Yeh Muamla Koi Or Hai

یہ معاملہ کوئی اور ہے

جمعرات 21 نومبر 2019

 اعتبار ساجد
عبدالغفور پر وانہ چک نمبر تین سو چالیس(گ ب)سے بذریعہ بس لاہور کے لئے روانہ ہوا۔جب لاہور پہنچا تو شام کے پانچ بج رہے تھے۔فضا میں خاصا گردوغبار اور دم گھونٹ دینے والا حبس تھا۔ایک حجام کی دکان پر عبدالغفور پر وانہ نے اپنا ادھڑاہوا سفری تھیلہ رکھوایا اور تین روپے دے کرغسل کیا اور ادیبوں سے ملنے کی مہم پر چل کھڑا ہوا۔سب سے پہلے اس نے جناب احمد ندیم قاسمی کے رسالہ فنون کے دفتر میں حاضری دی اور نہایت تپاک اور عقیدت سے ہاتھ ملا کر چپ بیٹھ گیا۔

آدھا گھنٹہ چپ بیٹھنے کے بعدوہ کسمسا کر اٹھا اور باہر نکل کر قتیل شفائی صاحب کی تلاش میں روانہ ہو گیا۔مختلف ویگنیں اور بسیں بدلنے کے بعد جب وہ ان کے دولت کدے پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ قتیل صاحب شہر سے باہر کسی شہر میں مشاعرے میں گئے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

سخت بدمزہ ہو کر وہ پھر ویگنیں اور بسیں بدلتا ہوا ظہیر کا شمیری صاحب کے پاس پہنچا۔وہ اپنے کام میں اس قدر مصروف تھے کہ اس کا نام اور آمد کا مقصد تک نہ پوچھ سکے۔


وہاں سے دل برداشتہ ہو کر وہ منیر نیازی صاحب کے گھر پہنچا۔جاتے ہی بڑی گرمجوشی سے ان سے معانقہ کیا اور ان کے روبرو زانوئے ادب تہہ کرکے بیٹھ گیا۔جب خاصی دیر ہو گئی اور کوئی بات نہ ہوئی۔ “وہاں سے آزردہ خاطر ہو کر عبدالغفور پر وانہ پاک ٹی ہاؤس پہنچا۔معلوم ہوا اوپر منزل پر ایک ادبی اجلاس ہو رہا ہے۔عبدالغفور پر وانہ اوپر پہنچ کر دبک اور سہم کر سامعین میں بیٹھ گیا۔

اجلاس ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا اس دوران عبدالغفور ایک ایک کامنہ تکتا رہا اور سوچتا رہا کہ فلاں فلاں صاحب کو کہاں دیکھا ہے۔بعد میں اس نے بڑی گرم جوشی اور اپنائیت کے ساتھ سب سے ہاتھ ملایا۔بعضوں کے گلے لگا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔کسی ادیب یا شاعر نے اس بات کی ضرورت نہیں سمجھی کہ اس کا نام پوچھا جائے ۔یا اس سے تعارف حاصل کیا جائے۔

البتہ وہ اکثر ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے نام اور پتے نوٹ کرتا رہا۔ٹی ہاؤس سے نکل کر وہ حجام کی دکان پر پہنچا،جہاں اپنا بیگ رکھواگیا تھا،چونکہ حجام اسی دکان میں سوتا بھی تھا۔اس لئے عبدالغفور پر وانہ کے لئے بھی رات بسر کرنے کی گنجائش اور سہولت پیدا ہو گئی۔چند ہی لمحوں میں وہ محمد شریف با بر کادوست بن گیا۔صبح اٹھ کر اس نے لاہور کے چند کام نمٹائے اور دوپہر کو چک نمبر تین سوچالیس(گ ب)کی بس میں سوار ہو گیا۔

