Waqt Kisi Ka Intezar Nahi Karta !

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا!

عطاالحق قاسمی بدھ ستمبر

Waqt Kisi Ka Intezar Nahi Karta !
لاہوریوں کو دو چیزوں کا بہت شوق ہے‘ایک ٹائم پوچھنے کا اور دوسرا ٹائم کی پابندی نہ کرنے کا ‘کچھ لوگ ٹائم بہت شوق سے بتاتے ہیں بلکہ وہ اس کے علاوہ بہت سی معلومات فراہم کرتے ہیں۔مثلاً یہ کہ جس گھڑی سے آپ کو ٹائم بتایا جا رہا ہے‘وہ گھڑی کس کمپنی کی ہے اور اس کی کیا کیا خصوصیات ہیں‘ایک دفعہ ایک صاحب سے میں نے ٹائم پوچھا تو انہوں نے ٹائم بتانے سے پہلے اس کی خصوصیات گنواتے ہوئے کہا کہ اس میں دوسری گھڑیوں کے علاوہ دو خصوصیات ایسی ہیں جو کسی اور گھڑی میں نہیں ملیں گی‘ایک یہ کہ میں نے یہ گھڑی فٹ پاتھ سے صرف ڈیڑھ سو روپے میں خریدی تھی اور دوسری خصوصیت یہ کہ ایک سال ہو گیا ہے اور یہ گھڑی آج تک بندنہیں ہوئی۔

یہ کہتے ہوئے انہوں نے گھڑی اتار کر مجھے دکھائی میں نے تجسس کی نظروں سے اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے بعد ٹائم دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ بند پڑی تھی
!
آج کل تو گھڑیاں عام ہو گئی ہیں ایک وقت تھا کہ یہ کسی کسی کے پاس ہوتی تھی چنانچہ ان دنوں یار لوگ بازو کو ہوا میں لہراتے تھے‘بلاوجہ ٹائم دیکھنے لگتے تھے تاکہ کسی طرح مخاطب ان کی گھڑی کی طرف متوجہ ہو اور ان سے ٹائم پوچھے‘’اگر سامنے بیٹھا ہوا شخص بہت ہی اذیت پسند ہوتا اور کسی صورت بھی ٹائم پوچھنے پر راغب نظر نہ آتا تو پھر ”صاحب گھڑی‘’‘کو خود بتانا پڑتا کہ کیا ٹائم ہوا ہے۔

(جاری ہے)

تاہم کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو پوچھنے پر بھی ٹائم نہیں بتاتے تھے‘ان میں میرے ایک دوست بھی شامل ہیں‘جن سے آج بھی اگر ٹائم پوچھا جائے تو وہ ٹائم پوچھنے والے کومخاطب کرکے کہتے ہیں’کیوں صاحب‘میں آپ کو ٹائم کیوں بتاؤں؟کیا آپ نے میری گھڑی میں حصہ ڈالا ہوا ہے؟“ایک دفعہ تو میرے اس دوست نے ایک اسی طرح کے ”سائل“سے کہا ”معاف کیجئے‘میری گھڑی ٹائم بتاتی نہیں ‘ٹائم پوچھتی ہے!“
جہاں تک لاہوریوں کے ٹائم کی پابندی کا تعلق ہے ‘یہ اسے مشرقی آداب کے منافی سمجھتے ہیں!مجھے اکثر ملاقات کے خواہش مند افراد کے فون آتے ہیں ‘ان سے اس قسم کی گفتگو ہوتی ہے۔


”سر!میں آپ کا بہت مداح ہوں‘آپ سے ملنا چاہتاہوں۔“
”ضرورتشریف لائیں‘آپ کتنے بجے آسکیں گے؟“
”جی‘میں کل کسی وقت حاضر ہو جاؤں گا۔“
اگر فرض کریں میں ان صاحب کے انتظار میں واقعی سارا دن گھر پر بیٹھا رہوں کہ ان کا”کسی وقت “کسی بھی وقت آسکتا ہے تو اس کے باوجود ضروری نہیں کہ وہ اس دن ضرورتشریف لائیں‘بلکہ چند دن بعد اگر ان کا دوبارہ فون آتا ہے اور وہ ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو اس دن نہ آسکنے کی معذرت تو کجا‘وہ اس کا ذکر تک نہیں کریں گے۔

ویسے آپ لاہوریوں کی پھر تیاں دیکھیں تو لگے گا ان سے زیادہ مصروف اور وقت کا پابندی کوئی نہیں‘سینما میں قومی ترانا بجنے پر کھڑے رہنے کی بجائے باہر نکلنا شروع کردیں گے جیسے کسی بہت ضروری کام کے لیے ان کا وہاں وقت پر پہنچنا ضروری ہے ‘کوئی گاڑی تین چار گاڑیوں کو کٹ مارتی ہوئی”شوں “کرکے آپ کے قریب سے گزر جائے گی جیسے آگ بجھانے جارہی ہو‘ٹریفک سگنل سبز ہونے سے پہلے کھسک کھسک کر زیبرا کراسنگ کر اس کرکے سڑک کے عین درمیان میں پہنچ جائیں گے جس سے دوسری طرف سے آنے والا ٹریفک خود بخود رک جائے گا اور یوں یہ سرخ بتی کے ہوتے ہوئے بھی سبز بتی کے لطف اٹھائیں گے!
لاہوریوں نے ٹائم کے حوالے سے بہت سے شعر بھی یاد کرر کھے ہیں جو عموماًرکشوں ‘بسوں اور ٹرکوں کے پیچھے لکھے ہوتے ہیں۔


غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
اور یہ شعر تو نیو خان کی بسوں پر اکثر لکھا نظر آتاہے
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
مگر نہ تو کسی کو یہ فکر ہے کہ وقت گزرتا جارہا ہے اور اگرہم نے اس کا احساس نہ کیا تو خود ہم بھی ”گزر “جائیں گے اور نہ ہی یا ر لوگ ایک پل کی خبر نہ ہونے کے باجود لمبے لمبے پروگرام بنانے سے باز آتے ہیں۔ہم میں سے ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ وقت ہماری خاطر رک جائے گا مگر وقت تو فرعون کے لیے بھی نہیں رکا جس نے اپنی خدائی کا اعلان کر رکھا تھا!

Your Thoughts and Comments