Sardi Ki Garma Garmi

سردی کی گرما گرمی

جمعہ جنوری

Sardi Ki Garma Garmi
مجتبیٰ حسین
یقین مانیے،جب سردی کا موسم آتا ہے تو زندگی کی ہر سرگرمی ٹھٹھر کر رہ جاتی ہے،حد تو یہ ہے کہ ادب تک میں جمود آجاتا ہے۔پرسوں کی بات ہے کہ بعض شعرا نے اس کڑاکے کی سردی میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا تھا۔اس مشاعرے میں ہم نے بھی ایک سامع کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔جب اناؤنسر نے صدر مشاعرہ سے مسند صدارت پر جلوہ افروز ہونے کی خواہش کی تو ہم نے کانوں پر لپٹے ہوئے مفلر کو ذرا سا ہٹا کر دیکھا کہ مشاعرے کی صدارت بغلوں میں ہاتھ ڈالے لرزتی کپکپاتی مسند صدارت کی جانب بڑھ رہی ہے۔

جب صدارت مسند صدارت میں دھنس گئی تو ہمیں یوں معلوم ہوا،جیسے صدارت منجمد سی ہو گئی ہے۔چاروں طرف سے کپڑوں میں لپٹی ہوئی صدارت ہم نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔مشاعرے کے اناؤنسر نے شاعر کا نام پکارا،اس کے جواب میں شاعر نے بیدِ مجنوں کی طرح کانپتے ہوئے جب صدر مشاعرہ کی طرف دیکھ کر پوچھا:”اجازت ہے؟“تو صدارت نے صرف دانت بجا کر کلام سنانے کی اجازت دے دی۔

(جاری ہے)

شاعر مذکور نے بڑی مشکل سے مطلع سنایا،لیکن اس مطلع میں بھی دانتوں کے بجنے کا ترنم زیادہ تھا اور غزل کا ترنم کم تھا۔
پھر جب اس نے دوسرا شعر سنایا تو پتا چلا کہ دونوں مصرعے سردی کی وجہ سے بے وزن ہو گئے ہیں۔مطلع تو بڑی بحر میں تھا،مگر بعد کا شعر چھوٹی بحر میں ادا ہو گیا تھا۔سردی میں بڑی بحر کا شعر سکڑ کر چھوٹی بحر کا بن جاتا ہے،یہ شاعری کا قانون نہیں قدرت کا قانون ہے،لیکن سامعین میں سے کسی نے شعر کی بے وزنی کی جانب غور نہیں کیا،کیونکہ سبھوں کے کانوں پر مفلر لپٹے ہوئے تھے اور اتنے موٹے مفلروں کو چیرتے ہوئے شعر کا کانوں میں داخل ہونا ناممکن سی بات تھی۔

ایک اچھا شعر دل میں تو بڑی آسانی سے اُتر سکتا ہے،لیکن سردی کے موسم میں اس کا کانوں میں اترنا بہت دشوار ہوتا ہے ۔جب بھی کوئی شاعر صدر مشاعرہ کی طرف دیکھ کر کہتا :”حضور!توجہ چاہتا ہوں۔“تو ہمیں صدارت کے ڈھیر میں ذرا سی بھی جنبش نظر نہ آئی ۔وہ تو ایک بے جان سی گٹھڑی میں تبدیل ہو گئی تھی۔مشاعرہ بس اسی طرح جاری رہا۔ہر شاعر کو جیسے مطلع سناتے ہوئے مقطع سنانے کی فکر لاحق تھی،وہ شعرا جو عام مشاعروں میں دو غزلہ اور سہ غزلہ سنانے کے لئے بدنام ہیں، انھوں نے صرف مقطع سنا کر اپنی جان چھڑائی۔

ہم جب اس مشاعرے سے واپس ہونے لگے تو ہم نے دیکھا کہ سارے شعرا کلام سنا کر اور سامعین کلام سن کر واپس جا چکے ہیں اور ”صدارت“ مسند صدارت پر سو رہی ہے۔ہم نے ایسی سردی میں ”صدارت“ کو جگانے کی بد اخلاقی نہ کی اور واپس چلے آئے۔
چاہے کچھ بھی ہو،سردی کا موسم آدمی کو بڑا مہذب اور مودب بنا دیتا ہے۔جس کسی کو دیکھیے،وہ اپنے ہاتھ بغلوں میں دابے یوں کھڑا نظر آئے گا،جیسے عجز و انکسار کا خاتمہ اسی پر ہو رہا ہو۔

