Sahafiyon Se Kon Bachaye Ga

صحافیوں سے کون بچائے گا

منگل اکتوبر

Sahafiyon Se Kon Bachaye Ga
سید عارف نوناری
سیاست دان صحافت کو معاشرہ کا چوتھا ستون سمجھ کر اپنے تحفظ کے لئے صحافیوں کو تحفظ کی لائن پر لگاتے ہیں۔حقیقت بھی یہ ہے کہ صحافی معاشرہ کا چوتھا ستون ہیں لیکن صحافت و ادب اب صرف بھوک و پیاس ہے۔چھوٹے صحافی تو تحفظ کی تلاش میں اپنی زندگی گزار دیتے ہیں بڑے صحافی وزیروں کے زیر سایہ اپنی صحافت کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔

جس طرح سیاست دان اپنی سیاست کو بچانے کیلئے طرح طرح کے ہتھ کنڈے استعمال کرتے ہیں اور اپنے حریف کو پیدا ہونے ہی نہیں دیتے اور سدا بہار وزیر منسٹر رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے اسمبلی کے سکیورٹی گارڈ بھی ان کی شکل کو یاد رکھنے کی زحمت ہی گو ارا نہیں کرتے اور بے چارے عوام اور ووٹروان کو دھکے دے کر گیٹ بھی عبور نہیں کرنے دیتے۔یہی حال صحافیوں ،ادیبوں،ڈرامہ نگاروں کا ہے کہ وہ بھی حریف پیدا نہیں ہونے دیتے۔

(جاری ہے)

ادب کو پروان چڑھانے اور سیاست کو چار چاند لگانے میں یہی لوگ رکاوٹ ہیں۔جس طرح اسمبلیوں میں کئی سالوں سے ایک ہی چہرے نظر آرہے ہیں اسی طرح ادب کے میدان میں بھی وہی چہرے ہیں۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ سیاست اور ادب میں اس روش کو تبدیل کیا جائے۔کیا یہ رجحان اسی طرح ہی پروان چڑھتا جائے۔سیاست میں سیاست دان اپنے کرشمے دکھا رہے ہیں اور ادب میں ادیب اپنے۔

اگر صحافت میں انقلاب لانا ہے تو اپوزیشن پارٹی سے ممکن ہے سیاست میں انقلاب آیت اللہ خمینی والا آنا چاہئے تو پھرہی یہ چوتھا ستون کھڑا رہ سکتا ہے۔صحافت میں بھی غریب مارے جاتے ہیں جبکہ سیاست میں بھی غریب مارے جاتے ہیں۔حساب برابر رہتا ہے۔مشاہدہ اصل میں کام آتا ہے اتنا ضرور ہے کہ سیاست میں تشدد کے نمبر زیادہ ہیں۔
راقم الحروف کی اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں داخلہ کے وقت اسمبلی گیٹ پر ایک ایسے نوجوان سے ملاقات ہوئی جس کی بات سن کر نہ صرف حیرت ہوئی بلکہ یقین تک نہ آیا کہ سیاسی دور میں ایسی بات جیسے شیکسپیئر نے کہا ہے کہ ناممکن کا لفظ بزدل کی لُغت میں ہے۔

نوجوان نے بتایا کہ پنجاب کے علاقہ اوکاڑہ میں ایک ایم پی اے ایسا بھی ہے جو ابھی تک ڈسپنسر ہے اور ایم پی اے ہے۔یقین نہ آیا کہ آج کل سیاست میں ایسا ایم پی اے کیوں؟وہ ایوان میں کیسے پہنچا اور کیوں پہنچا اور اس کو پہنچانے والی عوام اتنی سیانی کیسے ہو گئی۔
صحافی اصل میں احتساب کمیٹی کا کام کرتے ہیں جہاں غلط کام ہو رہا ہوں وہاں صحافی سب سے پہلے اس کی نشاندہی کرتا ہے۔

بے شک بے چارہ صحافی بعد میں سیاستدان سے توبہ کرے ۔کئی صحافی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے۔اصل میں صحافت سیاست سے پوچھ کر چلتی ہے۔ خاص کر دیہاتی تحصیلوں کے صحافی بے چارے قسمت کے مارے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو صرف تحفظ نہیں ملتا جس کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے قسمت کا حال بتا رہے ہوتے ہیں۔صحافت بھی بدنام ہے اور سیاست بھی۔دونوں ایک ہی زاویے سے چل رہے ہیں۔

