Shairy Ki Laparwahiyaan

شاعری کی لاپرواہیاں

جمعہ ستمبر

Shairy Ki Laparwahiyaan
سید عارف نوناری
مطالعہ کرنا اچھا لگتا ہے جب نوجوان نوجوان ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ مطالعہ میں نر اور مادہ اکٹھے مطالعہ کریں تو پھر نوجوان ہونے کی شرط نہیں رہتی ضیاء الحق بھی مطالعہ بہت کرتے اور جب تھک جاتے تو کبھی کبھی سائیکل چلاتے لیکن اشفاق احمد اور بانو قدسیہ آپا جب تھک جاتی تو مطالعہ کراتی اصغر ندیم سید مطالعہ کرنے کے بعد سیروتفریحی کے وقت ڈرامہ لکھتے ہیں منو بھائی ڈرامہ لکھ کر اور کالم لکھ کر مطالعہ کرتے نواز شریف نے آئین کا اتنا مطالعہ کیا ہے کہ اب اراکین سیاسی وفاداریاں تبدیل نہیں کر سکیں گے کیا انہیں کوئی خطرہ پیدا ہو گیا تھا یا ممبران خطرے کی طرف جا رہے تھے یا حکومت خطرہ سے خالی نہیں ہے بڑے عرصہ بعد امریکہ اور برطانیہ کی طرح پاکستان نے بھی ایک مسئلہ کی آئینی صورت تو اختیار کر لی اب دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا سوچنا ضروری معلوم ہوتا ہے روس کی طرح اب کثیر جماعتی نظام بھی کم ہو جائے گا اور ہارس ٹریڈنگ اور بے سودے بازی بھی دم توڑ جائے گی اس سے سیاسی پارٹیوں کو استحکام ملا ہے۔

(جاری ہے)


اور عوام کو سکھ نصیب ہوا ہے فیض احمد فیض انقلابی شاعر تو تھے لیکن انہوں نے اپنے انقلابی خیالات کو اپنے علاقہ کی بہتری کے لئے کبھی استعمال نہیں کیا صرف اپنی ذات میں اتنی بہتری کی اور ہاشمی خاندان میں چلے گئے فیض احمد فیض کا خاندان عزت و احترام کے لائق ہے اور ہم ان کی عزت کرتے ہیں اسی طرح نواز شریف خاندان بھی قابل عزت و احترام ہے کیونکہ اُنھوں نے بھی ایسے بہت سے نمایاں کارنامے سر انجام دئیے ہیں ہمارے لیڈر ان قوم سے اور ووٹران سے بہت محبت کرتے ہیں محبت کے جذبات و احساسات ان میں کوٹ کوٹ کر بھر ے ہوئے ہیں لیکن یہ کہ سیاسی لیڈر ان اور عاشق کی محبت میں اختلاف ہوتا ہے لیڈر ان کی محبت کا اختتام ہوتا ہے لیکن عاشق کی محبت لامحدود ہوتی ہے محبت کرنا کوئی گناہ نہیں ہوتا لیکن محبت کو توڑنا نہایت گناہ ضرور ہے سیاست دانوں کی محبت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب الیکشن کے ایام ہوتے ہیں۔


اور ان کی محبت والفت کے کئی رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں بات ہو رہی تھی مطالعہ اور شاعروں کی تو شاعر تو عشق کے دیوانے ہوتے ہیں کبھی کبھی ان کا دیوانہ پن کام دکھا جاتا ہے اور ان کا عشق مزاجی عشق حقیقی ہو جاتا ہے ضیاء الحق بھی عشق حقیقی کے دعویدار نکلے پران پر بہت سے دعوے اور بن گئے تھے ہمیں آج تک اس بات کا پتہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پاکستان کے ووٹران باشعور ہوتے ہوئے بھی لاشعور ہو جاتے ہیں نواز شریف عوامی محبت کا کیا انجام کرتے ہیں یا عوامی محبت (مینڈیٹ) انہیں کب تک راس آتا ہے کسی بچے نے شرارت سے لکھ دیا لیلیٰ مجنوں اور لکھ کر بھاگ گیا کسی نے مجنوں سے کہا کہ دیوار پر لیلیٰ مجنوں لکھا ہوا ہے تو مجنوں نے کہا کہ لکھنے والا پاگل ہے اصل میں یہ ایک ہی نام ہے دیکھنے میں دو ہیں لیکن دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہئے اب یہ کہ ہمارے پاس دیکھنے والی آنکھ نہیں ہے شاعر ادیب تو ایک طرح سے اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں لیکن دوسرے کیسے احساسات و جذبات کا اخراج کریں یہ تو کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ لینا چاہیے۔


یا کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے شاعری سے لطف اندوز ہونے کے طریقے مختلف ہیں الیکشن میں سیاسی شاعری اور ادب کا استعمال بھرپور ہوتا ہے ۔فیض احمد فیض میلہ کے ریفرنس سے بات کرتا چلوں جہاں شاعری کی بات ہو رہی ہے کہ فیض احمد فیض کا تعلق کالا قادر نارووال سے تھا لیکن جو سالانہ ان کا میلہ منایا جاتا ہے اس میں ان کی بیٹیوں کو ترامیم کرنے کی ضرورت ہے ایک بین الاقوامی شہرت کے حامل شاعر کو اس طرح میلہ کا روپ نہیں بلکہ ادبی تقریب کا روپ دینے کی ضرورت ہے اشفاق احمد جہاں ڈرامہ نگار ہیں وہاں تصوف نگار اور روحانیت کی حقیقت بھی ان میں ملتی ہے شاعروں کے ساتھ ساتھ عورت کا مطالعہ بھی کرنا پڑتا ہے کیونکہ عورت کے بغیر شاعر نہیں ،اور سیاست کی شاعری کے بغیر عوام نہیں اگر عوام نہ ہوتی تو سیاستدان فرشتوں سے ووٹ مانگتے لیکن ان کو دشواری نہیں بلکہ سہولت رشوت نہ دینے کی رہتی ہے ہمیں تو یہ کہنا ہے کہ ووٹ مخلص قوم کا آئینہ دار ہوتے ہیں ملک میں ایمانداری مخلص اور دیانت داری کی ضرورت امانت، دیانت،صداقت کی طرح چاہئے ورنہ پھر ایمانداری طلب کرنے کے لئے فرشتوں کو ہنگامی بنیادوں پر امداد دینی پڑتی ہے۔


Your Thoughts and Comments