گاؤں پہنچ کر اس نے اپنا سفر نامہ تحریر کیا جو کچھ اس طرح ہے۔
جب میں لاہور پہنچا تو ٹھنڈی اور معطرہواؤں نے لہرا کر میرا استقبال کیا۔اس وقت شام کے پانچ بجے تھے۔احمد ندیم قاسمی کو فون کرکے اپنی آمد کی اطلاع دی تو انہوں نے فوراً اپنی گاڑی اور ڈرائیور بھیج کر مجھے بلوالیا۔رات کا کھانا قاسمی صاحب کے گھر پر ہی کھایا۔وہ دروازے تک مجھے چھوڑنے آئے اور اپنا ڈرائیور اور گاڑی میرے حوالے کر کے دیر تک نم آلود آنکھوں سے مجھے رخصت ہوتا دیکھتے رہے اور ہاتھ لہراتے اور رومال سے آنکھیں پونچھتے رہے۔

ڈرائیور نہایت موٴدب اور تعلیم یافتہ نوجوان تھا۔ایک اندازے کے مطابق اس کی تعلیم ایم اے کے قریب قریب رہی ہو گی۔اس نے مجھے قتیل شفائی صاحب کے گھر پہنچایا۔قتیل صاحب کو میری آمد کی اطلاع مل چکی تھی،وہ کھانا چھوڑ کر ننگے پاؤں بھاگتے ہوئے آئے اور مجھے بے تحاشا گلے لا کر گھسیٹتے ہوئے اندر لے گئے۔ان کے بے جا اصرار پر ان کے ساتھ بھی کھانا پڑا۔

ہم کھانا کھاہی رہے تھے کہ منیر نیازی کا فون آگیا کسی نے انہیں میری آمد کی اطلاع دے دی تھی۔وہ مجھ سے ملنے کے لیے سخت مضطرب اور بے چین تھے۔
لیکن قتیل صاحب کا اصرارتھا کہ میں کھانے کے بعد آرام کروں۔”خیر“میں کسی طرح قتیل صاحب سے آنکھ بچا کر نکل آیا۔ڈرائیور کو منیر نیازی صاحب کے گھر کا پتہ سمجھایا ہم وہاں پہنچے تو نیازی صاحب ننگے پاؤں،ننگے سر ،پریشان پریشان لان میں ٹہل رہے تھے۔

مجھے دیکھتے ہی جھپٹ کر گلے لگالیا اور فوراً کھانا لگوادیا،میں لاکھ انکار کر تا رہا لیکن نیازی صاحب نے میری ایک نہ مانی۔ان کے پر خلوص جذبات کی قدر کرتے ہوئے میں ہاتھ دھو کر ان کے ساتھ بھی کھانے کے لئے بیٹھ گیا۔کھانے کے بعد قہوے کا دور چلا اور دیر تک میری ادبی کامیابیوں کے تذکرے ہوتے رہے ۔چونکہ پاک ٹی ہاؤس کے ایک اجلاس کی مجھے صدارت کرنی تھی،لہٰذا قہوے کا دور ادھورا چھوڑ کر میں اٹھ کھڑا ہوا۔

ٹی ہاؤس پہنچا ۔تو جلسہ شروع ہو چکا تھا لیکن سب کو میرا انتظار تھا۔میرے پہنچتے ہی کھلبلی سی مچ گئی۔سارے ادیب وشاعر مجھے دیکھ کر ہر بڑا کر اپنی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے،ہر شخص کی خواہش تھی کہ سب سے پہلے وہ مجھ سے مصافحہ یا معانقہ کرے،بہر حال اس مرحلے سے فارغ ہو کر میں نے اجلاس کی کاروائی دوبارہ شروع کروائی۔
اجلاس کے اختتام پر تو میری یہ حالت بنادی گئی ،گویا میں گڑہوں اور سامعین مکھیاں۔

یا پھر میں شمع ہوں اور حاضرین پر وانے ،جسے دیکھئے میرا پتہ نوٹ کررہا ہے،میری طرف آٹو بک گراف بڑھا رہا ہے ،کئی تنظیموں کے سر براہوں نے ہاتھ تک جوڑے کہ لِلّلہ دو چار دن ٹھہر جائیں،آپ کے اعزاز میں ایک اعلیٰ درجے کی تقریب منعقد کرتے ہیں،لیکن میں مسکرا مسکرا کر ٹالتا رہا ،رات گئے میں اپنے ہوٹل پہنچا،تو ریسپشن پر کئی پیغامات میرے منتظر تھے۔

