Mukaalma

مکالمہ

جمعرات 31 دسمبر 2015

ایس،ایم ظفر:
آج کل علم تاریخ یہ بحث چل نکلی ہے کہ اس کاانسان کوبالکل کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔دوسرانظریہ یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعے سے حال اور مستقبل کوسنواراورماضی سے ایک سبق حاصل کیاجاسکتا ہے۔
اوڈلف ہٹلرنے برلن کے تہہ خانے میں اپنی زندگی ختم کرنے کافیصلہ کرہی لیا،لیکن گولی چلانے تک اسے ایک موہوم سی امیدتھی کہ جرمن قوم کسی نہ کسی دن نہ صرف سارے یورپ کی املک ہوگی بلکہ دنیا کے بیشترحصے پراس کاتسلط اور تصرف ہوگا۔


جسدخاکی سے آزادہونے کے بعدہٹلرروح کی ہیئت میں کرہ ارض سے دورکائنات میں گھوم پھر رہاتھاکہ اتنے میں ایک ننھے مگر مضطرب سیارے پرپنجاب سے آئے ہوئے چودھری رحمت علی سے ملاقات ہوگئی۔اس سیارے میں بسنے والی روحوں نے چودھری صاحب کو”پاکستان والا“ کانام دے رکھاتھا۔

(جاری ہے)

جس کی ایک وجہ یہ تھی اوروہ یہ کہ چودھری صاحب کی پاکٹ میں ہروقت ایک نقشہ موجودہوتا تھا۔

جس پرپاکستان لکھاہواتھااور محفل میں گفتگوخواہ کسی موضوع پرہو۔چودھری صاحب پاکستان کی ہی لے آتے اور اگرسننے والا ذراسی دلچسپی لیتاکوئی سوال اس سلسلے میں پوچھ لیتاتوپھرکیاتھا۔چودھری صاحب کے وارے نیارے ہوجاتے اور وہ سامعین کواپنی جیب سے پاکستان کانقشہ نکال کرضرور کھاتے۔
ارواح کے اس ہوسٹل میں چندعجیب اصول کارفرماتھے۔پہلایہ کہ ہرشخص اپنی مادری زبان میں گفتگوکرتاتھالیکن سننے والااسے پوری طرح (بغیرترجمے کے)سمجھ لیتاتھااور بلاتکلف اپنی زبان ہی میں اس کاجواب دیتاتھا۔


دوسرااصول اس سے بھی عجیب تھااور وہ یہ کہ جوشخص جس لمحے اپنے جسم سے آزادہوجاتاتھا وہ اس لمحے کے بعدکے واقعات سے بے خبررہتاتھااور اگرکوئی دنیاسے نیاآنے والاکے واقعات کاذکرکرتا تو وہ ذہن نشین نہ ہوتاتھایعنی کہ بالکل رجسٹرنہ ہوتاتھا۔
اس ماحول میں اوڈلف ہٹلراور چودھری رحمت علی کے درمیان ایک گفتگوخفیہ ٹیپ ریکارڈرپرسنی گئی۔

دراصل اس سیمابی سیارے پرجوروحیں اکٹھی ہورہی تھیں ان کے متعلق خصوصی انتظامات ضروری سمجھے جاتے تھے۔اس ریکارڈکی گئی گفتگوکاخلاصہ انتظامیہ کے سربراہ کے روبروپیش ہوا۔رپورٹ کچھ اس طرح سے تھی۔
اوڈلف ہٹلر:میں اس بات پریقین رکھتاہوں کہ آرین قوم تمام دنیا پرحکومت کرے گی اور میرے اندازکے مطابق وہ اس وقت آدھی دنیاکے مالک بن چکے ہوں گے۔


چودھری رحمت علی:یہی بات میں پاکستان کے بارے میں کہتاہوں۔
اوڈلف ہٹلر(جواس نام پاکستان سے پوری طرح واقف نہ تھا چونکا لیکن یہ پاکستان کیاہے)۔
چودھری رحمت علی نے فوراََجیب سے ایک نقشہ نکالااور ہٹلرکووہ پاکستان دکھایاجس میں پورا پنجاب‘سارے کاساراکشمیر‘سندھ‘سرحد اور بلوجستان شامل تھے اور کہایہ ہے پاکستان۔
اوڈلف ہٹلر نے اس نقشے کوبغوردیکھااور مسکرایااور کہاکہ یہاں کے لوگ انگریزون کے غلام تھے۔

اپناملک گھرباراور آرام چھوڑکرانگریزوں کی خاطرہم سے لڑنے آئے تھے۔ویسے وہ بہادرلوگ تھے۔
چودھری رحمت علی:میں نے اسی لیے انگریزوں سے آزادی کے حصول کے لیے ایک نیاملک بنانے کی سکیم دی تھی۔مجھے امیدہے کہ اب تک انہوں نے اپنا ملک بنالیاہوگا،اور آدھے ایشیاء پران کادبدبہ ہوگا۔(چودھری صاحب نے ہٹلرکے جذبات کاخیال رکھتے ہوئے صرف ایشیاء کانام لیا)
اوڈلف ہٹلر:یہ نئے ملک والی بات بڑی عجیب ہے۔