آدمی کے ہاتھ بغلوں میں یوں دبے رہتے ہیں، جیسے انھیں بغلوں سے جوڑ دیا گیا ہو۔پرسوں رات ہمیں ایک بس میں سوار ہونے کا موقع ملا۔ہم حسب عادت ٹکٹ خریدنا چاہتے تھے اور اس معاملے میں ہماری نیت بالکل صاف تھی۔ لیکن کیا کریں،اس وقت ہمارے دونوں ہاتھ بغلوں میں دبے ہوئے تھے۔ہم نے سوچا کہ جب کنڈکٹر ٹکٹ کے پیسے مانگنے آئے گا تو ہم اس وقت اپنے ہاتھوں کو آزاد کریں گے،لیکن ہماری نظر کنڈکٹر پر پڑی تو دیکھا کہ وہ بھی بغلوں میں ہاتھ دابے اپنی نشست پر بیٹھا ہے اور کسی قیمت پر ٹکٹ دینے کی خاطر اپنے ہاتھوں کو بغلوں سے نکالنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ہمارے حق میں فائدہ مند تھی۔ہم نے بس کے دوسرے مسافروں پر نظر ڈالی تو وہ بھی سب کے سب بغلوں میں ہاتھ دابے بیٹھے تھے۔ہم نے کچھ لمحے کے لئے اطمینان کا سانس لیا،لیکن اسی اثنا میں ہماری نظر بس کے ڈرائیور پر جو پڑی تو ہمارا خون منجمد ہوتے ہوتے رہ گیا، اس لئے کہ بس ڈرائیور بھی اس وقت ہاتھ باندھے بیٹھا تھا اور بس سیدھی سڑک پر کم از کم ساٹھ میل فی گھنٹے کی رفتار سے بھاگ رہی تھی،ہیبت کے مارے ہمارے ہاتھ خود بخود بغلوں میں سے نکل گئے۔

ہم نے گھنٹی بجائی اور جب ڈرائیور نے بادل نخواستہ بس روکی تو ہم تیر کی طرح بس سے نکل کر باہر آگئے، اس لئے کہ ہم ایسی بس میں بلاٹکٹ سفر کرنے کے لئے ہر گز تیار نہ تھے،جس کا ڈرائیور بھی ہاتھ باندھ کر بس چلا رہا ہو۔
ہم نے ایک سڑک پر یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک صاحب ایک بھکاری کو خیرات دینا چاہ رہے تھے،لیکن سردی میں کوٹ کی جیب سے اپنے ہاتھ کو باہر نکالنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

وہ بڑی حسرت کے ساتھ بھکاری کی طرف دیکھ رہے ہیں اور بھکاری بھی اپنے ہاتھ اُن کے سامنے پھیلانے کے لئے تیار نہیں ہے اور بڑی مجبور نظروں سے اُن کی طرف دیکھ رہا ہے، جیسے کہہ رہا ہو:”مائی باپ!اگر گرمی کے موسم تک زندہ رہیں تو آپ سے پھر کبھی خیرات لے لوں گا،لیکن اس وقت خیرات دے کر مجھے عذاب میں مبتلا نہ کیجیے۔“
سردی کے موسم میں ان پڑھ اور جاہل آدمی بھی فلسفی بن جاتا ہے۔

کوئی بھی کام کرنے سے پہلے وہ مسئلے پر گھنٹوں غور کرتا ہے۔ہماری ہی مثال لیجیے کہ صبح میں ہم یوں تو سات بجے ہی بستر میں جاگ جاتے ہیں،لیکن رضائی سے باہر نکلنے کے مسئلے پر کوئی دو گھنٹوں تک مسلسل غور کرتے ہیں اور اس غور و فکر کے بعد رفتہ رفتہ رضائی میں سے یوں برآمد ہوتے ہیں،جیسے انڈے میں سے مرغی کا چوزہ برآمد ہوتا ہے۔یہی نہیں بلکہ غسل خانے میں پہنچ کر ہم ایک گھنٹے تک صرف اس نکتے پر غور کرتے رہتے ہیں کہ پانی کا پہلا قطرہ اپنے جسم پر کب ڈالا جائے اور جب بالآخر پانی کا پہلا قطرہ خود ہمارے ہی ہاتھوں سے ہمارے جسم پر گر جاتا ہے تو غسل خانے میں ہم خود اپنی ہی چیخ و پکار سے گھبرا جاتے ہیں۔

