Pepsi Chulhe Tey Rakho

پیپسی چولھے تے رکھو

بدھ مارچ

Pepsi Chulhe Tey Rakho
کرنل ضیاء شہزاد
سیاچن سے وابستہ کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کا عام زندگی میں صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ بیس کیمپ (1) سے لے کر اگلی پوسٹوں (2) تک پہنچنے کے لئے ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے جو بسا اوقات ہفتوں پر محیط ہوجاتا ہے۔ ایس او پی کے مطابق ماحول سے مانوس ہونے کے لئے ہر ایک ہزار فٹ کی بلندی طے کرنے کے بعد وہاں ایک رات گزارنا ضروری ہوتا ہے۔

دورانِ سفر مختلف درمیانی پوسٹوں (3) پر رات بسر کی جاتی ہے ۔ ایک مرتبہ ہمیں ایک ایسا ہی سفر درپیش تھا۔ ایک درمیانی پوسٹ سے دوسری تک کا سفر موسم کی خرابی کے باعث معمول سے کچھ زیادہ طویل ہوگیا تھا۔ برف میں پانچ گھنٹے مسلسل پیدل چل کر جب ہم اگلی پوسٹ کے نزدیک پہنچے تو دور سے اگلوکو دیکھ کر جان میں جان آئی ۔ پورا بدن تھکن سے چور چورتھا اور گھنٹوں برف میں چلنے کے باعث پاؤں تقریباً شل ہوچکے تھے۔

(جاری ہے)

پوسٹ میں داخل ہوتے ہی پوسٹ حوالدار (4) نے ہمارا ستقبال کیا اور ایک زور دار آواز لگائی، ” پیپسی چولھے تے رکھو۔ “
ہمارے اوسان جیسے ہی بحال ہوئے تو دیکھا کہ ٹین کے مگ میں سچ مچ کی پیپسی دعوت نظارہ دے رہی تھی۔ دل کی دھڑکن مارے خوشی کے بے قابو ہونے لگی۔ ہم نے گھونٹ گھونٹ کر کے اس مشروب کو حلق میں انڈیلا ۔ سچ پوچھیے تو کولڈڈرنک کا جو مزہ اس روز آیا وہ اب تک بھلائے نہیں بھولتا۔

پوسٹ حوالدار نے بتایا کہ اس نے ہمارے لئے بطور خاص یہ اہتمام کیا ہے۔پیپسی سیاچن کے انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث جم کر پتھر کی مانند ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس قابل استعمال بنانے کے لئے چولھے پر ابلتے ہوئے پانی میں رکھ کر کافی دیرتک گرم کرنا پڑتا ہے۔
دیکھا دیکھی ہم نے بھی اپنی پوسٹ پر پہنچ کر پیپسی کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتل منگوانے کا آرڈر دیا۔

ہماری پوسٹ انیس ہزار فٹ بلند تھی۔ سامان نے بیس کیمپ سے ہماری پوسٹ تک پہنچنا تھاجس میں کم ازکم پندرہ روز کا وقت درکار تھا۔ وہ پندرہ دن ہم نے انتہائی اشتیاق کے عالم میں بسر کیے۔ آخر خدا خدا کرکے وہ دن آن پہنچا جب پارٹی سامان لیکر ہماری پوسٹ پر پہنچی ۔ حسب ترکیب پیپسی کو فوراًابلتے ہوئے پانی میں رکھ کر قابل استعمال بنایاگیا۔جب بوتل ہمارے روبرو پیش کی گئی تو اسے تین چوتھائی خالی پایا جب کہ ڈھکنا اپنی جگہ مضبوطی سے بند تھا۔

سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ مقدار کی اس کمی کے پیچھے کیا راز چھپا ہے۔ خیر بڑی ردوکد کے بعد جو کچھ موجود تھا اسی پر اکتفا کیاگیا۔
دو ماہ گزر گئے، پوسٹ پر ہمارا ٹائم پورا ہوا اور واپسی پر اسی پہلے والی پوسٹ پر رات بسر کرنے کے لئے ٹھہرنا پڑا۔ پوسٹ کمانڈر نے حسب سابق اس مرتبہ بھی پیپسی سے خاطر تواضع کی۔ ہم نے اس سے اپنی بوتل کے خالی ہونے کا راز دریافت کیا تو اس نے انکشاف کیا ” سر بیس کیمپ سے لے کر آپ کی پوسٹ کے درمیان جو پانچ درمیانی پوسٹیں واقع ہیں یہ ان ناہنجاروں کی کارستانی ہے۔

وہ لوگ سرنج کے ذریعے پلاسٹک کی بوتل میں سوراخ کرتے ہیں اور پیپسی باہر کشید کر لیتے ہیں۔ سوراخ اتنا باریک ہوتا ہے کہ کھلی آنکھ سے نظر تک نہیں آتا۔ “ اس انوکھے طریقہ واردات پر ہم مسکرانے اور کر بھی کیا سکتے تھے ۔ بقول شاعر:۔
ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں
تحفہ دوست ہیں جب یہ تو کرم ہی ہوں گے
اس کے بعد ہم نے پوسٹ پر پیپسی منگوانے کی غلطی تو نہیں دہرائی البتہ چھٹی پر گھر پہنچے اور بیگم ہماری خاطر تو واضع کرنے لگیں تو منہ سے بے اختیار نکل گیا ” پیپسی چولھے تے رکھو ۔ “
باغ میں جوش بہار آخر یہاں تک آگیا
بڑھتے بڑھتے شعلہ گل آشیاں تک آگیا

Your Thoughts and Comments