Tankhaw Gumshuda

تنخواہ گمشدہ

پیر مارچ

Tankhaw Gumshuda
کرنل ضیاء الحق
فوج کی تنخواہ تھوڑی سہی لیکن اس میں برکت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ جب ہم کیڈٹ بن کر نئے نئے فوج کو پیارے ہوئے تو چند سو روپے ماہوار کے وظیفے پر گزارہ تھا۔ اس میں بتدریج اضافے کے ساتھ ساتھ ہمارا طرز ِ زندگی بھی بہتر ہوتا چلا گیا۔ ہم یہ بات انتہائی فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہ تو کبھی تنگی کا احساس دامنگیر ہوا اور نہ ہی قرض لینے کی نوبت آئی ۔


شادی سے پہلے افسر تنخواہ بینک سے نکلوا کر میس حوالدار کے حوالے کرتا ہے اور شادی کے بعد بیگم کے۔ دونوں صورتوں میں اس کا کام فقط تنخواہ کے چیک پر دستخط کرنا ہی ہوتا ہے جو وہ برضاورغبت کر دیتا ہے۔ تنخواہ کے ساتھ ہی لمبے چوڑے بل بھی موصول ہوجاتے ہیں جن کو چکانے کے بعد بچ رہنے والے آنے پائیوں کے حساب کتاب کے لئے جو مہارت درکار ہوتی ہے اس کا افسروں کے ہاں شدید فقدان ہوتا ہے لہٰذااس بھاری پتھر کو چومنے سے گریز ہی کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

تنخواہ جاری وساری رہے تو گلشن کا کاروبار ایک لگے بندھے معمول کے مطابق رواں دواں رہتا ہے لیکن اگر کسی بنا پر اس میں کوئی رخنہ پڑجائے تو گویا قیامت ہی ٹوٹ پڑتی ہے۔ ایسے میں افسر کاوہی حال ہوتا ہے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مرزا غالب کا موئے فرنگیوں کی جانب سے پینشن روکے جانے پر ہوا تھا۔
یہ مارچ 2001ء کا ذکر ہے۔ ہم ان دنوں کپتان تھے اور سکول آف آرٹلری نوشہرہ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

ہمیں وہاں تعینات ہوئے کوئی دو ماہ کا عرصہ ہوچلا تھا۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے کہ ایک روز تنخواہ نکلوانے نیشنل بینک پہنچے تو یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ تنخواہ اکاونٹ میں جمع نہیں ہوئی۔ بینک منیجر نے ریکارڈ چیک کر کے بتایا کہ انہیں سی ایم اے کی جانب سے چیک موصول نہیں ہوا۔ ہم نے اگلے روز چھٹی لے کر سی ایم اے پشاور کا رخ کیا۔ انہوں نے اپنے ریکارڈ کی پڑتال کر کے اطلاع دی کہ ان جانب سے مذکورہ چیک بینک کو دو ہفتے قبل ارسال کر دیا گیا تھا۔

نوشہرہ پہنچ کر ایک مرتبہ پھر بینک منیجر کے روبروپیش ہوئے اور انہیں سی ایم اے (1) کے موقف سے آگاہ کیا۔ موصوف نے ہماری بات سنی ان سنی کر کے حتمی رائے دی کہ چیک موصول ہوئے بغیر رقم آپ کے اکاؤنٹ میں جمع نہیں ہوسکتی۔ اگلے دن پھر پشاور پہنچے اور سی ایم اے والوں سے اس مسئلے کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آپ نیشنل بینک سے Non Payment Certificate بنوا لائیں۔


ہم نوشہرہ پہنچے اور بینک منیجر سے مذکورہ سرٹیفکیٹ لے کر اگلے ہی روز سی ایم اے والوں کی خدمت میں پیش کر دیا۔ متعلقہ افسر نے تسلی دی کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہم یہ چٹھی اپنے مرکزی دفتر واقع راولپنڈی کو بھجوا رہے ہیں اور وہاں سے جوجواب موصول ہوگا اس سے آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔ چنددنوں بعد جواب موصول ہوگیا جس میں فرمایا گیا تھاکہ تین ماہ بعد سٹیٹ بینک سے حتمی رپورٹ موصول ہوگی تب نیا چیک جاری کیاجائے گا۔

ہم نے دن گننے شروع کردیے۔ خدا خدا کر کے تین ماہ گزرے لیکن نیا چیک پھر بھی جاری نہ ہوا۔ ہمارے باربار دریافت کرنے پر یہی بتایا جاتا کہ ابھی مزید انتظار کرنا ہوگا۔ آخر پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد ہمارا پیمانہ صبرلبریز ہو ہی گیا اور ہم نے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (2) کو ایک عددذاتی خط ارسال کردیا جس میں یہ تمام رودادمن وعن بیان کی گئی تھی۔


اس خط کے جواب میں اکاؤنٹنٹ جنرل صاحب نے ہمیں فوراً نیا چیک جاری کرنے کے احکامات صادر فرمائے اور ماتحت عملے کی اس کوتاہی پر سخت سرزنش فرمائی کہ اصولاً افسر کی رپورٹ پر نیا چیک تین دن کے اندر جاری ہوجانا چاہیے تھا جو کہ پانچ مہینے بعد بھی کیوں نہ کیا گیا۔ بقول شاعر:۔
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
ہمیں توفی الوقت اپنی تنخواہ کے چیک سے غرض تھی جو کہ تاخیر سے ہی سہی لیکن پوری ضرور ہوگئی تاہم کچھ دنوں بعد یونہی قواعد وضوابط کی ایک کتاب کے صفحے پلٹتے ہوئے معلوم ہوا کہ ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کو براہ راست خط لکھنے کی ممانعت ہے۔


یہ پڑھ کر خداکا شکر ادا کیا کہ ہم اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل دونوں ہی اس ضابطے سے واقف نہ تھے ورنہ ہماری تنخواہ کا چیک گمشدہ ہی رہتا اور ہم اس کی تلاش میں آج بھی دربدر بھٹک رہے ہوتے۔

Your Thoughts and Comments