Rawayat Mohabbatain Chahatain

روایات‘محبتیں‘چاہتیں

ہفتہ نومبر

Rawayat Mohabbatain Chahatain
سید عارف نوناری
روایات‘محبتیں‘چاہتیں،تعلقات میں کمزوری‘ثقافت میں تبدیلی یعنی پرانے طور طریقے کیوں مدھم پڑ گئے ہیں۔والدین‘بیٹیوں‘ عزیز و اقارب میں وہ تعلقات اور رشتے کیوں آہستہ آہستہ معاشرہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔دیہاتوں کی نسبت شہروں میں والدین کا بچوں سے پیار‘الفت اور توجہ نہ ہونے کی وجہ سے نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔

شہروں کی نسبت دیہاتوں میں پھر بھی ایسی روایات‘ محبتیں اور چاہتیں ہیں لیکن ان کے تناسب میں کمی ہوتی جا رہی ہے بلکہ یورپ میں بھی والدین کی بیٹوں یا اولاد سے محبت و الفت کمزور ہوتی جا رہی ہے تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کرائمز کی وجہ بھی یہی ہے۔پہلے گاؤں کی بیٹی کی عزت کو گاؤں کی عزت تصور کیا جاتا تھا اب وہ کیفیت نہیں بلکہ عزتیں نیلام ہو جاتی ہیں اور معاشرہ تماشائی ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اولاد پر والدین توجہ نہیں دے رہے پہلے گھر کے تمام افراد ایک وقت کی روٹی ایک جگہ بیٹھ کر کھاتے تھے لیکن اب علیحدہ علیحدہ ڈرائنگ رومز میں۔یہ ہماری ثقافت اور خصوصی طور پر ایسی ثقافت زندگی کا ایک حصہ تھی شہری ماحول میں تو بچوں کو علیحدہ علیحدہ کمرے دیئے جاتے ہیں نہ باپ کو بیٹے کا پتہ ہوتا ہے اور نہ بیٹے کو بات کا یا ماں کا۔ہر کوئی اپنی اپنی دوڑ میں لگا ہوا ہے اور وہ رشتے جو خون کے رشتے ہوتے تھے آہستہ آہستہ سفید خون ہونے سے مدھم پڑ رہے ہیں۔

پہلے انسانیت کی قدر تھی انسان کے مرنے کا افسوس ہر انسان کرتا تھا اب ایک گھر میں موت ہوتی ہے تو دوسرے گھر میں رقص و سرود کی محفلیں ہوتی ہیں۔
معاشرہ میں سائنسی ترقی کے جہاں بہت فوائد حاصل ہوئے ہیں وہاں نقصانات بھی سامنے آئے ہیں۔چچا بھتیجے،ماموں بھانجے اور باپ بیٹے کو قتل کر رہا ہے۔ایسا کیوں ہے؟یہ سب پرانی روایات سے چھٹکارا حاصل کرنے کا نتیجہ ہے خون کے رشتے اب وہ نہیں رہے ہمارا کلچر بالکل تباہ ہو کر رہ جائے گا لہٰذا دیہاتوں میں اس کلچرل کو مزید پروان چڑھانے میں کاوشوں کی ضرورت ہے۔

شہروں میں پڑوسی دوسرے پڑوسی کو نہیں جانتا ہر طرف انفرادی مفادات اور کاوشوں کی دوڑ میں کوئی آگے ہے اور کوئی پیچھے جا رہا ہے۔رشتہ داروں سے پرانے ناطے واسطے اب روپیہ کی کثرت کی وجہ سے ختم ہو رہے ہیں۔رشتہ دار‘رشتہ دار کو اپنا نہیں مانتے۔ دوستوں میں وہ دوستی نہیں رہی جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی کہ دوست دوست کے لئے جان قربان کر دیتا تھا اب ایسی روایات کی جگہ مغربی روایات نے لے لی ہے جو اسلامی ثقافت کو بھی غلط کر رہی ہے۔

ثقافت کو بچانے کے لئے اسلامی ثقافت کو حکومتی سطح پر پروان چڑھا کر ہی ان محبتوں اور چاہتوں کو قائم رکھا جا سکتا ہے۔ کسان عرصہ سے پاکستانی ثقافت کو بچا کر ان روایات کو آہستہ آہستہ مغربی روایات کی آمیزش سے بچا رہا ہے حالانکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مغربی روایات کو ہماری روایات میں شامل کیا گیا۔
اب معاشرہ کہاں کھڑا ہے اس کا اندازہ لگانا ہو تو پھر شہروں میں روایات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

شہروں میں ہمارا پنجابی کلچر موت کے کنواں میں گرا ہوا ہے بزرگوں کی روایات‘طور طریقوں کو بالکل فراموش کر دیا گیا ہے۔بزرگوں کی روایات محبت کا سبق دیتی ہے اور افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی تھیں۔اب بھی دیہاتوں میں مہمان کی آؤ بھگت‘بیمار پرسی اور مخلصی جیسی روایات قائم ہیں ایسے دیہاتوں میں مسائل بھی کم ہیں اور نفرتوں کی کمی بھی ہے۔

معاشرہ میں نفرتیں اس قدر جگہ بنا بیٹھی ہیں کہ ان کو نکالنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔عوامی روایات کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔باہمی روابط عرصہ سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔پریشانیوں اور معاشرتی مسائل میں اضافہ بھی انہی روایات کو ترک کرنے کا نتیجہ ہے۔ہماری ثقافت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے غیروں کی ثقافت پروان چڑھ رہی ہے۔ان روایات کو صرف ڈرامے کی حد تک زندہ رکھے ہوئے ہیں تمام ایسے ذرائع استعمال میں لائے جا رہے ہیں جن سے کدورتیں ختم ہو جائیں اور چاہتیں اور محبتیں جو ہمارے دادا‘پردادا کے وقتوں میں تھیں پھر سے زندہ ہو جائیں۔

وہ آسان اور سہل زندگی یقینا معاشرے کا ایک ناقابل فراموش حسین حصہ تھی جس میں موجودہ وقت کی مشکلات نہیں تھیں بلکہ سٹریٹ اور خوشگوار زندگی تھی۔ایک کا دکھ سب کا مشترکہ دکھ ہوتا تھا اور ایک کا غم سب کا مشترکہ غم ہوتا تھا۔لوگ آپس میں خوشیاں اور غم بانٹتے تھے باپ کا بیٹا‘اپنے آباؤ اجداد کے رسم و رواج قائم و دائم رکھنے کے لئے ذہنی طور پر نوجوان طبقہ تیار ہے اس میں بھی نمایاں فرق آرہا ہے۔پہلے لوگ سادگی پسند تھے آہستہ آہستہ فیشن کی طرف آنا شروع ہو گئے۔

Your Thoughts and Comments