Siyasatdaanoon Ki Kharmastiyaan

سیاستدانوں کی خرمستیاں

منگل 24 نومبر 2020

سید عارف نوناری
پاکستان کی وجودیت کا احساس آج سے چودہ سو سال قبل مسلمانوں کو اس وقت ہو گیا تھا جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کافروں نے کرنی شروع کر دی تھی۔ یہ بعد کی بات ہے کہ رفتہ رفتہ اس نظریہ کے احساس میں شدت پیدا ہوتی گئی اور وہی قوم جو چودہ سو سال قبل اسلام کی مخالف تھی برصغیر میں مسلمانوں کو ان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

اصل میں یہ مخالفت نظریاتی اور اسلامی تھی۔ پاکستان کا وجود دراصل اسلام کی احیاء کا بچاؤ اور مسلمانوں کا تحفظ تھا۔ مادی جدوجہد پاکستان کا مقصد تحریکیں‘ساری کاوشیں‘ہنگامے‘مطالبات کا مقصد صرف مسلمانوں کا کافر قوم سے بچاؤ تھا اور ان کا تحفظ تھا۔ قائداعظم‘علامہ اقبال‘مولانا محمد علی جوہر اور سر سید جیسے عظیم نجات دہندہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرما دئیے۔

(جاری ہے)

تاریخ کی کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ علامہ اقبال اگر قائداعظم کو نظر یہ نہ دیتے تو یقینا پاکستان اس وقت بھارت ہوتا۔ قائداعظم نے برصغیر میں مسلمانوں کو علیحدہ تہذیب و تمدن‘روایات‘مذہب‘معاشرت کے نقطہ نظر پر اس طریقہ سے اکٹھا کیا کہ ہندو اور انگریز کو قائداعظم کی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑا۔ قائداعظم نے برصغیر میں دو اقوام کا مقابلہ کرنے کے لئے مثبت سوچ کے ذریعہ آزادی کی لو جلائی۔

دو قومی نظریہ ہی قیام پاکستان کا سبب بنا۔ قائداعظم کی موت کے بعد پاکستان میں کیا ہوا‘کیا کس نے کیا اور مقاصد پاکستان کیا طے پائے گئے تھے۔ قائداعظم‘علامہ اقبال کے پاکستان کے وجود کے بعد یہاں کیا ہوتا رہا۔روایات‘تہذیب‘سیاست کو کچلا گیا۔وہ سب کچھ بھلا دیا گیا جو کہ قائداعظم پاکستان بنانے کے بعد عملی طور پر پاکستان کو مکمل مملکت دیکھنا چاہتے تھے۔

سیاست کے تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرکے مفادات کو ترجیح دی گئی۔ قائداعظم اگر زندہ رہتے تو وہ ضرور پہلے ملک کو اسلامی مملکت بناتے۔
قیام پاکستان اور تحریک پاکستان نے اتنی داستانیں چھوڑی ہیں کہ بزرگ اور بھارت سے ہجرت کرنے والے بتاتے ہیں کہ نوجوان لڑکیوں کی عصمتیں لٹا کر اس ملک کو حاصل کیا گیا۔ بھائی نے بھائی اور بہن نے بہن کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھا‘ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں۔

قتل وغارت‘غنڈہ گردی‘تشدد کا بازار گرم رہا۔ قائداعظم کا پاکستان آج وہ پاکستان نہیں رہا‘لالچ کی ہوس نے اسے گھن لگا دیا ہے سیاستدانوں نے اس کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ قائداعظم کی دستاویزات فلمیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدبر سیاستدان،سچائی اور نظم و ضبط کے علم دار تھے۔ رشوت‘سفارش‘بدعنوانیوں جیسی موذی بیماروں نے ملک پر قبضہ جما لیا جن کی قائداعظم نے کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی تھی۔

اصل میں قیام پاکستان کے بعد ملک کو وہ رہنما میسر نہ آسکے جو ملک کو پروان چڑھاتے۔ ملک بیرونی امداد پر گزارا کرتا رہا۔ قائداعظم نے ایک جگہ فرمایا تھا کہ ہم نے یہ ملک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں لیا بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس میں اسلامی اصولوں کو آزما سکیں۔
اگر قائداعظم انگلستان سے واپس برصغیر میں نہ آتے اور انگلستان میں ہی رہتے تو پاکستان نہ ہوتا۔

