Sarkari Chuttiyon K Mosaam

سرکاری چھٹیوں کے موسم

امجد محمود چشتی منگل اپریل

Sarkari Chuttiyon K Mosaam
سرکاری اداروں کا سب سے خوشگوار، پسندیدہ، دلفریب اور محبوب موسم چھٹیوں کا موسم ہوتا ہے۔ تقریباً پورا سال ہی ان موسموں کا ہر پیروجواں، مرد و زن منتظر رہتا ہے۔ چھٹیوں کے شیڈول تعویذ کی مثل جیبوں میں موجود رہتے ہیں۔ حتٰی کہ چھٹیاں گزار نے کے بعد پہلے دن ہی آنے والی متوقع چھٹیوں پر بحث چھڑ جاتی ہے یہ سلسلہ پورے سال پہ محیط ہوتا ہے اور اس کے دورانیے اور مدت کا تعین کرنا مشکل ہے ۔

پرانے ادوار میں بھی یہی موسم اکابرین کا پسندیدہ موسم رہاہے ایک بزرگ شاعر چھٹیوں کی شان میں لکھتے ہیں۔
کاش چھٹیاں رہیں ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
یہ موسم چونک صدا بہار موسم ہے لہٰذا پورے سال میں اس کی مختلف اقسام رونما ہوتی رہتی ہیں۔

(جاری ہے)

لہٰذا اس کی اقسام پر روشنی ڈالتے ہیں۔
موسم ِگرما کی چُھٹیاں
خصوصا سرکاری سکولوں کے حوالے سے یہ سب سے حسین، رنگین اور خوش نما موسم ہے۔

یہ سال کے وسط میں آتا ہے اورپلک جھپک میں گزر جاتا ہے اس موسم کے استقبال کی تیاریاں کم و بیش ایک ماہ قبل ہی بڑے جوش و جذبے سے شروع ہوجاتی ہیں ان تیاریوں میں کام کاج اور فرائض منصبی ترک کرنا نمایاں ہیں۔ ان چھٹیوں میں صبح خیزی اور نماز فجر کے اہتمام کا کھٹکا بھی جاتا رہتاہے جبکہ روزانہ غسل، مسواک اور لباس کے لوازمات بھی خاص اہمیت کے حامل نہیں رہتے۔

بحیثیت مجموعی یہ موسم انتہائی فرط و مسرت سے لبریز ہوتا ہے کیونکہ اس میں سکول کی اذیت سے کامل بریت کے ساتھ وظیفہ خواری کا عمل تواتر سے جاری رہتا ہے اس موسم میں اک طویل مدت تک اسکول کی جملہ پریشانیوں سے نجات مل جاتی ہے جبکہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو بینکوں کی جیب بھری زیارتیں بونس کے طورپر نصیب ہوتی رہتی ہیں۔
مذہبی چھٹیاں
یہ موسم زبردست قسم کے مذہبی و مسلکی استحقاق کے ساتھ منایا جاتا ہے اور ان چھٹیوں میں لیت و لعل کرنے والوں کو شدید قسم کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں دینی، مسلکی اور مقامی نوعیت کی مذہبی تعطیلات شامل ہیں۔


میٹرنٹی لیو یا رخصت ہائے ایامِ زچگی
اسکول نگر کے اس موسم سے محض خواتین ہی استفادہ حاصل کر پاتی ہیں اور مرد حضرات حسرت سے خواتین کے اس استحقاق کو پیاسی نظروں سے دیکھتے ہیں مگر محکمہ اور فطرت اُن کو یہ حق دینے سے قاصر ہیں۔ ان چھٹیوں سے فائدہ اٹھانے کی خاطر طویل المیعاد اور قلیل المیعاد حکمت عملی تیار کی جاتی ہیں۔

ایام زچگی کا کسی خاص مہینے میں ہونا ضروری نہیں ہے مگر میڈیکل سر ٹیفکیٹ اس قدر اخلاص اور دیانت داری سے تیار ہوتا ہے کہ تین ماہ کی چھٹیوں میں تین مزید مہینوں کا بابرکت اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یاد رہے یہ چھٹیاں تین ماہ یا 90دن پر مشتمل ہوتی ہیں جن کا نصف 45دن ہے۔ حال ہی میں مطالبہ منظر عام پر آیا ہے کہ اگر ایک بچے کی پیدائش پر 90دن چھٹیاں ہیں تو جڑواں بچوں کی پیدائش پر 180دن ہونا بنیادی حقوق میں شامل کرنا چاہئے۔


عمرہ چھٹیاں
سرکار ی محکموں میں یہ برکتوں بھرا موسم خود ساختہ ہوتا ہے یعنی افراد پر منحصر ہے کہ اپنی پلاننگ اور استطاعت کے مطابق اس موسم کا ماحول بنائیں۔ اس بات کا خیال بدرجہ اتم رکھا جاتا ہے کہ بیت اللہ اور روضئہ رسول کی زیارت اور حاضری کے لئے Working Daysکا انتخاب بڑے اہتمام کے ساتھ کیا جاتا ہے اور گرمیوں اور دیگر تعطیلات میں اس سعادت کے حصول سے ہر ممکن پرہیز و گریز کیا جاتا ہے۔

