Siyasi Moseqi

سیاسی موسیقی

بدھ ستمبر

Siyasi Moseqi
سید عارف نوناری
موسیقی روح کی غذا ہے تو کھانا کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ کسی مفکر نے شاید یہ کہنے سے پہلے یہ نہیں شرط لگائی کہ تمام انسانوں کے لئے روح کی غذا ہے یہاں تو روح کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ غذا اور غذائیت کی اہمیت و ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ موسیقی سننی ہو تو تنہائی کی ضرورت پڑتی ہے سوچ بچار سے کام لینا ہو تو بھی تنہائی کی ضرورت ضروری ہے ضیاء الحق تو موسیقی کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن نواز شریف موسیقی کے دلدادہ ہیں۔

انہیں سیاسی موسیقی کے ساتھ بہت لگاؤ ہے۔ وہ کبھی کبھار سیاسی موسیقی کے سرتال کے لئے خدمات بھی معاوضہ کے ساتھ لے لیتے ہیں۔صدر کلنٹن کو صحافیوں نے ان کے خلاف کسی صدر کے حوالہ سے باتیں کرکے بہت بھڑکایا تاکہ صدر کلنٹن سچ اگل دے۔لیکن کلنٹن نے جواب دیا کہ اگر وہ ایسا کرتا ہے اور کہتا ہے توکوئی بات نہیں وہ تو بچہ ہے شاعر اور صحافی موسیقی کو بہت پسند کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے سچ لکھنا ہوتا ہے اور موسیقی میں ساز آواز کے ساتھ سچ ہوتا ہے ہمیں ہی نہیں پتہ چلا کہ سیاست میں سیاست دانوں کے پاس موسیقی والی سوچ کیوں نہیں ہے ۔

(جاری ہے)


البتہ صحافی بھی سچ لکھتے وقت سیاست اور سچ کے خدوخال کو ضرور دیکھتے ہیں ۔سردار عارف نکئی سچ بولنے کے عادی تھے لیکن سچ پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔صدر لغاری کے ساتھ ایک تقریب میں بھی وہ سچ بولتے رہے لیکن لغاری نہ مانے اور پھر اس سچ سے وہ سچی مچی پر یقین کرنے لگے اور اسی سچ کے ذریعہ گھر جا کر بیٹھ گئے ایسی سچی باتوں سے ایوب خان اور ضیاء الحق گیارہ سال نکال کر خود نکل گئے۔

پاکستان میں پارلیمنٹ کے ادارے کمزور ہیں تو ان میں درد ناک موسیقی بودینی چاہئے ان کی مدت تین سال ہو جانی چاہئے موسیقی سے دل اور دماغ دونوں پر مثبت یا منفی اثرات پڑتے ہیں اگر یہی موسیقی جو غریب دن رات سنتے سناتے بور نہیں ہوتے ان کو سنا دی جائے تو پھر ضیاء الحق موسیقی کی بجائے اسلامی قوانین کے نفاذ کی موسیقی عوام کو سناتے رہے اور گیتوں کا رس ذہنوں میں گھولتے رہے قوانین ساتھ لے کر ملک عدم سدھار گئے ۔


اسلام کے نفاذ کی موسیقی تو اچھی ہے لیکن اس کا استعمال سیاست دانوں نے جس بھونڈے انداز سے کیا ہے وہ شرم ناک ہی نہیں باعث شرم ہے نواز شریف نے ابھی تک یہ غلطی نہیں کی۔ سیاسی جماعتوں اور پھر ان کا منشور نہیں تو ان میں کوئی خاص فرق تو نہیں آتا بس نظر کا فرق ہوتا ہے کہتے ہیں قاضی حسین بھٹو کے راستہ کو اختیار کئے ہوئے ہیں مسرت شاہین قاضی حسین کو پسند کرتے ہیں اور ان کی پارٹی میں شمولیت کا اظہار بھی کر چکی ہیں قاضی حسین دھرنا مارنے میں آگے آگے ہیں لیکن دھرنا مارنے کا طریقہ انہوں نے پتہ نہیں کہاں سے سیکھا ہے اور دھرنے کی اصلاح کہاں سے لی ہے یہ درآمد شدہ موسیقی تو وہ چاہتے تک نہیں ہیں کیونکہ اسلامی پارٹی سے ان کا تعلق ہے نوابزادہ نصر اللہ خان جس چکر میں چکر کاٹ رہے ہیں ان کے صرف چکر ہی رہ جائیں گے نواز شریف کی حکومت نومبر میں ختم ہونے کا امکان ہے۔

