Munshi Jee Ki Bakri

منشی جی کی بکری

منگل اگست

Munshi Jee Ki Bakri

منشی جی جانکار تھے برسوں سے باپ کے
چلتے تھے دو قدم بھی بہت ہانپ ہانپ کے
دوچار درجے پاس تھے بس ٹیپ ٹاپ کے
انگریزی بولتے تھے مگر تول ناپ کے
بکری جو ایک پالی تھی کھاتی تھی باجرہ
نام اس کا پہلی بیوی پہ رکھاتھا ہاجرہ
ہرنی کی جیسی آنکھ تھی مستانہ چال تھی
منشی کے دودھ پینے کو وہ مالامال تھی
بکرے گلی کے اُس پہ نظریوں لگائے تھے
کہ اس کی راہ میں سبھی آنکھیں بچھائے تھے
لونڈے بھی اس کی تا ک میں رہتے تھے یوں سدا
کہ جیسے بھاگئی ہو اُنہیں بھی کوئی ادا
منشی کے گھر سے ہاجرہ غائب جو ہوگئی
سب کو لگا کہ منشی کی قسمت ہی سو گئی
صدمے سے منشی اس قدر بے حال ہوگئے
لگتا تھا جیسے مال سے کنگال ہوگئے
تصویر ہاجرہ کی مگر ان کے پاس تھی
مل جائے گی ضرور یہی اُ ن کو آس تھی
پھرتے تھے کو چے کو چے وہ تصویر کو لئے
گویا کہ اپنے ہاتھوں میں تقدیر کولئے
پوچھا کہ ہاجرہ تری بیوی کا نام ہے
فرما یہ تو آقا کا ادنی غلام ہے
پوچھا سبھی نے منشی جی ہے کیا یہ ماجرا
کہنے لگے کہ چھوڑ گئی مجھ کو ہاجرا

Your Thoughts and Comments