ایک پیغام صوبائی حکومت کے نمائندے کی طرف سے تھا۔”میلہ مویشیاں عنقریب منعقد ہونے والا ہے ۔دو چار دن اور ٹھہر جائیے۔تاکہ بھاگ ناڑی بیلوں کے شائقین آپ کو بھی دیکھ لیں۔“
ایک پیغام حسن رضوی کا تھا کہ ابھی ابھی انٹر نیشنل مشاعروں سے فارغ ہو کر آیا ہوں،آتے ہی آپ کی آمد کی اطلاع ملی۔دس گیارہ مرتبہ فون کر چکا ہوں ،لیکن آپ کی آواز کی شیرینی میرے حصے میں نہیں آئی۔

براہ کرم صبح تیاررہیں۔میں منہ اندھیرے پہنچ کر آپ کا انٹرویو کروں گا۔ساتھ فوٹو گرافر بھی ہوں گے۔جو آپ کی رنگین اورد یدہ زیب تصویریں بنائیں گے۔خدا کے لئے سال میں ایک آدھ چکر غیر ممالک کا بھی لگا لیا کریں،وہاں آپ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ بی بی سی کانمائندہ بھی سب سے پہلے آپ ہی کی خیریت پوچھتا ہے۔“
خیر میں نے حسن رضوی کو فون کرکے ٹال دیا کہ برادرم میں تو گیارہ بجے دن سے پہلے سو کر نہیں اٹھتا۔

آپ منہ اندھیرے آکر کیا کریں گے،لیکن اخباری نمائندوں نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ہر شخص کی خواہش تھی کہ میں اس کے اخبار کے ادبی ایڈیشن کے لئے انٹرویودوں، اور بتاؤں کہ ادب کی صورت حال کیا ہے اور اس حالت میں ادب کا کیا فرض بنتاہے،پروفیسر سعادت سعید عطا الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کے بھی فون اور پیغامات موصول ہوئے کہ خدا کے لئے ملاقات کی کوئی سبیل نکالیں، اور ادب پر بات کرکے ہمیں ذہنی الجھنوں ،پریشانیوں اور قلبی وسوسوں سے نجات دلائیں،لیکن مجھے خطرہ تھاکہ جہاں ادب کے موضع پر لب کشائی کروں گا،ادبی دنیا میں کوئی نہ کوئی فتنہ اٹھ کھڑا ہو گا اور سارا ملبہ مجھ پر آگرے گا۔

لہٰذا میں ہنس ہنس کر سب کی التجائیں اور درخواستیں رد کرتا رہا۔کیونکہ فساد خلق سے میں ہمیشہ اجتناب کرتاہوں،اور نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے باہم سر پٹھول ہو یا آپس میں خشت باری شروع ہو جائے۔یہ ٹھیک ہے کہ لوگ علامہ اقبال، حفیظ جالندھری ،جوش ملیح آبادی،فراق گورکھ پوری ،فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی کے ساتھ ہی مجھ نا چیز کا نام بھی لیتے ہیں اور عمر کے لحاظ سے میری مقبولیت کو بیسویں صدی کا معجزہ قرار دیتے ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں خود شہر ت سے بہت دور بھا گتا ہوں۔

اور حتی المقدور کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوشہ گمنامی میں خاموشی سے بیٹھ کر خدمت ادب میں زندگی گزاروں لیکن لوگ پیچھا نہیں چھوڑتے ۔کسی نہ کسی تقریب کی صدارت کے لئے اخلاقی دباؤ ڈال کر مجبور کر دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اپنے ماہنامہ”اونٹ “کی کوئی کل میں اب تک سیدھی نہیں کرپاتا اور ہمیشہ تاریخ مقرر گزرجانے کے بعد ہی اس کی ڈمی تیار کرکے پریس لاز برانچ کو بھجواتا ہوں،تاکہ ڈکلر یشن منسوخ نہ ہو جائے،اور میں اپنے نام کے ساتھ مدیر اعلیٰ ماہنامہ”اونٹ“لکھنے سے بھی جاؤں!

Your Thoughts and Comments