بند کریں
مزاح مزاحیہ ادب منشی جی کی بکری

مزید مزاحیہ ادب

- مزید مضامین

مزید عنوان

منشی جی کی بکری

منشی جی جانکار تھے برسوں سے باپ کے
چلتے تھے دو قدم بھی بہت ہانپ ہانپ کے
دوچار درجے پاس تھے بس ٹیپ ٹاپ کے
انگریزی بولتے تھے مگر تول ناپ کے
بکری جو ایک پالی تھی کھاتی تھی باجرہ
نام اس کا پہلی بیوی پہ رکھاتھا ہاجرہ
ہرنی کی جیسی آنکھ تھی مستانہ چال تھی
منشی کے دودھ پینے کو وہ مالامال تھی
بکرے گلی کے اُس پہ نظریوں لگائے تھے
کہ اس کی راہ میں سبھی آنکھیں بچھائے تھے
لونڈے بھی اس کی تا ک میں رہتے تھے یوں سدا
کہ جیسے بھاگئی ہو اُنہیں بھی کوئی ادا
منشی کے گھر سے ہاجرہ غائب جو ہوگئی
سب کو لگا کہ منشی کی قسمت ہی سو گئی
صدمے سے منشی اس قدر بے حال ہوگئے
لگتا تھا جیسے مال سے کنگال ہوگئے
تصویر ہاجرہ کی مگر ان کے پاس تھی
مل جائے گی ضرور یہی اُ ن کو آس تھی
پھرتے تھے کو چے کو چے وہ تصویر کو لئے
گویا کہ اپنے ہاتھوں میں تقدیر کولئے
پوچھا کہ ہاجرہ تری بیوی کا نام ہے
فرما یہ تو آقا کا ادنی غلام ہے
پوچھا سبھی نے منشی جی ہے کیا یہ ماجرا
کہنے لگے کہ چھوڑ گئی مجھ کو ہاجرا

(2) ووٹ وصول ہوئے