Mian Aalo

میاں آلو

جمعرات جنوری

Mian Aalo
شفیقہ فرحت
اور کیوں نہ آئے۔ آلو تو سبزیوں اور زردیوں کا غالب اور اقبال ہے۔کھیت سےلےکرCold Storageتک، اور ٹھیلے سے لے کر کھانے کی میز تک۔ یا اس تیہری ان دن جھلنگاچارپائی تک جو بیک وقت آپ کے ڈرائنگ روم ڈائینگ روم اور بیڈ روم کے خوش گوار اور ناخوش گوار فرائض انجام دیتی ہے، جدھر نظر ڈالیے۔ بس وہ ہی وہ ہے۔
نقش فریادی ہے اُس کی شوخیٔ تحریر کا
آلوئی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
بس آلو ہی ایک حقیقت ہے۔

باقی سب دھوکا—ایک اسی کو بقا ہے۔ باقی سب فانی—۔
اور سب سبزیاں تو بجلی ایک گوند گئی آنکھوں کے آگے کے مصداق اپنی ایک ڈیڑھ جھلک دکھلا کے روپوش ہوجاتی ہیں۔ مگر میاں آلو ہیں کہ سال کے بارھوں مہینے اسی جمال وجلال کے ساتھ جلوہ آرا ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)


خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو
وہی ہم ہیں۔ آلو ہےاورماتم مال ترکا
اور صاحب بارہ کیا اگر سال میں پندرہ اور اٹھارہ مہینے بھی ہوتے تب بھی ‘‘اہل جہانی’’اسی شان سے ڈٹے رہتے کہ
دن ہوا پھر آلوئے رقصندہ کا درکھلا
اس تکلف سےکہ گویا بت کدےکا درکھلا
جانے کس فرشتے نے دھاندلی کرکے کچھ ایسے فولادی عناصر حجر سے آلو کو تخلیق کیا کہ برستا پانی۔

کڑکتے جاڑے اور جھلستی دھوپ بھی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ اور جانے کس برانڈ کا آبِ حیات پیا ہے کہ ہم جنوں کے مقابلے میں عمرِخضر حاصل ہوگئی ہے۔ اور ہر دم ۔‘‘موت ہے اس پر دام’’ والا منظر پیش کرتا رہتا ہے۔
آلو نہ ہوا حضرت اقبال کا مردِکامل،بچوں کےرسالوں کا ٹارزن اور ہندوستانی (سفارتی تعلقات کی خوشگواری کی بنا پر پاکستانی بھی—) فلموں کا ہیرو ہوگیا—اور سچ تو یہ ہے کہ یہ فلمی ہیرو کی طرح کارسازبھی ہےاورکار آفریں بھی— اور مشکل کشا بھی— بگڑی کو بنانے والا— ڈوبتے کو بچانے والا— بے کس کا سہارا— بے بس کا کنارا—!
جب بے موسم کی بارش اور موسم کے اولوں کی طرح مہمان آپ کو ایصال ثواب کا موقع عطا کرتے ہوئے عذاب بن کر نازل ہوجائیں— اور فرار کے سارے راستے مسدود اور بازار کی ساری دکانیں بند ہوجائیں— اور آپ کے لیے اپنی پس ماندہ عزت اور مہمانوں کے لیے اپنی باقی ماندہ جان بچانی مشکل ہوجائے۔


اس وقت یہی آلو اپنی بے رنگی سے آپ کے دسترخوان پر رنگ اور مہمانوں کے دل میں ترنگ بھردے گا۔ تب آپ کو احساس ہوگا کہ آلو کے مقابلے میں آپ کی اپنی حیثیت و شخصیت کس درجہ حقیر ہے۔ اور پھر آلو سے اپنے سفارتی تعلقات خوشگوار بنانے کی خاطر اس پر لگائے گئے تمام الزامات نہ صرف واپس لے لیں گے بلکہ ایک پریس نوٹ جاری کریں گے۔ کہ
جز آلو اور کوئی نہ آیا بروئے کار
اور ایک پریس کانفرنس بلا کے آلو چپس، آلو ٹکیہ، آلو چھولہ کھلاتے اور کھاتے ہوئے یہ فیصلہ صادر کریں گے۔

کہ
آلو سے طبیعت نے زیست کا مزہ پایا
اور یہ کہ
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
نہ ہو آلو تو جینے کا مزہ کیا
ویسے آف دی پریس حقیقت یہ کہ میں نے آج تک کسی کو۔ سوائے آلو فروشوں کے آلو سے دل چسپی لیتے نہیں دیکھا—! مگر خیر— یہ آپ کا عشق ہے۔ اور عشق بے زور نہیں— لہٰذا اگر آپ کا یہ عشق اسی فلمی اور قلمی رفتار سے بڑھتا رہا تو ممکن ہے کسی دن آپ بڑی مسجد کے ملاّ جی کے پاس ننگے پیر یا باتھ روم سلیپر سٹکائے، دوڑے چلے جائیں۔