مسلمان آج بھی انگریز قوم یا ہندو قوم کے غلام ہوتے۔قائداعظم کے پاکستان کو ہر حکومت نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور انفرادی مفادات کو مجموعی مفادات پر فوقیت دی۔
اگر قائداعظم کی سیاسی جدوجہد کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 1913ء کے بعد انہوں نے پہلے کانگریس اور مسلم لیگ کے لئے کام کیا 1926ء کے بعد انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

پھر 1935ء تک مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر قائداعظم کی جدوجہد اور 1945ء میں مسلمانوں کو انتخابات میں اکثریت حاصل ہونا ایک عظیم کامیابی تھی۔ حیرت ہے کہ انگریز بھی ابھی تک حیران ہیں کہ ایک شخص نے جو کمزور تھا لیکن ارادے کا پکا تھا ایک قوم کو علیحدہ وطن دلایا اور پھر اس شخص کی موت کے بعد کیا ہوا اور اس پر بھی دنیا حیرت زدہ ضرور ہے۔
قائداعظم کے خیالات و نظریات کی ایسی دھاک بیٹھی کہ انگریز مجبور ہو گئے کہ برصغیر کو تقسیم کرکے مسلمانوں کو اپنے حقوق دے دیئے جائیں ۔

انگریز نے اس شخص سے نجات حاصل کی۔ قائداعظم نے اعتراف کیا تھا کہ اگر علامہ اقبال نظریہ پاکستان نہ دیتے تو شاید میں اس پر عمل نہ کر سکتا۔ اصل میں علامہ اقبال‘قائداعظم کے لئے محرک ثابت ہوئے۔ قائداعظم کو خریدنے کے لئے دونوں قوموں نے برصغیر میں انتہاء کی کوششیں کیں لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان کا وجود اس وقت ہی عمل میں آگیا تھا جب پہلے مسلمان نے برصغیر میں قدم رکھا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان برصغیر آئے تو دو قومی نظریہ کا آغاز ہو گیا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ قائد نے ہمیشہ دو قوم کے نظریات کے تحت حقائق و دلائل کے ساتھ بات کی مسلمانوں کی بنیاد قوم کے نظریہ پر تھی۔ قائداعظم اقوال کے پکے تھے۔ حقائق سے کبھی انہوں نے منہ نہیں موڑا بلکہ ہمیشہ سچائی کے اصولوں پر چلنے کی تلقین کی اور سچائی کی پیروی کی۔


برصغیر میں پہلے مسلمان ہی آئے تھے انگریز اور ہندو یہاں بعد میں آئے تو اصل میں یہ خطہ مسلمانوں کا ہی تھا۔ قائداعظم نے فرمایا تھا کہ امن و سکون کے راستہ میں دیوار کو توڑ دینا ہی بہتر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کیا ہم نے قائداعظم کی پیروی کی ہے۔
قائداعظم کی زندگی کا مقصد انفرادی مفادات کی بجائے صرف پاکستان تھا ایسا پاکستان جو اب نہیں ہے۔

قائداعظم اسلامی نظریات کے داعی اور اسلام کے پیروکار تھے۔ یہ غلط ہے کہ وہ انگریز نواز تھے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہے کہ قائد روسی ایرانی نجات دہندہ کی طرح تھے۔ پاکستان میں قائد کے جانے کے بعد برائیوں میں اضافہ لوٹ بازاری‘رشوت‘ بدعنوانی‘تشدد‘قتل و غارت‘چور بازاری میں اضافہ ہوا۔ ان عناصر کی قائد نے روک تھام کی بار بار تلقین کی تھی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر بدنام ہے۔ قائد کے ارشادات وفرمودات کو فراموش کر دینے کا نتیجہ ہے کہ ہم مصائب و مشکلات کی چکی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ قائداعظم کی روح کو سکون و اطمینان پہنچانے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ قائد کے پاکستان کو ان کی منشاء اور اسلامی طریقوں کے مطابق چلایا جائے۔

Your Thoughts and Comments