Thane Or Thanedar

تھانے اور تھانیدار

جمعرات ستمبر

Thane Or Thanedar
سید عارف نوناری
تھانے جانے کے لئے کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہاں جانے کا آسان طریقہ غریب شہری کا جرم کرنا یا نہ کرنا ہے۔ اس طرح بندہ تھانہ پروٹو کول کے ساتھ چلا جاتا ہے لیکن تھانہ سے واپس آنے کے لئے سفارش کی ضرورت پڑتی ہے تھانے ٹھاء سے چلتے ہیں اور تھانے میں ٹھاء چوہدری کی چلتی ہے تھانوں سے ہمیں تھانوں کے کردار کا یاد آتا ہے کہ تھانے جانا عزت کی بات بھی ہے ۔

اور بے عزتی کی بھی لیکن عادی مجرم جب بار بار تھانے جاتے ہیں تو ان کی عزت کے ساتھ تعلقات میں بھی اضافہ ہوتا ہے تھانوں کے پرچے یا مقدمے بھی سفارشات اور علاقائی تقسیم سے ہوتے ہیں تھانہ میں کام کے لئے رابطہ ضروری ہے یہ رابطہ روپیوں کا رابطہ بھی ہے۔ تعلقات کا رابطہ بھی،تھانے جانے سے بہتر ہوتا ہے کہ بندہ دوزخ میں جاکر سکون لے کیونکہ تھانہ میں سکون کم اور تکالیف زیادہ ہوتی ہیں پھر تھانہ میں انصاف ملتا ہے ۔

(جاری ہے)


لیکن ذرا مہنگا ملتا ہے کیونکہ مہنگائی کے براہ راست اثرات تھانہ پر بھی پڑتے ہیں تھانہ کو اور پولیس کو صرف جس طرح بچے کو سکول نہ جانے کے بہانے چاہئیں اسی طرح ان کو کمائی کے بہانے چاہئیں۔ بہانے تلاش کرنا ٹاؤٹوں کی ذمہ داری ہوتی ہے تھانہ کا نظام درست ہوتا ہے جب ممبران کو درست کرنا مقصود ہو جو خوبیاں اور خصوصیات تھانیدار میں ہوتی ہیں وہی شائد وزیراعظم میں ہوتی ہیں اورجو اختیارات وزیراعظم کو ہیں وہی تھانیدار کو ہیں پھر ایسے اختیارات اور خصوصیات مشترکہ ہونے کے سبب انصاف کتنا سستا ہو سکتا ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ جتنا سستا پانی ہے پھر تھانے اور تھانیدار کے لاگ اتنے ہوتے ہیں کہ اتنے لاگ سے ایک غیر شادی شدہ کو بیو ی مل جاتی ہے ۔جس کے لئے ساری زندگی یعنی قبل از موت تک کی گرنٹی بھی ساتھ ہوتی ہے تھانیدار کیسے چلتا ہے اور کیسے رکتا ہے سب جانتے ہیں البتہ اتنا ہے کہ ایماندار تھانیدار کے ساتھ تھانہ کے نظام اختیارات کے علاوہ طریقہ کا درست کر دیا جائے۔

تومعاشرہ کو انصاف ضرور مل جاتا ہے ۔
تھانیدار کے لاگ تب شروع ہوتے ہیں جب کوئی شخص کسی کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لئے درخواست دیتا ہے جس طرح بارات کی رخصتی کے لئے لاگ ضروری ہیں اسی طرح مدعی سے خلاصی حاصل کرنے کے لئے پولیس لاگ بک تیار کرتی ہے ۔بعض دفعہ لاگ وزراء کو بھی دینے پڑ جاتے ہیں ہمیں تو پتہ نہیں کہ پولیس کے لاگ بک کے علاوہ اور کون سی بکیں ہوتی ہیں۔

البتہ برآمدگی بک کا ریکارڈ بڑی احتیاط سے رکھتے ہیں بلکہ ان کے اور بڑے حساب کتاب ہوتے ہیں جن درخواستوں کے ڈھیر لگ جائیں تو پھر کانسٹیبل سے لے کر تھانیدار تک کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں تھانیدار سے دوستی بھی بری اور دشمنی بھی بری،مثال مشہور ہے کہ پولیس والے کسے دے یار نیں ہوندے یہ اپنے سکے نہیں ہوتے تو پھر اوروں کے کیا ہوں گے شہریوں کی خوب خبر لیتے ہیں ۔

