Mere 12 Baj Chuke Hain

میرے بارہ بج چکے ہیں

حافظ مظفر محسن ہفتہ دسمبر

Mere 12 Baj Chuke Hain
” بارہ بج جانا“ ایک ایسا محاورہ ہے جو کہ عوام میں بے حد مقبول ہے اور پسندبھی کیا جاتا ہے۔ جس طرح مرزا غالب کے اردو کلام میں سے پچاس فیصد کلام ضرب المثل بن چکا ہے اور ایک ایک شعر اور اکثر اوقات ایک ایک مصرعہ کئی کئی جگہوں پر بطور ضرب المثل پیش کیا جاتا ہے اسی طرح دنیا بھر میں مقبول لطیفے اپنی بہت سے مماثلت کے باعث پچاس فیصد سے زیادہ سکھوں کے حوالے سے مشہور ہیں۔

اب تو یہ صورتحال ہوچکی ہے کہ ہمارے ملک میں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی سکھ دکھائی دے تو لوگ مسکرانے لگتے ہیں شاید انہیں سکھوں کے حوالے سے مشہور کوئی لطیفہ یاد آجاتا ہے یاہنسی چھوٹنے کی وجہ کوئی اور ہے یہ تو ہنسنے والے جانتے ہیں یاسکھ ․․․․․․․!!
#چند ہفتے قبل فوت ہوجانے والے پاکستان کے نامور ترین مزاحیہ اداکار رنگیلا پر جس کسی کی نظر پڑتی تو دیکھنے والے کی بے ساختہ ہنسی چھوٹ پڑتی اور رنگیلا مرحوم اپنی مشہور زمانہ ” دولتی“ اور پھر گدھے جیسی آواز سے ملنے والوں کو خوب محفوظ کرتے (اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ ، جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔

(جاری ہے)

آمین )
بہت سال پہلے کی بات ہے جب مابدولت ابھی سکول کے طالب علم تھے ساہیوال شہر میں انڈیا پاکستان کی ٹیموں کے مابین کرکٹ میچ کھیلا گیا بشن سنگھ بیدی کھیل رہے تھے انہوں نے جو ایک تیز آتی ہوئی گیند کو کھیلنا چاہا تو بے چارے کیچ ہوگئے اور عوام کو ہنسی پر قابونہ رہا لوگوں کے پیٹوں میں ہنس ہنس کر بل پڑگئے کیونکہ اس وقت دوپہر کے بارہ بج رہے تھے ۔

لوگوں کے قہقہوں کے ساتھ یہ آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں
” سردار جی ․․․․․․ بارہ بج گئے “
اصل میں سکھ مذہب کے پیروکار پگڑی باندھتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ پگڑی سر کے گردزورسے باندھے جانے کے باعث خاص طور پر گرمیوں میں عقل کام کرنا چھوڑ جاتی ہے حالانکہ پگڑی تو مسلمان بھی کافی تعداد میں باندھا کرتے تھے اور پگڑی عزت وعظمت کی علامت بھی خیال کی جاتی تھی مگر مسلمانوں والی پگڑی اندر سے خاصی ہلکی ہوتی تھی جبکہ سکھوں والی پگڑی بہت سے بھاری بھرکم بالوں کے باعث صرف اور صرف سکھوں کے سروں کیلئے بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔

اسی پگڑی کی بدولت ہی ” بارہ بج جانا “ والا محاورہ ایجاد ہوا یا پھر شاید سکھوں سے کچھ ایسی حرکات سرزد ہوئیں کہ جن کا عقل سے دورکابھی واسطہ نہ تھا۔ اصل میں بارہ بج جانے والا محاورہ اب صرف سکھوں کیلئے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ محاورہ عالمی سطح پر مقبولیت اختیار کر چکا ہے اب یہ محاورہ دوپہر کی دھوپ اور خاص طور پر بارہ بجے ہی استعمال نہیں ہوتا یہاں تک کہ رات کے گھپ اندھیرے میں بھی کوئی حرکت کسی انسان سے احمقانہ انداز میں سرزد ہو جائے توبھی لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں کہ ” میاں تمہارے تو بارہ ہی بج گئے ہیں “۔

کبھی کبھی صبح کے آٹھ بجے یا شام کے چار بجے بھی انسان کے بارہ بج جانے ہیں ․․․․․․ !! اصل میں یہ ساری تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ پچھلے جمعہ میں سفر پر تھا اور زمین روڈ پر ایک چھوٹی سی مسجد دکھائی دی جہاں مولانا خطبہ جمعہ بیان کررہے تھے ہم نے بھی جلدی جلدی وضوکیا اور مودب ہوکر بیٹھ گئے۔ مولانا پوری طرح جلال میں تھے اور ارشاد فرمارہے تھے کہ” میاں بش اصل میں تمہارے اور تمہارے پھوپھی زاد ٹونی بلیئر کے بارہ بج چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تم عراق میں خوب ذلیل ہورہے ہو․․․․․ !!
مجھے مولانا کا ” بارہ بج جانا“ جیسا اہم محاورہ خطبہ جمعہ میں فٹ کرنا بہت اچھا لگا اور میری ہنسی چھوٹ گئی ۔

گومجھے مولانا کے بھولے پن پربھی ہنسی آئی کے بے چارے کیا خوب خوشی خوشی کہہ رہے تھے کہ بش اور ان کے پھوپھی زاد ٹونی بلیئر عراق میں ” بارہ بج جانے “ کے باعث خوب ذلیل وخوار ہورہے ہیں ۔ حالانکہ دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک پر قابض ہوجانے کے باعث ” اتنا ساذلیل وخوار ہونا کیا معنی رکھتا ہے ۔ مجھے بش یا بلیئرکے ذلیل وخوار ہونے سے کوئی خاص سروکار نہیں ۔

مجھے تو اس محاورے کی ایجاد سے ہے کہ یہ ایجاد کہاں کہاں استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے ایک دوست کے ہاں چھٹا بچہ پیدا ہوا توایک دوست برجستہ بول اٹھے۔ یار چوہدری علی احمد تیرے تو بارہ بج چکے ہیں ۔ دھڑادھڑ بچے پیدا کرتے جارہے ہو۔ ؟ اسی لمحے مجھے اپنے ایک بزرگ عزیز باؤ گلایاد آگئے کہ جنہوں نے سختی سے ” دو بچے خوشحال گھرانہ “ والی اسکیم پر عمل کیااور پھر جب دونوں بچوں کی شادی ہوگئی اور دونوں اپنی اپنی دلہنوں کے ساتھ ملک سے باہر چلے گئے تو باؤ گلابے چارہ تین کتوں ‘ چار بلیوں اور نوکروں کی ایک فوج ظفر موج کے ساتھ اداس اداس پھرتا اپنے سابقہ فیصلے پرپریشان دکھائی دیتا۔

لوگ کہتے باؤ گلے کے بارہ بچ چکے ہیں۔
جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالااور نوازشریف صاحب کا پولیس گردی کا واقع لوگوں کے سامنے آیا تو بے ساختہ لوگوں نے کہا کہ اصل میں میاں نوازشریف صاحب کے بارہ بچ چکے تھے۔ جبھی تو وہ جنرل پرویز مشرف کی طاقت کا اندازہ نہیں لگا پائے۔ ؟ ہمارے ہاں سیاسی کھلاڑیوں کو اقتدار مل جائے تو ان کے بارہ بج جاتے ہیں۔

اقتدار ان سے چھن جائے تو پھر تو واقعی ان کے بارہ بج جاتے ہیں مگر جو حال کرکٹ کے کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتا ہے وہاں تو بار بار یہ قیمتی محاورہ یاد آتا ہے ۔ پچھلے دنوں عوام نے دیکھا کہ دنیا کے تیز ترین باؤلر شعیب اختر بے چارے کے بھی بارہ بج رہے ہیں۔ ” جی ․․․․․ جی آپ نے کیا فرمایا۔ ابھی تک شعیب اختر کے بارہ بجے ہوئے ہیں؟ چلیں آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔


لاہور پولیس نے تو اس عظیم الشان محاورے کاعملی طور پر ثبوت پیش کردیا ہے اور حکومت نے ہیلمٹ پہننے پر موٹرسائیکل چلاتے ہوئے جو پابندی عائد کی ہے اور پنجاب پولیس کے جوانوں نے جس قدرسختی کرکے ہیلمٹ جون جولائی کی شدید ترین گرمی میں بھی لوگوں کے سروں پر چپکا دیا ہے اس سے تو یہ محاورہ بہت ہی پیارا سالگنے لگا ہے۔ موٹرسائیکل ہیلمٹ پہن کر چلانے والوں کے بارہ بجے ہوئے ہیں جب کہ پولیس اہلکار بغیر ہیلمٹ ہی موٹر سائیکل چلاتے دکھائی دیتے ہیں۔

شاید ان کے بغیر ہیلمٹ پہنے ہی ․․․․․ ؟؟ آپ خود سمجھیں اور خود ہی غور کریں اور مطلب نکال لیں ” مجھے تو مرحوم عبیرابوذری کا وہ بدنام زمانہ شعر یاد آرہا ہے ۔
پلس نوں آکھاں رشوت خور تے فیدہ کی
پیچھوں کردا فیراں ٹکور تے فیدہ کی
نئے بلدیاتی انتخاب ہونے والے ہیں سابقہ ناظمین کے بارہ بج چکے ہیں جبکہ اس دوڑ میں شریک نئے نابالغ سیاستدان جوشوق شوق میں ان انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پر تول رہے ہیں دھڑا دھڑ دیواریں کالی کررہے ہیں۔

انہوں نے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول دئیے ہیں اور الیکشن جیتنے کی تیاری میں مصروف دکھائی دیتے ہیں ۔ پتہ تو پھر لگے گا جب لمبے نوٹ بھی خرچ ہوجائیں گے۔ گھر گھر جا کر ووٹ بھی مانگنے پڑیں گے لوگوں کے نخرے بھی سہنے پڑیں گیا اور رزلٹ بھی اگر مرضی کا نہ آیا تو پھر بارہ تو بج ہی جائیں گے؟
آج کل پراپرٹی کے کام میں بہت زیادہ مال لگانے ‘ بہت زیادہ پیسے کمانے اور پھر دھڑا م سے نیچے آجانے والوں کے بھی بارہ بج چکے ہیں۔


اس محاورے کے حوالے سے بہت کچھ لکھ چکا ہوں یہ واحد مضمون ہے جو میں لکھتا جارہاہوں مگر کچھ یاد نہیں آرہا ہے کہ کیا لکھ چکا ہوں کیونکہ بہت عرصہ بعد شہر لاہور سے باہر بسلسلہ ملازمت تبدیل ہو کر جانا پڑا اور یوں چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ دوستوں سے دور شہر لاہور سے جدا ہونا بھی عجیب ساعمل ہے۔ اب میں مزید نہیں لکھ پارہا۔ کیونکہ میری آنکھیں بند ہورہی ہیں۔ عقل جواب دے رہی ہے‘ کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ کیونکہ لوڈشیڈنگ ہوچکی ہے۔ بجلی بند ہونے سے پہلے گھڑی پر میری نظر پڑی تھی جہاں پورے بارہ بج چکے تھے۔ رات کے ․․․․․ خداحافظ

Your Thoughts and Comments