آپ ہی بتائیے کہ یہ ساری حرکتیں ہمارے فلسفی ہونے کی دلیل نہیں ہیں۔ہم تو کہتے ہیں کہ سردی کا موسم بڑا فلسفیانہ موسم ہوتا ہے۔ اس میں آدمی غور زیادہ اور کام کم کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے سارے بڑی فلسفی سرد ممالک میں پیدا ہوئے۔
سردی کے موسم میں ہر آدمی اپنا کچھ نہ کچھ نقصان ضرور برداشت کرتا ہے،لیکن تاجر اس موسم میں بھی اپنا کوئی نقصان برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

پرسوں کی بات ہے کہ ہم نے ایک ترکاری فروش سے ایک نارنگی دینے کو کہا۔اس پر اس نے ایک لیموں اٹھا کر ہمارے ہاتھ میں تھما دیا۔ہم نے لیموں کو نارنگی تسلیم کرنے سے انکار کیا تو ترکاری فروش نے کہا:”حضور!دیکھیے تو سہی کتنی سردی پڑ رہی ہے ۔آپ جسے لیموں سمجھ رہے ہیں،وہ اصل میں نارنگی ہے۔یہ اور بات ہے کہ یہ نارنگی سردی سے ٹھٹھر کر لیموں کی جسامت تک پہنچ گئی ہے۔

“ ظاہر ہے کہ اس وقت ہماری عقل بھی سردی سے ٹھٹھر گئی تھی،لہٰذا نارنگی کے دھوکے میں لیموں اُٹھا کر گھر لے آئے،بعد میں ہمیں محسوس ہوا کہ نارنگی کا ذائقہ تک ٹھٹھر کر لیموں کا ذائقہ بن گیا ہے۔
ہم اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں سردی بہت کم پڑتی ہے،لیکن جب مہینے کی آخری تاریخیں آجاتی ہیں اور تنخواہ کے خاتمے کے بعد قرض لینے کی نوبت آتی ہے تو ہمیں بڑی کڑاکے کی سردی محسوس ہوتی ہے۔

ہم چوبیس گھنٹے سردی کے مارے کانپتے رہتے ہیں۔ہم نے سردی کے ذریعے امیر اور غریب کے فرق کو جانچنے کا پیمانہ بنا رکھا ہے۔اگر کوئی شخص سردی کے مارے بری طرح کانپ رہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بیچارے کی جیب خالی ہے اور یہ کہ اس کی امیدوں پر اوس گر رہی ہے۔اگر کسی شخص پر سردی کا اثر بالکل نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ اُس کی جیب نہ صرف گرم ہے،بلکہ اس کا بینک بیلنس بھی موجود ہے۔


کسی اعرابی سے ایک شخص نے پوچھا تھا:”تمہارے ملک میں لوگ سردی کا موسم کس طرح گزارتے ہیں؟“جواب میں اعرابی نے کہا تھا:” امیر لوگ کمبل اوڑھ کر اور غریب لوگ دانت بجا کر۔“ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے ،جو ہونٹ بجا کر سردی کا موسم گزارتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب ہمارے منہ میں دانت تھے،جو سردی کے موسم میں بجا کرتے تھے،لیکن اب تو یہ دانت بھی نہیں رہے اور ہم نہیں چاہتے کہ سردی میں ا پنے مصنوعی دانتوں کو بجا بجا کر خراب کریں،لہٰذا اب ہم ہونٹ پیس کر خاموش ہو جاتے ہیں۔


سردی کی گرما گرمی شروع ہوتی ہے تو آدمی مختصر ترین گفتگو فرماتا ہے اور جملوں میں مصدر کا استعمال نہیں کرتا، بلکہ اکثر صورتوں میں اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے،مثلاً ہمارے ایک دوست نے ایک دن سردی کی شدت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار اس طرح کیا تھا:”بھئی آج سردی بہت زیادہ گرمی پر ہے۔اتنی گرما گرم سردی تو میں نے آج تک محسوس نہیں کی۔“یہ کہتے ہوئے وہ بغلوں میں ہاتھ داب کر مفلر میں ملفوف ہو گئے اور ہم سردی کی گرما گرمی کے بارے میں سوچ کربیدِ مجنوں کی طرح لرزنے لگے۔

Your Thoughts and Comments