اور ان کی شُمالاً جنُوباً اور شرقاً غرباً لہراتی ہوئی براق داڑھی کی قسم دے کے پوچھیں۔ کہ—
ستائش گر ہے زاہد اس قدر تو جس باغ رضواں کا
تو کیا اس باغ عرف جنت میں آلو کی کیاریاں اور بوریاں بھی ہیں یا نہیں—؟ ورنہ ہم مفت میں کیوں پارسائی کے اتنے پاپڑ بیلیں—!
ویسے آلویات کے صحیح اور اصل مراکز ہوٹل اور ہوسٹل ہوا کرتے ہیں— یہ چاہے کھلن مرگ اور سون برگ میں ہوں یا کنیا کماری میں—، میگھالیہ میں ہوں یا گجرات میں۔

ماہرِآلویات اپنی آلو شناسی کے ایسے ایسے نمونے پیش کریں گے کہ ہر کھانے والا بہ رقت و دقت یہ شعر پڑھتا ہوا ڈائیننگ ہال سے نکلے گا۔
ہال میں پھر آلو نے ایک شور اٹھایا ظالم
آہ جو برتن اٹھایا سواس میں آلو نکلا
ان مقامات آہ و فغاں میں بشرط استواری ہردن و ہررات کا مینوآلو ہی ہوتا ہے—! یعنی آلو پراٹھا۔ آلو پلاؤ۔ آلو چلاؤ۔

آلو گوبھی۔ آلو مٹر۔ آلو ٹماٹر۔ آلوبیگن۔ آلو سیم۔ آلو گوشت۔ آلو مچھلی۔آلو مرغ۔یا پھر آلو آلو۔ مثلاً آلو دم۔ آلو بے دم۔ آلو رائیتہ۔ آلو حلوہ۔ آلو کھیر۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ وغیرہ۔ وغیرہ
اور ان جناب ننھے منے۔ گول سڈول آلوؤں کا کیا کہنا جوہری دھنیہ کی چٹنی کے ہرے ہرے تالاب میں بڑے اطمینان سے ڈبکوں ڈبکوں کر رہے ہوں—!
ان کی اب تک کی کارگزاریوں سے یہ اندازہ بخوبی ہوگیا ہوگا کہ آپ دل بدلنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

اور بہروپیا تو ایسا ہے کہ میدان سیاست کے پہنچے ہوئے بزرگوں کی بزرگی خطرے میں پڑجائے—!
یوں بھی اس بے گُن میں پیشہ ور نیتاؤں کے سارے گن موجود ہیں۔ اوپر سے کھدر دھاری اندر سے کاروباری۔ وہی مسکینی۔ وہی خاکساری۔ اور انھیں کی طرح ہر معاملے میں دخل اور ہر جگہ پہنچ رکھتے ہیں۔
پر بھائی صاحب تحصیل کچہری کے پھاٹک کے باہر خوانچہ میں بھی بڑی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

اور بڑی فراخ دلی سے مفلس نادار پردیسی گواہوں کی شکم پری کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اور اشوکا ہوٹل کی جھل مل جھل مل میزوں پر گزگ بن کے—
تو بھائی جان—یہ خوانچہ نشیں آلو— اشتراکی آلو ہیں— اور پوری بھنڈار میں پوری کے ساتھ مفت میں ملنے والے جمہوری آلو— اور اشوکا کی میز پر جلوہ افروز شاہی آلو— آلو چاہے شاہی ہو یا اشتراکی ایک کر کراہٹ اس کی ادائے خاص ہے۔

جس کے لیے اس میں ہر خاص و عام گلے گلے ڈوب جاتا ہے—!
یہ تو حضور—سارے کے سارے وہ آلو ہیں۔ جنھیں ہم آپ (اور آلو فروش بھی) میدانی اور پہاڑی کہتے ہیں۔
اور جس طرح کسی زمانے میں خربوزے کو دیکھ دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑا کرتا تھا— اسی طرح آج ان میدانی اور پہاڑی آلوؤں کی ہمہ گیر آلویت کو دیکھ کر کچھ شہری آلو بھی نہ صرف پیدا ہونے لگے ہیں—بلکہ رنگ بھی پکڑتے جاتے ہیں۔

اور ڈھنگ بھی—!
شہری آلو— چاہے میدانی اور پہاڑی آلو کی طرح گول مٹول نہ ہوں۔ مگر لڑھکتے انھیں کی طرح ہیں— ادھر بھی— ادھر بھی— تھالی کے اندر بھی— اور تھالی کے باہر بھی—!
جس طرح طلسم ہوش ربا کی پریوں اور دیووں کی جان کسی طوطے۔ کسی مینا میں بند ہوتی تھی۔ اسی طرح آج کے بازیگروں کی جانیں بھی انھیں آلوؤں میں اٹکی رہتی ہیں۔ پھر وہ انھیں محبت پاش اور محبت باش نظروں سے دیکھتا ہے۔

پھر اشارے کنائے ہوتے ہیں۔ نذرو نیاز ہوتی ہے— اور یہ بظاہر بے نیازی کا ثبوت دیتے ہیں۔ مگر دل ہی دل میں اپنے غیر اہم وجود کی اہمیت کا احساس سے خوش ہوتے ہیں۔ اور بات کے بات بگڑتے اکڑتے رہتے ہیں۔ آخر کار مناسب طور سے کسی گوبھی،کسی ٹماٹر کسی مٹر کے ساتھ مل کر ہنڈیا پکاتے ہیں۔ اور دسترخوان سجاتے ہیں۔ ویسے یہ کچھ بھی نہیں۔ مگر گوبھی ٹماٹر مٹر کے ساتھ سب کچھ ہیں۔

اور گوبھی ٹماٹر مٹر بھی اس راز سے بخوبی واقف ہیں کہ آلو کے بغیر بہت کچھ بننا مشکل ہے۔ اسی لیے تو
شمار آلو مرغوب بت مشکل پسند آیا
لہٰذا دونوں طرف کا جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا جائے—!
آلوؤں کی یہ قسم بڑی عقلمند—خودشناس اور جہاں دیدہ ہے— اسی لیےبھاؤ بڑھے ہیں— اور راوی ان کی قسمت میں تحسین بحروف، سنہری وروپہلی لکھتا ہے—!
نگاہ آلو شناس ان کے علاوہ بھی قسم قسم کے آلو دیکھ لیتی ہے۔

آلو کی طرح گول مٹول۔ آلو ہی کی طرح مرنج و مرنجاں اور مسکیں۔ یہ اوروں سے بے تعلق۔ اپنے سے بے خبر۔ نہ کسی کا حساب چکانا نہ کسی کو حساب دینا۔ نہ دوستی نہ دشمنی۔ نہ لاگ نہ لگاؤ۔ چہرے پر ایسی ملکوتی حماقت (جسے مہذب زبان میں حماقت بھی کہا جاتا ہے—!) جیسے ابھی ابھی کسی ملک کی بادشاہت کا تاج مرصع آپ کے سرمبارک پر رکھا جانے والا ہو—! سیاست کے Super Bazarمیں ان کی قیمت ایک سوت کی انٹی سے زیادہ نہیں لگتی۔

کہ ان کے ہاتھ میں نفع نقصان کا ترازو نہیں—! لہٰذا انھیں محض آلو کے بجائے ابلا آلو کہنا زیادہ مناسب ہوگا—!
شہری آلوؤں میں، سماجی آلو کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے بغیر اندرون شہر و بیرون شہر کی کوئی تقریب مکمل نہیں ۔ وہ چاہے انڈوبرمی مشاعرہ ہو یا مذاکرہ—اکنومک کانفرنس ہو یا مرغی کانفرنس —قطب شمالی کے اٹسٹکی برف سے بنائی تصویروں کی نمائش ہو یا ےکانگو کا قومی ناچ— چینی موسیقی کی محفل ہو یا کہیں ادیبوں کی نشست۔

یا تاج المساجد سے ٹول والی مسجد تک کسی کا بھی،’’مابین عصرومغرب’’والا پروگرام ہو۔ آپ آلو کی طرح نہ صرف وہاں موجود ہوں گے بلکہ داد۔بے داد۔ انتظام۔ انتشار ہر ایک کا پورا پورا حق ادا کریں گے—!
اور معززین شہر میں سے چاہے جس کا انتقال پر ملال ہوا ہو۔ وہاں بھی آپ اپنے چمکیلے سجیلے آنسوؤں سمیت نظر آئیں گے۔ اورتجہیزوتکفین کےسارے انتظامات اپنے ہاتھ میں لےلیں گے۔

اور یوں جذبۂ بے اختیار شوق کے ساتھ زندہ اور مردہ دونوں کی عاقبت اور عافیت تباہ کریں گے گویا مرحوم کے اصل وارث آپ ہی ہیں—!
یوں انھیں کسی بلاوے کی حاجت نہیں۔ مگر دست غیب سے وہ ہر جگہ کے دعوت نامے حاصل کر لیتے ہیں۔ ہر شہر میں ان کی بہتات ہے۔ اور شاید ٹکے سیر بھی مہنگے ہوں۔ بلہگ سرمۂ مفت نظر کی طرح چشم خریدار پر ہی احسان ہوگا۔ مگر یہ ہیں بڑے کام کی چیز۔


ہال کی خالی کرسیاں ان کے وجود سے بہ آسانی چھپ جاتی ہیں۔ اور وہ آل انڈیا کانفرنسیں۔جن میں سامعین کی تعداد مقررین اور منتظمین کی مجموعی تعداد سے ایک نفر بھی زیادہ نہ ہو— اور وہ آل انڈیا کے بجائے آل محلہ بھی نہ معلوم ہوتی ہوں— وہاں انھیں کے دم سے (دسترخوانی آلوؤں کی طرح) رونق لائی جاتی ہے—! اور کہیں کہیں تو فتح و شکست کے فیصلے بھی انھیں کی ذات بے برکات سے ہوتے ہیں لہٰذا یہی کہنا پڑتا ہے۔
آپ بے بہرہ ہے جو معتقد آلو نہیں

Your Thoughts and Comments