Nigran Hakomat Ki Nigraniyaan

نگران حکومت کی نگرانیاں

بدھ اکتوبر

Nigran Hakomat Ki Nigraniyaan
سید عارف نوناری
پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ غیر جانبدارانہ،منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرکے نگران حکومت نے عوام سے بھی داد وصول کی ہے اور عوام نے اس بات کو کھلے دل سے قبول کیا ہے کہ اس سے پہلے اتنے شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات منعقد نہیں ہوئے۔قبل ازیں انتخابات کے انتظامات بھی اتنے برے نہیں ہوئے ہیں۔غیر ملکی مبصرین نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا ہے اتنا ضرور ہوا ہے کہ اس انتخاب سے تیسرا طبقہ یعنی غریب کو فوائد حاصل نہیں ہوئے ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ چاروں صوبوں اور وفاق میں وہی چہرے سامنے آئے ہیں سیاست جن کی عرصہ سے جاگیردار ہے۔وہی مسائل ہیں۔وہی چہرے اور وہی وزیراعظم بنیں گے جن کو قوم پہلے آزما چکی ہے اس انتخاب سے وہی سیاسی صورتحال پیدا ہوتی نظر آرہی ہے جو کہ 1971ء کے انتخابات میں ہوا تھا۔

(جاری ہے)

بے نظیر اپنی اکثریت کا دعویٰ کر رہی ہیں جبکہ نواز شریف اپنی اکثریتی پارٹی کے دعویٰ دار بنے ہوئے ہیں۔

صاف ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک پارٹی کی حکومت بنے گی۔بلکہ ہر ضلع میں نتائج قیاس آرائیوں سے الٹ برآمد ہوئے جہاں مسلم لیگی امیدواروں کے کامیاب ہونے کی توقع تھی وہاں پی پی پی کامیاب ہوئی جہاں پی پی پی کے امیدواروں کے کامیاب ہونے کی توقع تھی وہاں مسلم لیگ کامیاب ہوئی اور سابقہ روایات کی طرح امریکہ پاکستان کی سیاست میں براہ راست مداخلت کرے گا۔

نگران وزیراعظم معین قریشی کے پیچھے کن کی پشت پنا ہی ہے۔
اس دفعہ انتخابات منعقد کروانے کا منصوبہ کہاں بیٹھ کر طے کیا گیا۔دھاندلی ہوئی یا نہیں،یہ سب اس حکومت کے بعد ہی کوئی بتائے گا کہ دھاندلی ہوئی پاکستان کی یہ حالت ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد انتخاب کو منصفانہ قرار دے دیا جاتا ہے چند سال بعد یا چند ماہ بعد پتہ چلتا ہے کہ انتخابات منصفانہ ہوئے یا نہیں۔

ہاں اتنا البتہ ضرور ہوا کہ نگران حکومت نے ٹیلی ویژن میڈیا کو اتنی چھوٹ دے رکھی تھی کہ اس نے کسی کو بخشا نہیں اور”سٹوڈیو پونے تین“میں تو اگلی پچھلی تمام حکومتوں کے پول کھول دئیے گئے۔کیا انور مقصود،معین اختر کی نگرانی کرنے کے بعد ایسے ہی چلتے رہے یا ان کو اپاہچ بنا دیا گیا۔دیکھیں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخاب کا ان پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

منصفانہ انتخابات کے لئے تمام آفیسروں کو تبدیل کرنا اور سیاسی وابستگیاں ختم کرکے شکوک و شہبات دور کئے گئے تاکہ قوم انگلی نہ اٹھا سکے۔میڈیا استعمال کرنے میں بھی تمام لیڈرا ن کو برابر مواقع فراہم کئے گئے انتخابات میں ایک بات ضرور ہے کہ برادری سسٹم اور آزاد رائے کے ذریعہ ووٹ نہیں ڈالے گئے۔انفرادی رائے کی نسبت چودھری اور برادری سسٹم کے مطابق ووٹ ڈالے گئے اور امیدواروں کو منتخب کیا گیا۔


