Pakistan Ka Siyasi Dhancha

پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ

پیر نومبر

Pakistan Ka Siyasi Dhancha
سید عارف نوناری
پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ ایسی طرز کا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت یہاں سیاسی استحکام کم نظر آتا ہے اس کی بنیادی وجہ عوام میں سیاسی شعور کی کمی اور معاشرتی و اخلاقی روایات کا پروان نہ چڑھنا ہیں۔بھارت میں بھی سیاسی استحکام کی کمی اسی قسم کی ہے جیسا کہ پاکستان میں۔یہاں جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ان کا کوئی واضح نصب العین نہیں جس کی وجہ سے عوامی شعور نہیں اور سیاسی ڈھانچہ قائم نہیں ہوا۔

پاکستان کو چلانے کے لئے نمایاں قوانین نہیں ہیں۔اپوزیشن نے مثبت کم اور منفی کردار زیادہ ادا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت سیاسی مضبوطی کی وجہ سے پاکستان کے خلاف تحریک کو چلانے میں کامیاب رہتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں سیاست صرف سرمایہ داروں کی ہے۔حلقہ کا ایم پی اے حلقہ کو ریاست کی شکل دے رہا ہے طریق سیاست پھر دہرایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

سیاست میں سرمایہ دار عرصہ دراز سے موجود ہیں۔حتیٰ کہ انگوٹھا چھاپ سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے باصلاحیت غریب نوجوان سیاست میں نہیں آسکتے ہیں۔استحصالی نظام کسی نہ کسی طرح موجود ہے۔انصاف کا گلا دبایا جا رہا ہے۔عوام سیاست کی چکی میں پس رہی ہے۔خلفائے راشدین کے زمانے کو بھلایا جا رہا ہے۔بس اب ہماری سیاست ایسی ہی ہے۔

قیام پاکستان کے مقاصد کو بھلا دینا‘اصل اصولوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرنا‘اسلامی قوانین کو فرسودہ نظام اور موجودہ تقاضوں کے مطابق نہ تسلیم کرنا،ان تصورات و اصولوں کو چھوڑنے سے سیاسی استحکام ممکن نہیں بلکہ وہی نظام جو چودہ سو سال قبل تھا سیاسی استحکام و خوشحالی دے سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام کیوں نہیں قائم ہوا اس کی وجہ انتخابات کے طریقہ کار میں تبدیلی نہ ہونا ہے۔

عوام میں شعور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ مداری کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ذہنوں میں تبدیلی سے ہی ملک کے حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔دعویٰ تو کیا جاتا ہے کہ ملک تعمیری و حقیقی ترقی کی طرف رواں دواں ہے لیکن مسئلہ اس کے برعکس ہے۔وزیراعظم کا انتخاب‘صدر کا انتخاب‘قومی و صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب‘عدلیہ کا انتخاب بالکل غیر اسلامی و غیر حقیقی ہے‘اگر ملک میں اسلامی طرز پر انتخابات ہونا شروع ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک میں استحکام کے ساتھ ساتھ خوشحالی‘امور خارجہ میں بہتری اور مسائل سے نمٹنے کی قوت ابھر کر سامنے نہ آئے۔


جب حالات ایسے ہوں پھر سیاسی استحکام کیسا اور کیوں کر شکر ادا کریں ذرائع ابلاغ جوان کو قائم و دائم رکھے ہوئے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اور خلفائے راشدین نے زمانہ خلافت میں سیاسی استحکام اتنا تھا کہ ہر فرد و قوم کے مسائل سے آگاہ تھے۔طریقہ انتخاب جمہوری تھا اور دھاندلی جیسی چیز کا وجود بھی نہیں تھا۔لوگ تو چاہتے ہیں کہ ہمیں ویسا ہی نظام ملے۔


اسلامی عدل و انصاف حقیقی ترقی کا آئینہ ہے ہماری سیاست ایسی ہے کہ سرمایہ دار اکٹھے ہو کر سیاست پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں پاکستان میں انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو سلیکشن کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نمائندہ اپنے حلقہ کے مسائل سے ایسی سلیکشن کے بعد بھی باخبر نہیں ہوتے۔ اپوزیشن کی لیڈر بے نظیر ہی کو دیکھیں کیا تھی اور کیا ہو گئی ہیں جبکہ نصر اللہ خان ابھی تک اسی خیال میں گھوم رہے ہیں۔

یہاں جتنی بھی حکومتیں آئیں عوام کے مفاد کو تحفظ نہ دے سکیں‘عوام ہمیشہ ان سے غیر مطمئن رہے۔بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام بلکہ حکومت کے مسائل جوں کے توں رہے۔بنیادی ضروریات کو پروا نہ کیا گیا۔بے روزگاری پاکستان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ رہا جس کو عرصہ دو سال سے پابندی کی نظر کیا ہوا ہے۔حق تلفی کرنا ہر فرد اپنا حق تصور کرتا ہے جس کے لئے پاکستان میں انقلاب کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جبکہ عوام کا احساس حکومت کی سوچ میں نہیں ہے۔

ٹیلی ویژن‘ریڈیو اور اخبارات ہر حکومت کو پروان چڑھاتے اور اس کی ناکامیوں کو چھپاتے ہیں ذرائع ابلاغ کی غلط تشہیر کی وجہ سے موجودہ حکومت اور باقی حکومتیں بھی قائم ہیں۔وزیراعظم سیکرٹریٹ‘وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ‘ ایوان صدر میں ہر روز ہزاروں لوگ اپنے مسائل کو حل کروانے کے لئے دن رات چکر لگاتے ہیں۔لیکن ان کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں ۔حکومت اگر عوام کی بنیادی اور لازمی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔تو نتائج مثبت آسکتے ہیں۔اور پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ درست سمت اختیار کر سکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments