Shehriyon Se Toba Kareen

شہریوں سے توبہ کریں

بدھ نومبر

Shehriyon Se Toba Kareen
سید عارف نوناری
انسان نے زمین پر قدم رکھتے ہی بنیادی ضروریات کو محسوس کیا اور آہستہ آہستہ ترقی کرکے منازل طے کیں پھر مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔کچھ لوگ شہروں میں آباد ہو گئے اور کچھ دیہاتوں میں رہنے لگے آج کل شہری زندگی بسر کرنے کے لئے اپنی عزت و وقار کی بھی پرواہ نہیں کرتے بلکہ ہائی لیونگ سٹینڈرڈ کو برقرار رکھنا ان کے لئے خوراک سے بھی ضروری اور اہم ہے۔

شہری دیہاتوں کو اجڈ‘نا اہل اور بے وقوف تصور کرتے ہیں اور ان سے نفرت کرنا ایک مشغلہ سمجھتے ہیں۔اگر شہریوں کے کلچر کا مشاہدہ کیا جائے تو ان میں جدیدیت کے ساتھ ساتھ مغربیت کے پہلو زیادہ نظر آتے ہیں ۔رہنے سہنے کے انداز دیہاتوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں دیہاتوں کی زندگی سادہ اور سہل ہوتی ہے دیہاتوں کے رواجات و روایات کا اپنا مقام ہوتا ہے جنہیں بعض شہری پسند کرتے ہیں اور بعض کراہت کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

شہری دیہاتوں پر اپنے آپ کو ترجیح دیتے ہیں بعض تو دیہاتیوں کو انسان کے حلقہ ہی سے غائب کر دیتے ہیں اور دولت کے بل بوتے پر اپنی اہمیت کو معاشرہ میں قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شہریوں کی نسبت دیہاتوں کے لوگ سادہ‘محبت سے بھرے جذبات رکھنے والے‘ملنسار اور انسانیت کے قدر دان ہوتے ہیں وہ ظاہریت کو حقیقت پر ترجیح دیتے ہیں اور انسان کو انسان تصور کرکے اس کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھتے ہیں۔


شہری زندگی کمپلیکس کا شکار ہوتی ہے اس میں پریشانیاں‘مصائب‘ذہنی کوفتوں کا عمل دخل ہوتا ہے دیہاتی لوگ ان پریشانیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ دیہاتوں میں تعلیم کے تناسب میں اضافے کے باعث جدیدیت کے کچھ نہ کچھ عناصر پائے جاتے ہیں تعلیم کے سبب ان کے ذہن دیہاتی رسم و رواج کے شیدائی نظر آتے ہیں۔بعض شہری تو دیہاتی زندگی کو بہت پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی شہری رسم و رواج کی چھاپ ان میں کثرت سے نظر آتی ہے۔

دیہاتی کسی ملک کی ترقی میں اہم حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کو وہ مقام معاشرہ میں حاصل نہیں ہے جو کہ ہونا چاہئے۔ حکومت دیہاتوں کی نسبت شہروں کی تعمیر و ترقی پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔ شہری دیہاتیوں کے رہن سہن سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دیہات کے نام کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔بعض شہری تو دیہاتی رشتہ داروں کو رشتہ دار ہی نہیں سمجھتے اور انسانی تقاضوں کے ساتھ رشتہ داری کے تقاضوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔

اگر چہ تمام شہری اس قسم کے خصائص نہیں رکھتے ہیں ۔دیہاتوں کی زندگی میں اگرچہ تکلفات بہت کم ہیں لیکن ذہنی طور پر شہری ماحول کی نسبت دیہی ماحول میں رنگینیاں زیادہ ہوتی ہیں ۔دلکش مناظر‘سبزہ زار‘ کھیت اور کھلی فضاء اپنی جاذبیت کے گیت گاتی نظر آتی ہے۔ شہری تکلفات کو ہی زندگی تصور کرتے ہیں ان کی طبیعت اور ذہنوں میں انسانی کی قدر کے جذبات بہت کم ہوتے ہیں۔


دیہات ملک کا اہم اور لازمی حصہ ہوتے ہیں اگرچہ ثقافتی و تہذیبی لحاظ سے شہر ان سے مختلف ہوتے ہیں دیہاتوں کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا اس کی خوشحالی و ترقی کے لئے کوششیں دیہاتی ہی کرتے ہیں۔ اگر دیہاتوں کا وجود نہ ہوتا تو شاید ملک کا تصور بھی نا ممکن ہوتا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے دیہات کے لوگ سست روی سے کام لیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی کو پُر کشش بنانے کے لئے عملی جدوجہد میں حصہ نہیں لیتے ہیں۔