سیاست کا حل تو اچھا ہے صحافت کو سیاست کی بعض دفعہ کچھ باتیں ماننی پڑتی ہیں۔پاکستان میں صحافت کا یہ حال ہے کہ مقامی صحافی ایم پی اے سے پوچھ کر رپورٹنگ کرتے ہیں کہ کہیں گستاخی نہ ہو جائے اور پھر تحفظ کا بندوبست بھی کرنا ہوتا ہے۔کیا صحافت آزاد ہے جس نے دوسروں کو آزادی دینی ہوتی ہے وہ خود زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے پھر صحافت کی آزادی کیسی اور کیسی آزاد صحافت۔

ہاں بات ہو رہی تھی کہ نئے لوگ صحافت میں بھی نہیں آتے جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔اشفاق احمد،بانو قدسیہ اصغر ندیم سید،اجمل نیازی ادباء میں آتے ہیں لیکن کچھ سیاست دان کی طرح یہ بھی ادب اور نئے لوگوں کو آشنا کروا کر ان سیاست دانوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں تاکہ صحافت اور سیاست کا پلڑا برابر رہے۔


اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ صحافت پہلے تھی۔سیاست پہلے تھی۔صحافت میں بھی ملاوٹ آگئی ہے صحافی اپنے فرائض سے غافل ہو گئے ہیں۔ صحافت میں بھی رشوت چلتی ہے۔حیرت ہے کہ یہ رشوت کن طریقوں سے صحافت کو ملتی ہے۔سیاست دان اور نمائندے اسمبلی میں ایسے آتے ہیں جیسے پکنک منانے آئے ہیں اور پکنک بھی اسلام آباد میں۔پھر سازو سامان ساتھ لے کر آتے ہیں کہ مکمل طور پر لطف اندوز ہو سکیں۔

ایک دوست بتا رہے تھے کہ پاکستان میں سیاست کو درست کرنا ہے تو مشینری کو تبدیل کرنا ضروری ہے باقی نظام خود بخود درست ہو جائے گا کیونکہ جہاں رکاوٹ پیدا کرتی ہے مشینری کرتی ہے۔غریب سیاست میں پس رہے ہیں۔ڈرامہ”انتہا“نے بھی انتہا کر دی اس میں سیاست،غربت اور صحافت کو اس طرح دکھایا جا رہا ہے جو کہ حقیقت ہے پاکستان میں سیاست اس طرح چل رہی ہے۔

سیاست کیا ہے اجارہ داری ہے۔ایم پی اے،ایم این اے،وزراء اپنے اپنے علاقہ کو اسٹیٹ بنا رہے ہیں عوام بول نہیں سکتی۔سیاست آزادی کو تحفظ دیتی ہے اور سیاست آزادی کو ختم کر رہی ہے۔
جاگیرداری نظام انتہا کو پہنچ چکا ہے پھر یہ آج سے کئی سال پہلے کے معاشرے کی طرف جا رہی ہیں۔ سیاست ظلم کی طرف جا رہی ہے صحافت اتنا ضرور کرتی ہے کہ اس سیاست کو ظلم و زیادتی سے روک سکتی ہے وزیراعظم اس صحافت سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

صحافت کو اپنے فرائض کی پہچان کرنی چاہئے چوتھا ستون اس طرح قائم رہ سکتا ہے کہ ”خبریں“کا ماٹو یعنی جہاں ظلم وہاں صحافت،ہوتو پھر ہی یہ سیاست سدھر سکتی ہے اور معاشرہ کو امن کا پیغام مل سکتا ہے فرائض کو نبھانا کتنا مشکل ہے یہ صحافی ہی زیادہ بہتر طریقہ سے جان سکتے ہیں۔اس طرح سیاست بھی مجبور نظر آرہی ہے اور صحافت بھی مجبور نظر آرہی ہے۔یہ بے چارے سیاست دان اور بے چارے صحافی کب تک اس چکی میں پستے رہیں گے اور آخر کب ان کی خلاصی ہو گی۔خدا ہی بہتر جانتا ہے اتنا ضرور ہے کہ دونوں بے چارے قسمت کے مارے تقدیر کو رو رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments