Research Officer

ریسرچ آفیسر!

عطاالحق قاسمی بدھ اگست

Research Officer
ایک لندن پلٹ صاحب سے پوچھا گیا کہ صاحب آپ لندن میں کیا کام کرتے تھے‘موصوف نے جواب دیاکہ وہ وہاں ریسرچ آفیسر تھے۔اس پر سوال کرنے والا بہت پریشان ہوا اور بولا جناب آپ تو چٹے ان پڑھ ہیں‘آپ وہاں ریسرچ سکالر کیسے ہو گئے‘بولے میں دراصل آلوؤں پر ریسرچ کرتا تھا۔اس پر پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ جناب وہ کیسے؟کیونکہ آلوؤں پر ریسرچ کرنے کے لئے بھی ایگریکلچر میں ڈگری ہونا ضروری ہے ۔

یہ سن کر ان لندن پلٹ صاحب نے جواب دیا”بات یہ ہے کہ وہاں سبزی کی ایک دکان تھی اور میں وہاں بڑے آلو چھانٹ چھانٹ کر ایک چھابے میں اور چھوٹے آلو دوسرے چھابے میں رکھا کرتا تھا۔“
اور سچ پوچھیں تو ریسرچ کی یہ وہ قسم ہے جو ہمیں پسند آئی ہے اور اسی وجہ سے ایک دوست کے ساتھ ہمارا قلبی تعلق بہت گہرا ہے‘وہ بھی کچھ اسی قسم کے ریسرچ آفیسر ہیں بلکہ ان کی زندگی کا تو مشن ہی یہی ہے کہ چھوٹوں اور بڑوں کو الگ الگ کر دیاجائے اور اس کے بعد چھوٹوں کی قیمت الگ وصول کی جائے اور بڑوں کے دام علیحدہ کھرے کئے جائیں۔

(جاری ہے)

ہمارے اس دوست کا نام اللہ رکھا زخمی ہے۔یہ ایک فیکٹری میں ملازم تھے وہاں انہوں نے یہی کیا کہ ایک ٹریڈ یونین بنائی اور چند ہی دنوں میں چھوٹوں اور بڑوں کو الگ الگ کر دیا۔چھوٹوں نے انہیں اپنے لیڈر تسلیم کیا اور بڑوں نے سودا کاری ایجنٹ کے طور پر انہیں تسلیم کر لیا اور یہ بہت اچھے ایجنٹ ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے بڑوں سے چھوٹوں کا سودا کیا اور یوں اپنے دام کھرے کر لئے۔


جب چھوٹوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ایک دن اپنے اس عظیم رہنا یعنی اللہ رکھا صاحب کو راستے میں گھیرا ان پر کمبل ڈالا اور پھر وہ”گدڑکٹ“کی کہ موصوف بیہوش ہو گئے۔جب یہ ہوش میں آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ خاصے زخمی ہو چکے ہیں‘چنانچہ انہوں نے فیکٹری کو خیرباد کہا اور اپنا تخلص زخمی رکھا اور شاعری کی طرف راغب ہو ئے۔ان دنوں اللہ رکھا زخمی صاحب ملک کے معروف شاعر ہیں ۔

چیچو کی ملیاں سے ایک پرچہ”روز گار ادب“نکالتے ہیں اور اس میں چھوٹے اور بڑے فوائد کے لئے انہوں نے علیحدہ علیحدہ کا لم مخصوص کئے ہوئے ہیں۔ اس کے لئے انہیں خاصی ریسرچ بھی کرنا پڑتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے کہ اتنی جانفشانی سے ریسرچ کرنے والے سکالر اب ہمارے درمیان کتنے رہ گئے ہیں۔
گزشتہ دنوں اللہ رکھا زخمی صاحب سے سرراہے ہماری ملاقات ہوئی۔

دیکھا تو سر پرپٹی بندھی ہوئی تھی ۔ہم نے پوچھا حضرت اب کیا ہوا خیر تو ہے ؟بولے یہ جو خود کو ادیب شاعر کہلاتے ہیں ا ن میں رواداری “مروت اور تحمل نام کی تو کوئی چیز رہی ہی نہیں گزشتہ ہفتے میں نے اپنے ایک اداری میں ایک ادیب کی نجی زندگی پر صحت مند تنقید کی ‘چاہئے تو یہ تھا کہ اس کے بعد وہ میرے پاس مذاکرات کے لئے آتے ‘لیکن انہوں نے اس صحت مند تنقید کے جواب میں خود آنے کے بجائے ایک صحت مند قسم کے شخص کو میرے پاس بھیجا۔


ان پہلوان صاحب نے میرے ساتھ جو مذاکرات کئے اس کا اندازہ تمہیں ان پٹیوں کی صورت میں ہو سکتا ہے“اللہ رکھا زخمی صاحب اس واقعے سے خاصے آزردہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ لوگ آزادی تحریر کے قائل نہیں رہے‘چنانچہ وہ دل برداشتہ ہو کر ملک کو خیر باد کہہ رہے ہیں ۔ہم نے پوچھا کہاں جا رہے ہیں؟
کہنے لگے لندن جانے کا رادہ ہے“اس پر ہم نے انہیں مشورہ دیا کہ ”آپ لندن پہنچنے کے بعد سیدھے کسی سبزی فروش کے پاس جائیں وہاں آپ کو ریسرچ آفیسر کی جانب مل جائے گی!“انہوں نے ہمارا یہ مشورہ پلے باندھا ‘سو امید ہے کہ اس وقت وہ لندن میں کسی سبزی کی دکان میں بڑے آلو چھانٹ چھانٹ کر ایک چھابے میں اور چھوٹے آلو دوسرے چھابے میں رکھ رہے ہوں گے ۔

انسان کو اپنے صحیح ٹیلنٹ کا اندازہ کافی دیر بعد ہوتاہے!

Your Thoughts and Comments