Peeja Kulfi Wala

پیجا قلفی والا

جمعرات اکتوبر

Peeja Kulfi Wala
 اعتبارساجد
گرمیوں کی چلچلاتی ہوئی دھوپ اور جھلستی ہوئی لُو میں ڈوبی ہوئی گلیوں میں ایک آواز اُبھرتی تھی ۔ کُپّی کُپّی کُپّی۔ “جب دور سے یہ آواز ہماری گلی میں آتی تو اونگھتے ہوئے چونک کر اٹھ بیٹھتے ہی دیکھتے ہی دیکھتے پیجا کلفی والے کے گردبچوں کا ہجوم جمع ہوجاتا ۔
پیجے کی آواز لکنت زدہ تھی ۔ ایک ہاتھ اورایک پاؤں پر فالج کا ہلکا سا اثر تھاچلتے ہوئے تھوڑا سا لنگڑاتا تھا۔

قلفی والے ڈبے کا ڈھکن دونوں ہاتھوں کی مدد سے کھولتا تھا۔ بہت کم بولتا تھا اسے صرف بچے سمجھ سکتے تھے۔ بڑوں کی سمجھ میں اس کی باتیں نہیں آتی تھیں ۔ اس لئے لوگ اسے جھانواں کہتے تھے ۔ بازاروں میں ہٹے کٹے مشٹنڈ ے فقیروں کو بھیک مانگتے دیکھ کر ہمیں فوراًپیجا قلفی والا یاد آجاتا تھا۔

(جاری ہے)

جو جسم اور زبان سے معذور ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا تھا۔

محنت کرتا اور گلی گلی گھوم کر قلفیاں بیچتا تھا۔ بچوں کے دل ٹھنڈے کرتا تھا۔ اسے دیکھ کر اکثر جی چاہا کہ پیجے کو کسی دن روک کر بیٹھک میں بٹھائیں یخ ٹھنڈے شربت کا گلاس پلائیں اور انٹرویو کریں ،مگر پیجا خالصتاًمحنت کش آدمی تھا۔ اسے محنت کرنے اور حق حلال کی کمائی سے غرض تھی ۔ انٹرویو کا مطلب وہ نہیں سمجھ سکتا تھا۔ ویسے بھی جس طرح لفظ ٹوٹ پھوٹ کر اس کی زبان سے نکلتے تھے وہ ہماری سمجھ میں نہیں آسکتے تھے ۔

وہ بلاناغہ ڈھائی تین بجے ہماری گلی میں آتاتھا۔ اور باقاعدگی کایہ عالم تھا کہ جس روز ہماری گھڑی میں کوئی خرابی ہوتی ہم اس کی کُپّی کُپّی سن کر اپنی گھڑی ٹھیک کر لیتے تھے ۔
ایک دن خلاف معمول پیجا نہیں آیا۔ اس روزہماری گھڑی ٹھیک نہیں تھی ۔ لہٰذا شام تک خراب ہی رہی ۔ شام کو پتہ چلا کہ گلی کے نکڑپر جو ایک پولیس والا رہتا ہے ۔ اس نے نیند خراب کرنے کی پاداش میں اس کی خوب ٹھکائی کی ہے اور آئندہ کے لیے گلی میں اس کا داخلہ بند کردیا ہے ۔

ہم نے محافظ قانون سے پوچھا کہ ایک معذور اور غریب کی پٹائی کرنے اور اس کی روزی پر لات مارنے کا انہیں کیا حق حاصل تھا؟
کہنے لگے ۔” بڑاہی ذلیل آدمی ہے جی۔ ہم دن بھر کے تھکے ہارے روٹی شوٹی کھا کر ادھر ذرا قیلولے کی نیت سے لیٹتے ہیں ، ابھی آنکھ لگنے ہی لگتی ہے کہ اس کی کُپّی کُپّی کُپّی نیند کا بیڑا غرق کردیتی ہے ۔ ایک دن دودن کی بات ہوتو آدمی صبر کرے۔

