Waqai Bara Shawarma

واقعی بڑا شوارمہ

حافظ مظفر محسن بدھ جولائی

Waqai Bara Shawarma
 حافظ مظفر محسن
ہمارے بچپن میں گُڑ شکر کا استعمال عام تھا۔یہ سفید چینی اُس وقت شاید ”بہت زیادہ“اچھی چیز نہیں سمجھی جاتی تھی۔(ویسے اطلاعاً عرض کردوں کہ یہ کوئی پانچ سوسال پرانی بات نہیں!)ہمار ے دور میں گُڑبھی براؤن بلکہ سیاہی مائل ہوتا تھا۔ اور شوگر کے مریض بھی رات کے کھانے کے بعد گُڑ لازمی کھایا کرتے تھے ۔کیونکہ اُنھیں بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا۔

کہ وہ شوگر جیسے موذی مرض کا شکار ہیں اور ہر وقت موت سایے کی طرح اُن کے سروں پر منڈلا رہی ہے ۔اُ س دور میں یہ بحث بھی عام تھی کہ انسان”بکواس “کرتا ہے کہ وہ چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہو چکا ہے ۔اُس دور میں ”برگر“ابھی نیا نیا ایجاد ہوا تھا۔اور اکثر لوگوں کو بر گر کھانے کا طریقہ بھی نہیں پتہ تھا۔جانوروں کے بارے میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔

(جاری ہے)

کہ وہ صدیوں سے ایسے ہی کھاتے آئے ہیں۔
جوں جوں ماؤں نے اپنے نوزائیدہ بچوں کو گود میں اٹھانا چھوڑا۔توں توں گھر سے باہر جا کر کھانے کا رواج عام ہونے لگا۔مائیں ہمیں نہایت شوق اور محبت سے ساگ پکا کر مکھن ڈال کر مکئی کی روٹی کے ساتھ کھلواتیں اور بچے دیکھتے ہی دیکھتے مرد بن جاتے۔اب بچے پہلے نوکرانی کے ہاتھوں فیڈر میں دودھ پیتے ہیں ۔پھر نوکرانی کے ہاتھوں برگر کھاتے ہیں اور پھر نوکرانی کے ہاتھوں میں ہی بڑے بچے بن کر اسکول کالج جانے لگتے ہیں۔

اور بڑوں کی محفل میں ”پاپا“کے پیچھے چھپ کر”بڑوں“کی باتیں سنتے ہیں اور ”شرماتے “چلے جاتے ہیں۔کسی ایم بی اے کے سٹوڈنٹ کو لڑکیوں کے ساتھ بریانی کھاتا دیکھیں سب سمجھ آجائے گا۔
آج کے بیس سالہ”بڑے بچے“کو شرم بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔یہاں تک کہ وہ مسجد میں بھی ”پاپا“کے ساتھ ہی جاتا ہے ۔اور بازارمیں خریداری کے لیے اُسے”ماما“کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔

پٹھان پچاس روپے والی عینک کے ساتھ سو مانگے تو و ہ دے دیتا ہے۔
کل میں نے ایسے ایک”بچے“کو باپ سے سوا ل کرتے سُنا تو میں رُک گیا میرا سانس بند ہونے لگا۔”پاپایہ سجدہ سہو کیا ہوتا ہے “۔ہم گُڑ کھانے والوں ساگ کے ساتھ مکئی کی روٹی کھانے والوں کو سات سال کی عمر میں ہی اللہ کے فضل سے پتہ ہوتا تھا کہ”سجدہ سہو“کیا ہوتا ہے ۔اور کیسے ادا کیا جاتا ہے ۔

کہ ہمیں مائیں ساری دعائیں۔بڑی سورتیں۔مذہبی واقعات سات آٹھ سال کی عمر میں یاد کرواچکی ہوتی تھیں۔
پھر”برگر“۔کی ایجاد کے ساتھ ہی”شوارما“وجود میں آگیا۔ماڈرن دور کی ماں کے لیے اک اور سہولت پیدا ہو گئی ۔حالانکہ یہ سب چیزیں اُس ماڈرن معاشرے میں ضروری سمجھی جاتی ہیں ۔جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ دفتروں فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں۔

اور چونکہ دونوں میاں بیوی سارا دن مصروف ہوتے ہیں واپسی برگر،شوارما لیا کچھ جوس وغیرہ پیا اور سوگئے۔مگر یہاں سارا دن تھوڑا بہت کام کاج کرکے سارا دن ٹیلی ویژن پر ”بھارتی چینل“پر ہزارہزار قسطوں والے ڈرامے دیکھ کر جب عورتیں تھک جاتی ہیں تو وزن مزید بڑھانے کے لیے وہ پھر برگر۔شوارما وغیرہ وغیرہ خود بھی کھاتی ہیں اور”بے چارے“بچوں کو بھی یہی کھلواتی ہیں۔

روزبرگر یا شوارما کھانا ایسے ہی ہے جیسے بے چارہ شوہر روز بیوی سے جھڑکیاں کھائے ۔بدمزہ مگر مسکراتے ہوئے۔
پاکستان میں 1965کے بعد کوئی شاید بڑی فیکٹری ایجاد نہیں ہوئی البتہ کاسمیٹکس کی کاٹیج انڈسٹری اور برگر۔شوارما بیچنے والے ایک ایک شہر میں بیسیوں ریسٹورنٹ بن گئے اور انھوں نے خوب ترقی کی ۔یا پھر موبائل فون اک انڈسٹری کی شکل اختیار کر گیا۔

کہ بیس کروڑ آبادی والے ملک میں ایک ارب سے زائد موبائل فون دستیاب ہیں اور بے چارے پیغام رساں کبوتر”بے روزگاری“ کے ہاتھوں تنگ۔اپنی موت آ پ مرگئے۔“کبوتر جاجاجا․․․․․کبوتر جاجا جا “گانے والی اب بھارت جا بیٹھی ہیں۔رسالوں کے ننگے ٹائٹل کی زینت بن جانے کے لیے ۔باقی پاکستانی اداکار ائیں بھی بمبئی جانے کے لیے پرتول رہی ہیں۔
لاہور میں شوارما ۔

تیس روپے میں بھی ملتا ہے اور دوسو سے تین سو تک بھی شوارما گلی محلوں میں دستیاب ہے۔
آج میں گھر سے نکلا۔تو شہر کی سب سے اہم اور بڑی سٹرک پر میں نے یہ بورڈ آویزاں دیکھا۔
”واقعی ۔بڑا شوارما“۔۔۔”سچی مچی ۔بڑا شوارما“
کل کو شاید مرزا ذوالفقار کی دیکھا دیکھی بینر لگا ہو اور اُس پر بہت بڑا لکھا ہو۔”خدا کی قسم۔واقعی بڑا شوارما“۔
رات ٹیلی ویژن پر بحث چل رہی تھی۔

اک چینل پر نہایت خوبصورت خاتون ،نہایت خوبصورت انداز میں ۔نہایت بزرگ قسم کے چار سیاستدانوں کو سامنے بٹھائے۔نہایت روانی کے ساتھ اردو بولتے ہوئے ۔نہایت بڑے سیاستدانوں کے ”اثاثوں“کی بات کر رہی تھی۔عمران خان نے اپنے اثاثے ظاہر کر دیے۔بار بار التجا کر رہے تھے کہ واقعی میرے یہی اثاثے ہیں۔ واقعی میں سچ کہہ رہا ہوں۔عوام توجہ سے بہت ہیں مانتے ہیں۔


اُدھر ۔چوہدری نثار زور دار انداز میں دعویٰ کر رہے تھے۔کہ واقعی میرے یہی اثاثے ہیں ورنہ جو ثابت کرے وہ لے لے۔گویا ۔قوم میں جھوٹ اور جعل سازی اس قدر پھل پھول چکی ہے ۔کہ ہر شخص کو اپنی سچی بات منوانے کے لیے بھی قسم کھانی پڑتی ہے ۔قرآن پاک سر اٹھانا پڑتا ہے۔باقی احمد پوری کے چند اشعار اُن کی تازہ شاعری کی کتاب”ہمارا کیا ہے؟“میں سے ملا حظہ کریں۔


منزل بے جہت رہ خستہ خراب
دُور تاحد نظر دشت وسراب
روح سر زندہ ستم خوردہ ملُول
شعر بے تاثر شاعر بے اصول
ہماری سنےئرقیادت اب اپنی اپنی صفائیاں پیش کرنے میں مصروف ہوچکی ہے۔لوگوں کو لیڈروں سے بہت بڑی بڑی اُمید یں ہیں مگر الطاف حسین لندن میں زرداری دبئی ہیں۔میاں صاحبان غصے میں اور قوم شاید قومے میں ؟!․․․․اور واپڈا والے ڈر کے دُبکے بیٹھے ہیں گھروں میں۔


ہاں البتہ بلاول بھٹو زرداری ۔محترمہ مریم نواز شریف اور عمران خان میدان میں ہیں ۔لیکن نعرے تو پرانے ہیں۔ ان بوسیدہ نعروں کے ساتھ اب یہ نئے راہنما بھی دعوے کریں گے کہ۔”میں بلاول بھٹو زرداری ہوں واقعی بڑا لیڈر“۔”میں مریم نواز شریف واقعی بڑی راہنما۔اور عمران خان پورا زور لگا کر دعویٰ کریں گے۔واقعی میں بڑاخان ہوں۔”واقعی بڑا شوارما“کھانے والے دیکھیں اب کس کو”واقعی بڑالیڈر“مانتے ہیں؟!فی الحال تو سنا ہے موجود ہ حکومت ۔”واقعی بڑی مشکل “میں ہے۔

Your Thoughts and Comments