سفرِ عمرہ سے واپسی پر سفرِ بیت اللہ اور زیارات کے ذکرِ خیر سے اراکینِ سٹاف کو سکول اوقات میں منور کیا جاتا ہے اور اس سعادت سے فیض یاب ہونے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے۔
میڈیکل چھٹیاں
یہ سرکاری اداروں کے موسموں میں اچھوتا موسم ہے جب کوئی دوسرا موسم ہاتھ نہ آرہا ہو تو میڈیکل لیو کے موسم کا مضبوط سہارا کام آتا ہے۔ آئین فطرت ہے کہ میڈیکل لیو کا تقاضہ رد نہیں کیا جا سکتا اور اس اعتبار سے یہ واحد موسم ہے جو ہر حال میں قابلِ قبول ہو جاتا ہے۔

مگر اس کے لئے محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے مثبت تعاون کی از حد ضرورت ہوتی ہے جسے چند مثبت مراحل کے بعد حاصل کر لیا جاتا ہے گویا میڈیکل لیو کے لئے محکمہ صحت کا وسیلہ لازم ہے۔ یاد رہے کہ بہت سی میڈیکل لیوز مبنی بر حقیقت بھی ہوتی ہیں۔
رخصت اتفاقیہ
انفرادی خوشیوں کے حصول کے لئے محکمہ کی طرف سے رخصت اتفاقیہ کا موسم چنا گیاہے سال بھر میں اس موسم سے لطف اندوز ہونے کا موقع 25بار ملتا ہے۔

مگر اس سے تجاوز کی کوشش بھی وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے اس موسم کو گرہن لگا نظر آتا ہے اور محکمہ کی طرف سے اس موسم کو سخت ناپسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھا جاتا رہا ہے لہٰذا اب 25کے ہندسے کو چھونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
نصف رخصت
سرکاری اداروں خاص کر اسکولوں میں جلوہ نمائی کے بعد حاضری لگا کر سکول کو داغِ مفارقت دینے کی اصطلاح کو نصف رخصت کہتے ہیں۔

یہ بڑی منصوبہ بندی سے ترتیب دی جاتی ہیں۔ جس میں سربراہ ادارہ کا کردار بھی خاصا جاندار ہوتا ہے۔ ان رخصتوں کے ذریعے معاشرتی و سماجی معاملات مثلاً بیاہ شادی، رسمِ قُل، نماز جنازہ، عرس میلوں اور محافلِ میلاد میں شرکت یقینی بنا کر ثوابِ دارین حاصل کیا جاتاہے۔ اکثر اوقات سربراہِ ادارہ کی فراخ دلی اور شفقت سے یہ چھٹیاں اپنے رجسٹرات میں اندراج سے محروم رہ جاتی ہیں اور رخصت بلا عنوان کے زمرے میں شمار کی جاتی ہیں۔

نصف رخصت کے فیوض و برکات صبح اسمبلی ختم ہوتے ہی شروع ہوجاتے ہیں۔
فرنچ چھٹیاں
 یہ موسم نہایت مسرت بخش ہوتا ہے کیونکہ کہنے کو اس کا حساب نہیں ہوگا اس موسم کا ذکر اور اندراج لوح محفوظ سے لے کر اماً کاتبین تک نہیں ہوتا۔ انسان پر روحانی کیفیات طاری ہوجاتی ہیں اور وہ بیک وقت سکول، معاشرہ اور گھر ہر جگہ حاضر و ناظر ہوتا ہے۔ مگر گذشتہ کچھ عرصہ سے محکمہ کی طرف سے Head Countingکی آفات کے نزول نے اِس موسم کی رنگینوں کو گہنا دیا ہے۔

جس کے لئے حکومت وقت کو محض تجریدی اور غیر مرئی بد دعاؤں اور مزاحمت کا سامنا ہے۔یہ رخصت افیون کی طرح انسان کو متاثر کرتی ہے اور انسان چھٹی درج کروانے سے خوف محسوس کرتا ہے۔
تعطیلات سرما
یہ موسم ملازمین کے لئے زیادہ مسرت و فرحت کا موجب نہیں بن پاتا کیونکہ اس کا دورانیہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ اتنا وقت اور مہلت ضرور میسر آجاتی ہے کہ شادی شدہ خواتین و حضرات اپنے فاصلاتی گھروندوں کو ہاتھ لگا کر واپس آنے کی مشق کا اعادہ ضرور کر سکتے ہیں یوں یہ چھٹیوں کا ننھا منا موسم جاڑے میں سرد آہیں بھرتا بیت جاتا ہے اور نئے سال کی خوشیاں بھی غیر محسوس سی ہو کر رہ جاتی ہیں۔

Your Thoughts and Comments