Tanzo Mazah Nigari

طنز و مزاح نگاری

جمعہ مارچ

Tanzo Mazah Nigari

شمس الرحمن فاروقی

مزاح نگار کو ہمارے یہاں عام طور پر درجہ  دوم کا فن کار اور مزاح نگاری کو درجہ  دوم کی چیز سمجھا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہماری زبان یا ہمارے ملک میں مزاح کی صلاحیت نہیں ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان اور اس کے بولنے والوں میں مزاح کی صلاحیت عام جدید ہندوستانی زبانوں اور اس کے بولنے والوں سے کچھ زیادہ ہی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زبان جن عناصر سے مرکب ہے، یعنی سنسکرت اور فارسی ، دونوں میں اعلیٰ مزاح کی روایت بہت قدیم اور بہت وسیع رہی ہے۔

دنیا
کی تمام ترقی یافتہ زبانوں کی طرح سنسکرت ، فارسی اور پھر اردو میں بڑے ادیبوں نے مزاح کو نام نہاد سنجیدگی سے الگ کوئی چیز نہ سمجھا۔

موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مزاحیہ اور طنزیہ تحریریں صرف ہلکی پھلکی تحریریں ہوتی ہیں۔

ان میں کوئی گہرائی یا وزن نہیں ہوتا یا اگر ہوتا بھی ہے تو اس درجہ نہیں جس درجہ کسی سنجیدہ تحریر میں ہوتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انگریزی تعلیم کے بعض غلط نتائج نکلے، کیوں کہ زیادہ تر لوگ انگریزی یا مغربی ادب سے پوری طرح واقف نہیں تھے ۔

ان
کا مبلغ علم سنی سنائی باتوں یا ادھر ادھر کی باتوں تک محدود تھا۔

پھر انگریزی تنقید کے بعض اہم نمائندوں کی ایک آدھ تحریرپر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کیا گیا۔

مثلاً آرنلڈ نے سو برس پہلے لکھا ہے کہ ڈرائڈن اور پوپ انگرےزی شاعری کے نہےں بلکہ انگرےزی نثر کے اعلا نمونے ہےں۔

پھر
کےا تھا۔لوگ فوراً اےما ن لے آئے کہ جب آرنلڈ جےسا نقاد ڈرائڈن اور پوپ جےسے بڑے طنز و مزاج نگار شعراءکو شاعروں کی فہرست سے ہی خارج کر رہا ہے تو اردو کے چھٹ بھےّوں کی کےا اوقات ہے؟لوگ ےہ بھول گئے کہ آرنلڈ کا قول غلط بھی ہوسکتا ہے۔

لوگ
ےہ بھی بھول گئے کہ آرنلڈ کی اس رائے کو اس زمانے مےں بہت سے لوگوں نے قبول نہےں کےا اور اس کے پچےس ےا تےس برس بعد ٹیاےس اےلےٹ نے ان شاعرو ںکی تعرےف کی بلکہ بڑی شاعری کی اےک صفت ےہ بھی بتائی کہ اس کو پڑھ کر پوری طرح نہےں کھلتاکہ شاعرسنجےدہ ہے ےا مذاق کر رہا ہے ۔

غالباور
مےرکے ےہاں ےہ صفت واضح ہے لےکن ہم لوگوں نے ان کے ےہاں بھی اےسے شعروں کو نظر انداز کردےا بلکہ اکثر ان پر شرمندہ بھی ہوئے کہ صاحب ےہ پرانے زمانے کے نےم مہذب لوگ تھے،ان کی عمر کا لحاظ کرکے انھےں معاف کر دےجئے۔

لےکن سارا قصور انگرےزی تعلےم کا نہےں ہے کےونکہ اسی انگرےزی تعلےم کے دور کے زمانے مےں ہمارے ےہاں اکبر الہ آبادی جےسا عظےم طنز و مزاح نگار پےدا ہوا۔

اسی زمانے مےں اقبال تک نے ظرےفانہ شعر کہے اور ان لوگوں فوراً بعد ہمارے ےہاں رشےد احمد صدےقی اور پطرس بخاری نے ہمارے ادب کو مالا مال کےا ۔

اسی
زمانے میں ظرےف لکھنوی بھی تھے اور خواجہ حسن نظامی بھی۔

ظرےفانہ
ادب اور ادےب کی تفصےل قدر ےعنی DEVALUATIONکی کچھ ذمہ داری ہمارے ظرےفانہ ادےبوں پر بھی ہے،جنھوں نے بھونڈے پن کو ظرافت اور کھردرے جھنجھلائے ہوئے اندازِ بےان کو طنز نگاری سمجھا۔

طنزےہ
مزاحےہ ادےب کی پہلی صفت ےہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو دنےا والوں اور رسم و رواج سے بندھی ہوئی ا ن کی ذہنےت سے برتر اور الگ سمجھتا ہے ےعنی طنز ومزاح قائم اسی وقت ہوتے ہےں ۔

جب
ہم طنز نگار ےا مزاح نگار کی ذہنی برتری ےا اخلاقی برتری کو قبول کرےں۔

طنز
و مزاح نگار اگر دنےا اور اہلِ دنےا کو حقےر ےا بے وقوف ےا نا سمجھ نا سمجھے تو اس کی تحرےر کا کوئی جواز نہےں رہ جاتا۔

لےکن
ذہنی اور اخلاقی برتری کا ےہ روےّہ لطےفہ بازی،جملہ بازی،دانت پےس کر کوسنے ،گلا پھاڑ کر چلّانے سے نہےں قائم ہوتا۔

ہمارے
زمانے کے ظرےفانہ ادیبوں نے خود کو مسخراےا جھگڑا لو بنا کر پےش کرنا پسند کےا۔

ذہنی
اور اخلاقی برتری نصےب نہےں تھی،ان مےں سے اکثر مےں وہ MALICEےا کنےہ توزی بھی نہ تھی جس نے سود اسے شاہ ولی اللہ جےسے محترم اور مقدس اور مفکر بزرگ اور مرزا مظہر جانِ جاناں جےسے مرنجاں مرنج اور فرشتہ صفت صوفی کی ہجوئےں لکھوائےں ۔

لہٰذ
انھوں نے خود کو بھانڈ ےا محفل کی وقت گزاری کو آسان کرنے کے والے لطےفہ گوےا فقرہ باز ےا بات بات پر گالےاں سنانے والے سٹھےائے ہوئے بڈھے کے روپ مےں پےش کرنے مےں عافےت سمجھی ہمارے زمانے کے اکثر طنز و مزاح نگار اپنے لےے”مےں“کے بجائے ”ہم “کا استعمال کرتے ہےں۔

کےونکہ
”ہم“مےں اےک طرح کی گم نامےت ANONYMITYاےک طرح کی مسکےنی اور عاجزی ہے۔

ےہ
وہ ”ہم“نہےں ہے جو غزل کا شاعر استعمال کرتا ہے۔

ہمارے
اکثر طنزےہ مزحےہ مضامےن مےں ”ہم“اےک سادہ لوح شخص کی صورت مےں نمودار ہوتا ہے ۔

یہ سادہ لوح شخص بیوی سے ڈرتا ہے، دوست اس کی شرافت اور سیدھے پن کا فائدہ اٹھا تے ہیں۔

دفتر یا کاروبار میں اسے ترقی نہیں ملتی ۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ موقع بے موقع بھونڈے یا سپاٹ لطیفوں سے اپنی باتوں کو قابلِ برداشت بناتا ہے۔

مرزا مظہر جانِ جاناں اور میر کے بارے میں سودا کے اشعار ، خواجہ سرا کی ہجو میں میرکے اشعار ، ظہور اللہ نواکی ہجو میں جرا ¿ت کا مخمس ، انگریزی تہذیب کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہندوستانی نوجوانوں کے بارے میں اکبر کی نظمیں پڑھ کر جس شخصیت کے خد وخال سامنے آتے ہیں اس کو آپ ناپسندیدہ کہہ سکتے ہیں ،اس سے دوستی کرنا شاید آپ پسند نہ کریں ، لیکن آپ اسے گھر گھسنا ، نکھٹو ، زن مرید ، دوستوں اور ساتھیوں کے فقروں کا ہدف نہیں کہہ سکتے ۔

نہ ہی اسے آپ کٹ کھنا ، چڑچڑے بوڑھے کی طرح بڑبڑاتا ہوا کوئی مجہول الحال لفظوں کا بھاڑ جھونکنے والا کہہ سکتے ہیں۔

آج کل ہمارے زیادہ تر مزاح و طنز نگار جس شخصیت اور ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ انھیں دو خانوں میں سے ایک میں فٹ ہوسکتی ہے۔

مزاح میں گہرائی طنز کے بغیر نہیں آسکتی اور طنز کی پہلی شرط غصّہ نہیں بلکہ فکر ہے۔

یہ سمجھنا کہ طنز نگار کا میلان مفکرانہ نہیں ہوتا۔ طنز نگاری اور کالم نگاری کو خلط ملط کرنا ہے۔

مفکرانہ میلان سے میری مراد یہ نہیں کہ طنز نگار کسی فلسفے کی تلقین کرتا ہے۔

یا وہ افلاطون یا ارسطو کی کتابیں پڑھ کر ان کے خیالات کو بیان کرتا ہے۔

مفکرانہ میلان سے مراد یہ ہے کہ طنز نگار خود کو دنیا اور اہلِ دنیا کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے اوپر سمجھتا ہے ۔

لیکن
وہ ان کمزوریوں اور مجبوریوں سے واقف ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ خود بھی ان برائیوں کا شکار ہوسکتا ہے۔

اس میں کھلنڈراپن نہیں ہوتا لیکن ایک طرح کی IRREVERENCEاس میں ضرورہوتی ہے جیسا کہ S. J. PERELMANنے کہا ہے ۔

لوگوں کے کولھوں میں کبھی کبھی سوئی چبھوتے رہنا چاہیے ۔

لیکن یہ IRREVERENCEسرکس کے مسخرے والی حرکت نہیں ہوتی جو ہیروئن کو چپت لگا کر خود چاروں خانے چت گرجاتا ہے۔

ہمارے زمانے کے اکثر ظریفانہ ادیبوں نے خود کو میر کے شیخ کے مصداق بنالیا ہے

Your Thoughts and Comments