Mehboob Ap K Qadmo Mai

محبوب آپ کے قدموں میں

جمعہ اکتوبر

Mehboob Ap K Qadmo Mai
 اعتبار ساجد
راولپنڈی ،لاہور ،فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی دیواریں پڑھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان شہروں میں دو قسم کی چیزیں بہت پائی جاتی ہیں۔جِنّ اور ان کو نکالنے والے۔تقریباً ہر چوک اور بازار میں عامل کامل ،نجومی ،پروفیسر اور جادوٹونے کی کاٹ پلٹ کے ماہرین کے بلاوے چمکتے نظر آتے ہیں۔لگتا ہے کہ اب ان شہروں کا ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے۔

جن نکلوانا یافال نکلوانا۔دونوں چیزیں نکالنے کے لیے لندن ،امریکہ،ہانگ کانگ اور انڈونیشیا سے تجربات کی گھڑیاں سمیٹے ہوئے ایک سے ایک نجومی،نمبر الوجسٹ اور کاٹ پلٹ کا ماہر موجود ہے ۔جسے اپنا جن یا اپنا زائچہ نکلواناہو۔پروفیسر پی ایچ کستوری کی خدمات حاضر ہیں۔
پروفیسر صاحب نے ایک کھوکھے میں اپنا جادو گھر کھول رکھا ہے۔

(جاری ہے)

مضافات سے بتیاں دیکھنے کے شائقین جوق در جوق جاتے ہیں اور حال دل سناتے ہیں کسی کی بیوی بھاگ گئی ہے کسی کے اولاد نہیں ہوتی کسی کی زمین کا مقدمہ ہے ۔

کسی کی خاندانی دشمنی ہے۔ان تمام سنگین معاملات کا حل پروفیسر پی ایچ کستوری کے پاس ہے وہاں کام نہ بنے تو اگلے چوک پرپروفیسر ٹی ایم گھٹالا سے رجوع کیجئے۔وہاں گوہر مقصود ہاتھ نہ آئے تو اگلی دکان دیکھئے اب تو ماشاء اللہ فال نکالنا ،زائچے بنانا اور جن نکالنا انڈسٹری ہے ۔اس آرٹ کی بے حساب بڑھتی ہوئی مانگ نے اسے انڈسٹری بنادیاہے۔
سولہ برس تک آپ پڑھتے ہیں۔

خون پسینہ بہا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔سفارش یا کسی بھی طرح لیکچر ار لگتے ہیں۔ساری عمر بچوں کو پڑھاتے ہیں۔کہیں ریٹائرمنٹ کے آس پاس جاکر آپ کو مووا وورملتا ہے اور آپ آدھے پروفیسر کہلاتے ہیں۔لیکن آفرین ہے ان پر کہ راتوں رات پروفیسر بنتے ہیں اور صبح شہر کی
 دیواروں پر ان کا عہدہ چمک اٹھتا ہے۔
پروفیسر ڈبیلو ایکس وائی۔
ماہر علم نجوم،عملیات وحاضر یات وجنات۔


کام نہ ہونے پر رقم کی واپسی کی گارنٹی۔
ایک بار ضرور آزمائیں۔
ایک بار ضرور آزمائیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار ضرور اپنا یا اپنے عزیزوں یا دوستوں کا جن نکلوائیں۔اس زمانے میں جب کہ جگہ کی قلت ہے۔ایک وجودمیں ایک شخص ہی بمشکل گزارہ کرپاتاہے۔لہٰذا دوسرا وجود پالنے کی ضرورت نہیں ۔اگر کسی جن وغیرہ نے وجود میں گھر کر لیا ہے تو اسے نکلوادینا چاہئے۔

شرمانا نہیں چاہئے۔علاج میں کیا شرم ۔
پروفیسر چودھری اللہ دتہ(ماہر جنسیات وعملیات وحاضرات)ایک مرتبہ کہنے لگے۔
”پڑھے لکھے لوگ جن وغیرہ کو سیریس نہیں لیتے۔حالانکہ ان میں جنات کی موجودگی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔“
ہم نے کہا۔”پرومرشد ۔اس کی وجہ؟“
بولے۔”جن زیادہ تر پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔اسی لیے پڑھے لکھوں کی صحبت پسند کرتے ہیں ۔

اسی پسند کے چکر میں وہ ان پر سوار ہو جاتے ہیں ۔مگر ظاہر نہیں ہوتے۔“
ہم نے پوچھا۔”اس اسپیشل کنسیشن کی وجہ؟“
فرمایا۔”لحاظ کرتے ہیں۔کبھی کبھی ظاہر بھی ہو جاتے ہیں۔مثلاً جب واسطہ کسی تیسرے درجے کے شاعر ادیب سے پڑجائے ۔عموماً اسی کا حلیہ اختیار کر لیتے ہیں۔بلکہ اپنا حلیہ اسے بخش دیتے ہیں۔کبھی آپ پاک ٹی ہاؤس جا کر دیکھیں ۔وہاں جنات قوم کے کئی شہزادے آپ کو مل جائیں گے جوادیبوں میں بیٹھ
 کر سر ہلاتے ہیں اور جنوں میں جاکر تنقیدی نشستوں کی روئید اد سناتے ہیں۔


پروفیسر موصوف کے اس انکشاف پر ہمارے کان کھڑے ہوئے اور ہمیں کئی ایسے چہرے یاد آئے۔جنہیں ہم نے پہلی مرتبہ ادیب یا شاعر سمجھا تھا۔بعد میں وہ اپنی حرکتوں سے جن ثابت ہوئے اور اب چھپانے سے بھی کیا حاصل۔ہمارے بعض ادیبوں کا تو زور ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ انہیں ادیب نہ سمجھا جائے۔جن سمجھا جائے ۔خود کو جن بناکراور جن کہلواکروہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

مخلوق ان سے خوف کھاتی ہے۔یہ قہقہے لگاتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ جو شہرت وہ ادیب بن کر نہیں کما سکے وہ جن بن کر کمارہے ہیں۔
ہمارے جن ادیب حضرات کی باتوں اور وضع قطع سے صاف پتہ چل جاتاہے کہ ان کے اندر سے جن بول رہا ہے۔بلکہ بڑ بڑا رہا ہے۔کان دھر کے سنئیے تو ان کا ایک بھی فقرہ بھی آپ کے پلے نہیں پڑے گا۔البتہ آپ پر ان کے جناتی اوصاف ضرور منکشف ہو جائیں گے۔

ٹی ہاؤس میں داخلے کے حقوق محفوظ ہیں۔مگر صرف ادیبوں کے لیے جنوں کے لیے نہیں یہی وجہ ہے کہ نہایت بے تکلفی سے دروازہ کھول کر جن آگھستے ہیں ،اور ٹی ہاؤس کی آخری بتی بجھنے تک ادیبوں سے محو گفتگو رہتے ہیں۔بلکہ ایک مرتبہ تو رات کے ساڑے گیارہ بجے جن ہمیں گھر تک بھی چھوڑنے گیا۔پہلے تو ہم اسے ادیب سمجھتے تھے لیکن عین چورا ہے پر پہنچ کر اس نے سڑک کر اس کرنے کی بجائے ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں روک لیا اور لہک کر بولا۔

”آج ہی ڈھائی ہزار سطروں کی ایک نثری نظم لکھی ہے ۔ایک ہزار سطریں مجھے زبانی یاد ہیں۔وہ میں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتاہوں۔“
ہم نے سہم کر ٹریفک سگنل کی طرف دیکھا۔سرخ بتی زرد بتی میں تبدیل ہو چکی تھی اور کسی بھی وقت سبز بتی روشن ہو سکتی تھی۔لرز کر کہا۔”جلدی سے سڑک پار کریں۔ٹریفک کھلنے والاہے۔“
وہ جن زادہ کہنے لگا۔”ٹریفک کی آپ فکرنہ کریں گاڑیوں والے خود ہی بچ بچا کر نکل جائیں گے۔

آپ
 میری نظمیں سنیں۔یہ اس عہد کا پر درد نوحہ ہے۔بعد میں اسی تھیم پر ایک ناول بھی لکھوں گاجس کا پلاٹ بھی آپ سے ابھی ڈسکس کرناہے۔“
بات عالموں،کاملوں اور پروفیسروں سے چلی تھی اور جن زادے تک آپہنچی۔عرض فقط یہ کرنی مقصود تھی کہ یہ ہمارے عملیات کے ماہر پروفیسر حضرات محض ان پڑھ جن نکالنے تک اپنے فن کو محدود نہ رکھیں بلکہ اس کا دائرہ ذرا وسیع کریں تاکہ سماجی اور سیاسی ،ثقافتی اور ادبی جن بھی استفادے سے محروم نہ رہیں۔ان کا ٹ پلٹ کے ماہرین کو چائے کہ ادب کے لیے کنجوس اور تنگ نظری چھوڑ دیں اور اب اس قسم کے اشتہارات دیواروں پر لکھوایا کریں۔

Your Thoughts and Comments