پاکستان میں عرصہ دراز سے ایسا سسٹم رائج ہے جس سے الیکشن کا مقصد فوت ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے وہی پرانے چہرے سامنے آتے ہیں ۔نواز شریف اور بے نظیر کی پارٹیوں کے علاوہ مسلم لیگ میں انتشار کی وجہ سے جو نیجو لیگ کا نام سن کر قیام پاکستان سے قبل جب شفیع لیگ علیحدہ ہوئی تھی وہی واقعات یاد آجاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت بنانے میں اصولوں کو مد نظر رکھا جائے تاکہ ہارس ٹریڈنگ نہ کی جائے۔

نواز شریف اور بے نظیر دونوں میں سے ایک نے حکومت بنانی ہے تو مقصد صاف ہے۔الیکشن کے بعد ایک چیز جو پہلے بھی ممبران میں ہے وہ یہ ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران الیکشن کمپین کے دوران اپنے حلقہ کا چپہ چپہ ناپتے ہیں جب وہ منتخب ہو جاتے ہیں تو پھر چپہ چپہ بھول جاتے ہیں اور اس طرح جمہوری حکومت کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں کہنے کو تو جمہوری حکومت بنتی ہے لیکن جمہوری و آزاد حکومت ہوتی نہیں اس لئے پاکستان میں انتخابات کے مقاصد پورے نہیں ہو پاتے اقتدار جاگیرداروں،سرمایہ داروں،زمینداروں کے پاس ہی رہتا ہے تیسرا طبقہ نمائندگی سے عرصہ دراز سے محروم چلا آرہا ہے اور محروم رہے گا جب تک طریقہ انتخاب میں تبدیلیاں لائی جائیں۔

نگران حکومت کے پہلے اور اب کے انتخاب میں اتنا فرق ضرور ڈالا ہے کہ انتخاب کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنا کر عوام کو شعور دیا ہے۔نگران حکومت کے دوران کی گئی اصلاحات اور تبدیلیوں کو سراہا گیا عوام میں سے نصف چاہتے ہیں کہ نگران حکومت ہی رہے کیونکہ اس نے تھوڑے وقت میں ایسے اقدامات کئے جو کہ منتخب حکومت ایک سال میں نہیں کر پاتی۔ امیدواروں پر پابندیاں عائد کیں جن سے معاشرہ کی اصلاح ہوئی دیگر باقی انتخابات میں تو صرف عوام کی سیاسی سوچ کو منفی رجحانات ملے۔

سیاسی قوتوں اور حرص و لالچ کی وجہ سے امیدوار لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں۔آخر یہ امیدوار لاکھوں روپے کیوں خرچ کرتے ہیں یہ لاکھوں روپے کیسے بعد میں پورے ہوتے ہیں۔اصل میں سیاست عوام کی خدمت کی بجائے تجارت بن گئی ہے اسی لئے ملک کے عوام کی ذہنی ترقی کئی سالوں سے رکی ہوئی ہے اور قوم ترقی نہیں کر رہی ہے۔اگر قوم و عوام کی ترقی درکار ہے تو صرف عوامی ذہنوں کو تبدیل کرنا ہے ورنہ ترقی میں جمود کئی سالوں سے جاری ہے اور جاری رہے گا۔

اقتدار کے لالچ میں ہمارے لیڈر قومی و جمہوری مفادات کو نظر انداز کر دیتے ہیں منتخب ہونے کے بعد باپ باپ نہیں رہتا۔عوام کو عوام تصور نہیں کیا جاتا۔بس ایک دفعہ منتخب ہو جائیں پھر حلقہ کی کیا اور علاقہ کے مسائل کی کیا!صرف اسمبلی کے زینوں تک پہنچنا ہی اصل میں مسئلہ ہوتا ہے۔ملک میں بے روزگاری ،افلاس اور بستیوں کے مسائل کو صرف جمہوری حکومت ہی حل کر سکتی ہے۔

Your Thoughts and Comments