قاضی اور نوابزادہ کے یہ خواب ادھورے ہیں ان کی کوئی تعبیر نہیں ہے پاکستان میں ایجنسیوں کی بنیاد پر حکومتیں قائم ہوتی ہیں اور ان پر ختم ہوتی ہیں اب ان ایجنسیوں کے کیا ارادے ہیں اور کیا مقاصد یہ وقت کا میوزک بتائے گا البتہ نصر اللہ خان کا اتحاد میوزک اب بجنے سے رہا۔اب ان کے حقے کا میوزک باقی رہ گیا ہے۔
جو صرف تمباکو کی بھرتی کے ساتھ چلتا ہے بعض طلباء میوزک کے ساتھ پڑھائی کرتے ہیں بعض دوسروں کا میوزک سن کر گزر اوقات کر لیتے ہیں۔

پنجاب میں موسیقی کو اہمیت حاصل ہے ان کے سروں کی پہچان کے لئے اسلام آباد سے رابطہ ضروری ہے جہاں اسمبلی کے ساتھ ہی میوزک سنٹر ٹی وی سنٹر ہے احسان دانش تو میوزک سنتے تھے اور وہ گاڑیوں ویگنوں اور رکشہ کا میوزک مسلسل سننے سے بھی بور نہیں ہوتے تھے ۔جگر تھام کے بیٹھو اب میری باری آئی۔میوزک لینے اور میوزک سننے کی باری آئی ہے ۔عوامی موسیقی سننے کے لئے جگر دل کا وزن بڑھنا ضروری ہوتا ہے عوامی موسیقی میں گالیاں گلوچ دھینگا مشتی بھی ہوتی ہے جسے برداشت کرنا دل گردے والے کا کام ہے بے نظیر بھٹو ان کی عادی ہو چکی تھیں لانگ مارچوں سے وہ ان اصلاحات کو سیکھ پائیں تھی اور ان کی لانگ مارچوں میں دھینگا مشتی تو انتہا کی ہوتی سیاسی موسیقی کی کئی اقسام ہیں ان اقسام کو یاد کرنے اور جاننے کے لئے وقت کا ہونا اور وقت کا انتظار بھی ہوتا ہے صدر لغاری نے تو یہ طریقہ ذوالفقار علی بھٹو سے دیکھا تھا طالب علمی کے زمانہ میں انہیں شوق پیدا ہو گیا تھا لیکن اظہار انہوں نے کیا عرصہ کے بعد کیا۔


 گیت سنگیت راجہ مہا راجہ کا شوق بھی ہے وہ بہت شوقین اور محبت کرنے والے تھے تان سین،مکیش،رفیع، مہدی حسن کو سیاسی موسیقی کا شوق پیدا نہیں ہوا ہے کیونکہ انہیں یہ ہضم نہیں ہوا سیاسی موسیقی کا ایک اپنا ذائقہ ہے اور اس Tasteکا ذائقہ کڑوا بھی ہے اور میٹھا بھی مہدی حسن جب گاتے ہیں تو وہ راگ یا گرام میں گاتے ہیں سیاست دانوں کا گرام ویسے خراب ہو جاتا ہے الیکشن میں انہوں نے اتنے گیت عوام کو سنائے ہوتے ہیں کہ عوام تو ان کو نہیں بھولتے لیکن وہ بھول جاتے ہیں موسیقی جہاں روح کی غذا ہے وہاں معاشرہ کی ضرورت اور سیاست دانوں کی خوراک بھی ہے ۔

سیاسی موسیقی میں اتار چڑھاؤ اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ اور بہت سی سیاسی سازندے اپنے اپنے ساز کے ساتھ باقاعدگی سے نمودار ہوتے ہیں ۔پاکستان کی سیاست میں اب سیاسی موسیقی بہت مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ سیاسی موسیقی میں باقاعدہ گروہ بندی ہو گئی ہے ۔اور سیاسی تبدیلیوں میں ایسے موسیقار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments