کرتے اور عوام اس شعلہ بیانی کی زد میں آئے بغیر نہ رہ پاتے اور مفت میں نقصان ہوتا بے چارے دکانداروں کا لیڈر لوگ رات کومزے سے نرم نرم بستر پر سوتے اور جو شیلے کارکن سخت سردی میں پولیس سے ”چھیڑ چھاڑ“کے الزام میں راتیں تھانے کی کھلی حوالات میں گزارتے اور صبح ناشتہ اکٹھے مل کے کرتے یعنی جوشیلے کارکن اور پولیس ملازم کیونکہ ایسے کارکنوں کے گھر والوں پر فرض ہوتاہے کہ ڈبل ناشتہ بھجوائیں۔

یہ احتجاجی تحریک کئی روز سے جاری تھی جس طرح آج کل بھٹہ مالکان کی تحریک جاری ہے کہ سیلز ٹیکس کے خلاف بھٹہ مالکان نے کام بند کررکھاہے لاکھوں مزدور بے روزگار ہیں ایسے مزدور کہ جن کے گھر کا چولہا اسی صورت میں جلتا تھا کہ جب گھر والا دیہاڑی لگا کر آتا۔

(جاری ہے)

مزدوروں کی نمائندہ حکومت کے دور میں لاکھوں گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور ان گھروں میں ٹھنڈے چولہوں کے پاس خالی پیٹ بچے آنکھوں میں جھانک رہے ہیں کہ جہاں ویرانی ہے اور آنسو ہیں چمک نہیں روشنی نہیں۔


احتجاجی تحریک میں شدت پیدا ہوئی تو کچھ لیڈر حضرات کو سرکاری مہمان بنایا گیا۔
سناہے لیڈر حضرات تو کبھی کبھی لیڈری چمکانے کیلئے خود کوئی بہانہ بناتے ہیں کہ”اے کاش جیل یا ترا ہو چائے؟ہم نے جوسنا ہے لازم نہیں کہ وہی سچ ہو۔
مہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک کی شدت اور پکڑ دھکڑ دیکھ کر عوام نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس تحریک کے باعث مہنگائی ضرور ختم ہو جائے گی(بھوکے بھالے عوام؟)دوسری طرف جب احتجاجی تحریک کا حکومت کو اندازہ ہوا تو تھوڑی سی ہلچل مچی اور حکومت نے لیڈر حضرات کو مذاکرات کی دعوت دے ڈالی۔


مقررہ تاریخ اور وقت پر لیڈر حضرات سرکاری حکام سے مذاکرات کیلئے پہنچ گئے۔گلے شکوے ہوئے اونچ نیچ بھی ہوئی اور شور شرابہ بھی ہوا۔پھر بات ناراضگی تک پہنچ گئی۔واک آؤٹ کا اعلان ہوا مگر صلح جولوگ بیچ میں آگئے اور پھر سے بات چیت شروع ہو گئی۔ماحول پھر خوشگوار ہو گیا بلکہ سازگار ہو گیا۔
لیڈر حضرات ․․․․․․․مہنگائی بہت ہے لوگ بھوکے مررہے ہیں؟
سرکاری نمائندے ․․․․․کہاں ہے مہنگائی؟ہمیں بتائیں کہاں ہے مہنگائی؟
لیڈر حضرات ․․․․․․اپنی عینک کا نمبر تبدیل کرائیں آپ کو مہنگائی نظر آجائے گی۔


سرکاری نمائندے ․․․․․․جناب دس سال پہلے بھی پیاز دس بارہ روپے کلو تھے اور آج بھی یہی ریٹ ہے دس سال پہلے بھی آلو چار پانچ روپے کلو تھے اور آج بھی۔بتائیے کہاں ہے مہنگائی؟ہمیں تو مہنگائی کہیں دکھائی نہیں دیتی؟
ایک لیڈر․․․․․جناب بجلی‘پانی اور گیس کابل؟
سرکاری نمائندے․․․․․آپ چپ رہیں جی۔
اس دوران ماحول خوشگوارہو گیا مہنگائی مہنگائی کا شور کم ہو گیا۔

چائے کے ساتھ پیسٹریاں چلنے لگی۔لیڈر حضرات نے اپنی اپنی جیب سے کچھ کاغذات نکالے۔کسی کے بیٹے کو”اس “عہدے پر لگانے کے احکامات جاری ہوگئے تو کسی لیڈر کی ساس کا بیرون ملک علاج کرانے کا پکا وعدہ ہوا۔کسی لیڈر کو فیکٹری کیلئے قرضہ مل گیا تو کسی لیڈر نے چھوٹے پلاٹ پر ہی قناعت کرلی۔
ایک لیڈر جوکہ بجلی کا بل‘پانی کا بل‘گیس کا بل اور ٹیلی فون کا بل ہاتھ میں لئے اچھل اچھل کر باتیں کررہا تھا اسے علاقے کے ایس ایچ او کے سپرد کر دیاگیا کیونکہ سونا آگ میں جل کرہی سنا ہے کندن بنتاہے اور ویسے بھی سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔


اگلی صبح”مہنگائی“کیخلاف چلائی جانے والی تحریک میں دلچسپی رکھنے والی عوام نے اخبارات میں یہ سرخی نمایاں جگہ پر خوشی خوشی پڑھی”عوامی لیڈروں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔حکومت نے مسائل پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کر لیا اور احتجاجی تحریک ختم کر دی گئی“۔

Your Thoughts and Comments