نیاملک کیسے بن سکتاہے اور کیوں؟
چودھری رحمت علی: جب ایمان کی قوت ہوتوسب کچھ ہوسکتاہے۔پھرجب کوئی نئی چیزقائم کی جائے تووہ ماضی کے بوجھ سے آزادہوکرجلدکامیابی حاصل کرسکتی ہے۔
اوڈلف ہٹلر:آپ کی گفتگوبڑی مزے دارہے لیکن معلوم ہوتاہے کہ زیادہ وقت خواب دیکھتے ہیں۔
چودھری رحمت علی:آپ نے بھی توآرین برتری کاخواب دیکھاتھا۔
ان دونوں کی گفتگوسن کی منتظمین نے فیصلہ کیاکہ ہردوماہ کے لیے کرہ ارض موت کے بعد کے واقعات معلوم کرنے کے لیے بھیجاجائے کیونکہ انتظامیہ کے ایک ایکسپرٹ کایہ خیال تھاکہ تاریخ سے انسان زندگی میں توسبق نہیں لیتالیکن شایدبعد ازاں تاریخ سے کوئی فائدہ پہنچ سکے۔


دونوں حضرات1948ء کی ایک شام دنیامیں آئے اور باوجودیکہ انہیں ایک ماہ تک حالات کاجائزہ لینے کی اجازت دی گئی تھی اور خیال تھاکہ اپنی اپنی جگہ پرجاکرکئی کئی دن مختلف مقامات پرٹھہریں گے،لیکن دونوں ہی ایک ہفتے کے اندراندردنیاسے واپس آگئے اور دونوں کی راستے میں پھرملاقات ہوگئی۔اس مرتبہ پھران کی گفتگوریکارڈپرسنی گئی۔
اوڈلف ہٹلر:میں نے خودکشی درست کی تھی۔


چودھری رحمت علی:میرااس وقت خودکشی کرنے کوجی چاہتاہے۔
اوڈلف ہٹلر:چودھری صاحبً!جرمن قوم اب جرمن قوم نہیں رہی۔
چودھری رحمت علی:جوپاکستان میں دیکھ کرآیاہوں وہ میراپاکستان نہیں۔
اوڈلف ہٹلر:میراملک تقسیم کردیاگیاہے دوجرمنی بن گئے ہیں سوچئے تودوجرمنی یہ کیساغضب ہوا۔
چودھری رحمت علی:(جیب سے نقشہ نکال کر)آپ دیکھیں پنجاب اور کشمیرکٹے ہوئے ہیں۔

یہ کیسا پاکستان ہے۔
اوڈلف ہٹلر:جرمن قوم نے اپنے ملک کادفاع دوسرے کے حوالے کردیا۔
چودھری رحمت علی:پاکستان کی دفاعی قوت․․․؟
اوڈلف ہٹلر:یہودی جوبزدل تھے اور صرف گھٹیاں طریقوں سے لین دین کیاکرتے تھے۔جن کی جان ذراسی دھمکی سے ہواہوجاتی تھی۔
اب ان کاایک ملک ہے۔فوج ہے اور وہ جنگیں بھی لڑتی ہے۔
چودھری رحمت علی:ہندوبنیاجو”مسلے“ کے سائے سے بھی ڈرتاتھااب پاکستان کودھمکاتا اور اس پررعب بھی ڈالتاہے۔


اوڈلف ہٹلر: جرمن قوم کے دانشوروں نے مجھے اپنی تاریخ ہی سے حذف کردیاہے۔
چودھری رحمت علی:مجھ پرتوچند دانشوروں نے انگریزوں کاآلہ کارہونے کاالزام لگادیا۔
اوڈلف ہٹلر:جرمن قوم کوپیسہ بنانے‘چھٹیاں کرنے اورعیش وعشرت کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔
چودھری رحمت علی:پاکستان میں بھی دوچھٹیاں کردی گئی ہیں اور لوگ اپنا معیارزندگی بلندکرنے کے لیے سمگلنگ اور رشوت کوملک کی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔


اوڈلف ہٹلر:کیامیراخواب غلط تھا؟
چودھری رحمت علی:اور اب میں کیاکروں؟
اس کے بعد ٹیپ ریکارڈرپرنہ سمجھ آنے والی سرگوشیوں کی آوازیں آتی ہیں اور درمیان میں دونوں کی زبان سے انقلاب !انقلاب!ریزولیوشن! کی آواز سنائی دیتی ہے۔
سیارے میں پہنچ کردونوں حضرات نے انتظامیہ کوپھردرخواست کی کہ انہیں دنیا میں واپس جانے کاایک اور موقع دیاجائے مگراب یہ درخواست منظور نہیں ہوئی۔

Your Thoughts and Comments