یہ تو روز کا ڈرامہ ہے ۔“
ہم نے کہا ۔” بہرحال آپ نے زیادتی کی۔ مظلوم ساآدمی تھا۔پیار سے سمجھا دیتے ۔ مارپیٹ اور داخلہ بندی کی کیا ضرورت تھی ؟ “
بولے۔ ” پیارے بہت سمجھایا جناب۔ اس کے پلے کوئی بات ہی نہیں پڑتی۔ اس نے جو بکواس کی اس کا مفہوم یہ نکلتا تھا کہ ڈھائی تین بجے سے پہلے وہ اس اگلی میں نہیں آتا تھا․․․․․اور اس نے اپنے روٹ مقرر کررکھے تھے ۔

ہرروٹ پراپنے مقرر ٹائم پر پہنچتا تھا۔ اس گلی کی باری ڈھائی تین بجے آتی ہے ۔ اس سے پہلے نہیں ۔ بس جناب اس بات پر غصہ کھا کر میں نے اس کی پھینٹی لگائی۔ انشاء اللہ اب وہ ادھر کارخ نہیں کرے گا اور آپ بھی میری طرح سکون سے سوسکیں گے ۔ “
محافظ قانون سے ہمارے مزید مکالمات بھی ہوئے، جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے دن سے ہماری ان سے علیک سلیک اور بول چال بند ہوگئی۔

پیجے قلفی والے کا داخلہ تو بند ہوا۔ لیکن گدا گروں اور دیگر پھیری والوں کا داخلہ بند نہیں ہوسکا۔ جس کا جی جب چاہتا میگا فون آن کرکے یا حلق کاپورازور لگا کے یا ٹین کنستر کھڑ کا کے اپنی چیزیں بیچتا تھا۔ ایک طرح سے ہماری گلی پھیری والوں کا ہائیڈپارک تھی۔ یہاں ہر شخص کو گلی سڑی سبزیاں، ٹینڈے، ٹماٹر، خربوزے، آم، لوکاٹ، پتیسے ، دال سویاں اور ٹافیاں بیچنے اور حلق کا پورا زور لگا کے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کھلی چھٹی تھی۔

ہمارے پڑوسی پولیس والے نے نہ اس پر کوئی اعتراض کیا نہ کسی کی پھینٹی لگائی نہ کسی کاگلی میں داخلہ ممنوع قراردیا۔ اس پر ہمیں حیرت ہوئی تھی کہ قانون کے محافظ کا سارا نزلہ ایک غریب معذور اور شریف آدمی پر کیوں گرا؟ دوسروں پر انہوں نے نظر عنایت کیوں نہ ڈالی ۔جبکہ پیجے کے پاس نہ کوئی دستی لاؤڈسپیکر تھا۔ نہ اس کی آواز اونچی تھی۔ چونکہ محافظ صاحب سے ہماری بول چال بند ہوچکی تھی ۔

لہٰذا ان سے تو کوئی استفسار کرنہیں سکتے تھے۔ البتہ ساتھ والی گلی میں ایک دن پیجا قلفی والا کُپّی کُپّی کرتا نظر آیا۔ بیچارے کے چہرے پر چوٹوں کے نشانات تھے۔ آواز بھی سہمی سہمی تھی اور چال میں بھی لنگڑاہٹ پہلے سے زیادہ تھی ۔ ہم نے اسے روک کر علیک سلیک کی۔ مصافحہ کیا۔ حال چال پوچھا اور آخر میں سوال کیا کہ دوپہر کو تقریباًسبھی پھیری والے آتے ہیں ۔

اس پر بین کیوں لگ گیا ہے ۔ پیجے نے لکنت زدہ زبان سے جو کچھ کہا اس کا اردو ترجمہ حاضر خدمت ہے۔
”بات یہ ہے باؤجی کہ میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے حق حلال کی کمائی کی عادت ڈالی۔ نہ کسی بچے کی جیب پر ڈاکہ ڈالتاہوں۔ نہ کسی بڑے کو اجازت دیتا ہوں کہ وہ میری محنت کی روزی میں سے اپنا حصہ مانگے اور مجھ سے بھتہ وصول کرے۔ شہر میں گلیاں بے شمار ہوتی ہے۔ ایک نہ سہی دوسری سہی ۔ بڑے آدمیوں کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ تو چھوٹے آدمی کے بھی تو کچھ اصول ہونے چاہئیں کیوں جی باؤ صاحب ؟ “

Your Thoughts and Comments