دیہاتی لوگ اپنی زندگی کے مقاصد تعین کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اکثر بے کار زندگی بسر کرتے ہیں۔اگر چہ یہ حساس بھی ہوتے ہیں لیکن جتنے شہری ہوتے ہیں اتنے حساس نہیں ہوتے۔
دیہاتی انسانیت کے شیدائی ہوتے ہیں۔ شہری حقوق العباد کے تقاضوں سے بے خبر ہوتے ہیں بعض شہری تو اپنے پڑوسی کو بھی نہیں جانتے ہیں۔ ان کی زندگی میں مصروفیات زیادہ ہوتی ہیں اور زندگی میں سکون کے لمحات کی کمی ہوتی ہے۔

بعض شہری انسانیت کے تقاضوں سے باخبر‘ملنسار‘الفت محبت کے پیکر ہوتے ہیں۔دیہاتوں کے باعث ہی شہر آباد ہیں۔ جنسی لحاظ سے دیہاتی افزائش نسل کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں۔دیہاتی شہروں کے لئے اناج اور خوراک کی اشیاء مہیا کرتے ہیں۔ شہری لوگ اخراجات کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں دیہاتی لوگوں کی بنیادی ضروریات کھانا پینا‘مکان اور کپڑا ہی ان کی بقاء کے لئے کافی ہوتاہے۔

سادگی ان کا شعار بن چکا ہے۔شخصیت اور وقار کو برقرار رکھنا ان کے لئے ضروری نہیں ہوتا۔ اگرچہ چودھراہٹ گاؤں اور دیہاتوں میں ہوتی ہے آج کل ان میں وہ کشش نہیں رہی جو کبھی پہلے تھی۔
شہری انا کی تسکین کے لئے ایسے افعال کر گزرتے ہیں جو معاشرے کے لئے مفید ثابت نہیں ہوتے۔خیالات پاکیزہ ہونا بھی دیہاتوں کی صفات میں ایک صفت ہے۔زندگی کو قریب سے دیکھنا اور اس کا تجزیہ کرنا صرف ایسے افراد ہی کر سکتے ہیں جو دیہاتی ہوں‘شہری فقط مصروفیات زندگی تک ہی محدود رہتے ہیں نہ جانے کیوں وہ انسانیت کی قدروں سے انحراف کرتے ہیں۔

شاید شہری ماحول انہیں یہ سب کچھ سکھاتا رہتا ہے یا وہ جان بوجھ کر کرتے ہیں بہر حال شہر کی بقاء دیہات کے ساتھ منسلک ہے ۔شہری القب شقیک رہتے ہیں دیہاتی سادگی کے باعث سیدھے سادے ہوتے ہیں اور وہ کسی چیز کے وجود کے لئے دلائل کے متلاشی کم ہوتے ہیں‘زندگی نے انہیں تقلید کرنا اور ماننا سکھایا ہوتا ہے۔
دیہاتی لوگوں کا اپنا معاشرہ اور اپنی مختلف روایات اور رسم و رواج ہوتے ہیں‘وہ صبر و استقلال کے پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریات کے شیدائی ہوتے ہیں‘ تقدیر پرست کہیں تو کچھ ٹھیک ہی ہے اور نہیں بھی۔


دنیا کے تمام ممالک میں گاؤں کی تعداد شہروں کی نسبت زیادہ ہے۔پاکستان میں تقریباً 75 فیصد لوگ ایسے ہیں جو دیہاتوں میں رہتے ہیں ۔جس طرح پاکستان میں شہری اور دیہاتی زندگی کا طرز زندگی یکسر مختلف ہے اسی طرح دوسرے ممالک کا بھی یہی حال ہے۔یورپی اور مغربی ممالک کی دیہی زندگی اپنے اندر انوکھے تجربات رکھتی ہے ۔بہر حال جہاں لوگ زیادہ آباد ہوتے گئے وہ شہر بن گئے اور جن کی آبادی کم رہی وہ گاؤں اور قصبات کی شکل اختیار کر گئے۔

زیادہ آبادی والے علاقوں کی طرف عوامی اور حکومتی توجہ رہی اور ان کو سہولیات زندگی زیادہ میسر ہوتی گئیں۔
اب سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا دیہات اور قصبوں کا طرز زندگی تبدیل ہو سکتا ہے یا نہیں۔دیہاتوں کا طرز زندگی تبدیل نہیں ہو سکتا بلکہ یہ امپرو ہو سکتا ہے اگر حکومت چاہے تو پھر ورنہ نہیں ۔دیہات کے لوگوں میں جدیدیت کے رجحانات کم ہوتے ہیں وہ اپنے بزرگوں اور آباء اجداد کی پیروی کو مقدم تصور کرتے ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ وہ دیہاتوں کو بھی مراعات دے تا کہ ان کے رہن سہن میں بھی کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور ہو۔

Your Thoughts and Comments