پھر ان کے پاس لسٹیں بھی موجود ہوتی ہیں ان لسٹوں کی مدد سے یہ چوروں کی حالات زندگی اور کارکردگی سے بھی واقف ہوتے ہیں ۔ایسے فرشتے بھی ان کے پاس ہوتے ہیں جنہیں چوری شدہ اشیاء کے چوروں کی خبر ہوتی ہے پولیس والے اتنے ڈرپوک ہوتے ہیں یعنی خوف و ڈر سے اپنی وردی کی عزت کو محفوظ رکھتے ہیں پورے سال کی کارکردگی کا حساب کتاب چوروں سے لے کر ایس پی کو دیتے ہیں۔

انصاف مہیا کرنے کے ان کے اپنے قوانین ہیں اور طریقہ تفتیش میں نان ونفقہ کا جرمانہ بھی وصول کرتے ہیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کن سے ڈرتے ہیں ۔یا ان میں ڈر ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ہو سکتا ہے یہ ماہر نفسیات سے تجاویز لے کر خوف کو نکلوا دیتے ہیں ۔ہمیں دکھ اس بات پر ہے کہ ہم پولیس میں بھرتی نہیں ہوئے اگر ہوتے تو پھر انصاف دینے کے لئے معاشرہ کے پسے ہوئے طبقہ کی مدد ضرور کرتے۔


قانون کی کتابوں کے مطابق تھانیدار علاقہ کا بادشاہ ہے ۔وہ جس علاقے کا تھانیدار ہے وہ اس کی ریاست ہے۔پھر اس ریاست میں اور بھی بڑے حصے دار ہوتے ہیں ۔ہر ریاست کا تھانیدار دوسری ریاست میں قوانین سے ہٹ کر مداخلت بھی کرسکتا ہے ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا بہت ضروری ہے کہ آیا جس کے خلاف ایف آئی آر درج ہو رہی ہے وہ واقعتا مجرم بھی ہے یا اس کے پیچھے مخالفین کی چالیں ہیں لیکن پولیس تو یہ دیکھتی ہے کہ دونوں پارٹیوں سے کتنے جرمانے وصول کئے جانے ہیں تھانے اور تھانیدار میں امتیاز کرنا مشکل تو نہیں ہے البتہ تھانہ قائم رہتا ہے لیکن تھانیدار میں تغیر آتا رہتا ہے یورپ میں تھانیدار تھانے دار ہوتا ہے اور وہ وردی کی حفاظت کرتا ہے ۔

اور انصاف کو فروخت کرنے کی بجائے انصاف کو دونوں ہاتھوں سے دیتا ہے معاشرہ میں برائیوں پر کنٹرول کرنا ہو تو تھانیدار پر کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔یہ اپنے فرائض میں کتنی غفلت کرتے ہیں اور کتنے اچھے طریقہ سے فرائض سر انجام دیتے ہیں یہ معلوم کرنا ہو تو ایسے شخص سے رابطہ کرنا پڑے گا۔
جس کا سیاسی پس منظر نہ ہو اور وہ پولیس کے ہتھے چڑھ جائے انصاف دینے والے کب تک ظلم کے پہاڑوں کی فروخت جاری رکھیں گے۔

نہ وزیراعظم بتا سکتا ہے اور نہ عوام کتنی ایف آئی آر صحیح اور کتنی درست درج ہوتی ہیں بعض دفعہ تو ایف آئی آر رجسٹر بھی انصاف کا مطالبہ شروع کر دیتے ہیں تھانیدار کے اختیارات کو محدود کرنے کے لئے وزیراعظم کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ جس سے 70 فیصد سے زائد لوگ جو بلا وجہ تھانے کے طوائف کرتے ہیں ۔ان سے بچ سکیں تھانے اور تھانیدار فروخت ہونے کی بجائے پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی کے جذبہ کے تحت کام کریں۔

لیکن یہاں یہ ہے کہ فرض ہے آپ کا مدد پولیس کی ،چہروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے کے لئے ان کے پاس اتنا حوصلہ نہیں کیونکہ جہاں تھانیدار سے پوچھ کر ڈکیتی اور چوری کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے اور تمام گینگ کا تھانیدار کو معلوم ہو وہاں معاشرہ میں دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھنے سے گیس ٹرب تو ہو سکتی ہے لیکن تھانے اور تھانیدار فروخت ہونے سے نہیں بچ سکتے۔اور عوام انصاف کے لئے گھر بار لوٹا کر اپنی عزت پھر بھی نہیں بچا پاتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments