Zarorat Hai Aik Khushamdi Ki

ضرورت ہے ایک خوشامدی کی

بدھ نومبر

Zarorat Hai Aik Khushamdi Ki
 کرنل محمد خان
میں کافی کی پیالی کے لئے انٹرکان میں داخل ہورہی تھی کہ سامنے سے کالج کے زمانے کا میرا ایک خوب رُوہم جماعت اشرف آتا دکھائی دیا۔اشرف کو دیکھے مجھے کم وبیش پندرہ برس گزر چکے تھے۔میں نے اسے پہچان لیا لیکن وہ میرے قریب سے گزرا تو بالکل بیگانوں کی طرح۔مجھ سے نہ رہا گیا‘میں نے کسی قدر ملامت کے لہجے میں کہا:
”اشرف‘مجھے پہچانا نہیں؟میں کشورہوں“
اشرف نے ایک لمحے کے لئے مجھے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔

پھر یک لخت اس کے ہونٹوں پر وہی دیرینہ مسکراہٹ نمودار ہوئی اور بولاتو اپنی غلطی کی اس خوبصورتی سے تلافی کی کہ دل جیت کرلے گیا۔کہنے لگا۔
”ارے کشور!تم؟اللہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہو!کتنی کم عمر!!بھلا میں تجھے کیسے پہچان سکتا تھا؟“
اشرف نے دوچار اور باتیں کیں اور رخصت ہو گیا‘لیکن مجھے ترستا چھوڑ گیا۔

(جاری ہے)

جو کچھ اس نے میری صورت اور عمر کے متعلق کہا تھا‘بالکل سچ نہ سہی ‘ذرا جھوٹ ہی سہی‘لیکن ہائے کتنا پیارا جھوٹ تھا۔

میرا جی چاہا کہ اس دلر با جھوٹے کا دنیا کے اُس سرے تک پیچھا کرتی رہوں ۔کافی کی میز پر بیٹھی تو مجھے یہی محسوس ہوا جیسے میں پینتیس سال کی نہیں ،فقط پندرہ سال کی کانونٹ سکول کی طالبہ ہوں․․․․․․خوشامد جھوٹی سہی‘مگر کتنی دلکش ہوتی ہے!کوئی عورت تعریف کے بغیر کیسے جی سکتی ہے؟
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر؟
شاید مجھے جھوٹی تعریف کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ میں نے چھوٹی عمر میں سچائی کے ہاتھوں بڑے درد ناک چر کے سہے ہیں۔

ایک دفعہ ہمارے سکول کی لڑکیوں نے ڈرامہ کھیلا۔سسٹر نے ساری کلاس کو سامنے کھڑا کرکے مختلف کردار چنے۔نصرت بادشاہ بنی،غزالہ ملکہ،نجمہ شہزادی ،عابدہ پری لیکن پتہ ہے مجھے کیاپارٹ ملا؟․․․․․نوکرانی کا!مجھے چنتے ہوئے سسٹر نے خاص طور پر اطمینان کا سانس لیا۔کہنے لگی:
”کشور“تمہارا ناک نقشہ اس پارٹ کے لئے خاص طور پر موزوں ہے۔“
کرنٹی کہیں کی!وہ کہتے ہیں ناکہ فلاں شخص اس بے رحمی سے سچ بولتاہے کہ آبلے پڑجاتے ہیں‘تو ہماری سسٹر بھی اسی فلاح کی کچھ لگتی تھی۔

میں نے یہ پارٹ تو کر دیا‘لیکن سال بھر اپنے آبلے سہلاتی رہی۔
سوجس لڑکی کا ماضی سچائی کے ہاتھوں اتنا مجروح ہو چکا ہو‘اس کا حال جھوٹی تعریف کے بغیر کس قدر بد حال ہو گا۔جی ہاں‘جی چاہتا ہے کہ میری ہر کمزوری․․․․مثلاً ناک․․․․․کو ہر وقت کوئی تعریف کے ریشمی پردے سے ڈھا نکتا رہے۔
سچی بات ہے‘مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ فرشتے باقی سب کچھ ٹھیک ٹھاک بنا کر ناک کیوں چپٹی کر دیتے ہیں۔

جیسے اس پر غلطی سے یا شاید جان بوجھ کر پاؤں رکھ دیا ہو۔کیا اللہ تعالیٰ ایسے فرشتوں سے بازپُرس نہیں کرتا؟مگر انہیں کچھ سزامل بھی گئی‘تو مجھے کیا فائدہ ؟میری ناک میں تو نوک اور نزاکت آنے سے رہی․․․․کہتے ہیں کہ خدائی کاموں میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ٹھیک ہے،نہیں دیں گے مگر ایک بات ہماری ضرور ماننا پڑے گی۔ایسے اناڑی فرشتوں کے سپرد عورتوں کی ناکیں کسی صورت نہ کی جائیں۔

یہ انہیں فرشتوں کا کیا دھرا ہے کہ پلاسٹک سرجن دونوں ہاتھوں سے عورتوں کو لوٹ رہے ہیں․․․․میں اپنی ناک کے آپریشن کے لئے ابھی آدھی فیس ہی جمع کر سکی ہوں۔
اور وہ جو میرے مقابلے میں ملکہ بنی تھی نا عابدہ‘ذرا اس کی فگر تو دیکھو۔کمر اور پیٹ میں تمیز ہی نہیں ہو سکتی۔ملکا ئیں ایسی ہوتی ہیں؟مگر وہ بنتی بہت ہے۔بزم آرائی کی شوقین ہے۔کچھ اور نہیں کر سکتی ‘تو اپنی قمیض تین انچ اور تنگ کر دیتی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ہر دیکھنے والی یا والے کی توجہ وہ گوشت کھینچنے لگتاہے جو قمیض میں پھڑ پھڑا رہا ہوتاہے۔توجہ کا مقام بدلنے کے لئے وہ چوڑیوں سے بھی بڑی سنہری بالیاں کانوں میں لٹکا لیتی ہے۔ہم نے تو کبھی ایسا نہیں کیا!
میں جب کبھی کسی محفل میں جاتی ہوں‘اپنے خیال میں بڑی دلچسپ گفتگو کا آغاز کرتی ہوں تاکہ حاضرین مجلس میری آواز سنتے ہی تالیوں کے شور میں کہہ اٹھیں”بخدا کشور کیا جادو ہے تمہاری زبان میں“لیکن اکثر ہوتایہ ہے کہ جو نہی زبان کھولتی ہوں،پارٹی اور اس کے قرب وجوار میں سناٹا چھا جاتاہے۔

سوچتی ہوں کہ جس طرح غالب نے اپنے ساتھ ایک نوحہ گر رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا،میں بھی ایک ستائش گر رکھ لوں جو اشارہ پاتے ہی جھوم جھوم کرکہنے لگے”کشور بی بی ۔صدقے تمہاری میٹھی باتوں کے“اور ایک دوسرا اشارہ ملنے پر مزید نعرہ لگائے”نئیں ریساں بی بی کشور دیاں“مگر حیف کہ غالب کی طرح مجھے بھی ایک ستائش گر رکھنے کا مقدور نہیں اور بلا معاوضہ ستائش کرنے والے پہلے ناک نقشہ خصوصاً ناک دیکھتے ہیں۔


میں جب کسی عزیز کو تحفہ دیتی ہوں‘یعنی تحفے کو بنا سنوار کر ‘رنگین کاغذ میں لپیٹ کر‘گوٹے کی ڈوری سے باندھ کر ‘ہنستی مسکراتی پیش کرتی ہوں‘تو قدرتاً اس قسم کے جواب کی توقع رکھتی ہوں۔
”کشور ‘پیاری کشور‘کیا لاجواب تحفہ چنا ہے تم نے!کیا کہنا تمہارے حسن انتخاب کا۔آؤ تمہارے ہاتھ چوم لوں“۔
لیکن ہوتا کیا ہے کہ محبوب محترم پیکٹ کھول کر پہلے تو ہونٹ لٹکا کر تحفے کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں اور پھر اسے میز پر رکھ کر پیچھے ہٹتے ہوئے کہتے ہیں:
”ارے یہ شے ہے کیا؟یہ کسی کام بھی آتی ہے؟“
اور جب میں فخر یہ کہتی ہوں کہ جان من‘یہ ایک ایسا قلم ہے جو سگریٹ لائٹر کا کام بھی دیتا ہے‘تو فرماتے ہیں:
”اچھا‘یہ وہی چیز ہے جو للوکئی روز سے لئے پھرتاہے!“
للو ہمارے ہمسائے کے کند ذہن لڑکے کا نام ہے۔

ٹھیک ہے‘للونے بھی یہ چیز کہیں سے حاصل کرلی ہے‘لیکن مجھے یاد دلانے کا یہ کون سامحل ہے؟تحفہ جیسا بھی ہو‘تحفہ ہونے کی وجہ سے تعریف کا مستحق ہوتاہے ،لیکن ان سب لوگوں کو سچائی کی پڑی ہے۔دراصل ان لوگوں کی بنیادی تعلیم میں خرابی ہے۔ان کی کچی پہلی کے قاعدے میں الف بے کے بعد پہلا سبق اسی طرح شروع ہوتاہے”سچ بولو‘پورا تولو‘․․․․․خدا جانے سچ بولنے سے کس کا بھلا ہوتاہے؟عورتوں کا تو نہیں ہوتا۔

پورا تو لنا بھی اتنا ہی فضول ہے آپ کسی دکان دار سے پوچھ لیں!
میرے لئے اپنے کپڑوں کا انتخاب بھی مصیبت بن گیا ہے۔جی چاہتا ہے کوئی معمولی چیز بھی پہن لوں‘تو دیکھنے والے کہہ اٹھیں”کشور‘اس لباس میں تو تم تصویر لگتی ہو‘تصویر!“کس چیز کی تصویر‘مجھے یہ جاننے کی ضرورت نہیں۔میں ان لوگوں میں سے نہیں جو اتنی خوبصورت تحسین میں خفیہ کیڑے ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔

مجھے تو بس ایک تگڑاسا‘گاؤتکیے کے برابر سفید جھوٹ چاہئے جس کا مزے سے سہارا لے سکوں․․․․․تو پچھلے اپریل‘آمد بہار کی خوشی میں ‘میں نے ایک غرارہ سوٹ کا آرڈر دے دیا جس پر کار یگر نے اس قدر سلمے ستارے ٹانک دیئے کہ کہکشاں آدھی سے زیادہ خالی نظر آنے لگی۔درزی نے سوٹ پہنا کر دیکھا‘تو عش عش کر اٹھا۔بولا
”بیگم صاحبہ!غرارہ ایک ایسا پہنا وا ہے جو ہزاروں میں سے کسی ایک کو سجتا ہے اور وہ ایک آپ ہیں“مجھے یوں محسوس ہوا جیسے یہ کلمہ درزی کے منہ سے نہیں،کسی آسمانی فرشتے کی زبان سے نازل ہواہے۔

میں اس کلمے کو گھولے بغیر پی گئی‘مگر گھر پہنچتے ہی یہی سوٹ پہن کر اپنے آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اور آئینے سے پوچھا کہ
”آئینے سچ بتا کہ ہے سب سے حسین کون؟“
تو آئینے نے قانون شہادت کی اس دفعہ کا حوالہ دیا جس کی روح سے گواہ کو جواب دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
اُف میرے اللہ!آئینے کے جواب نے تو مجھے مار کر رکھ دیا۔
میرا منگیتر میرے آئینے سے ذرا زیادہ با تمیز ہے۔

پہلی نگاہ پر تو وہ بھی مجھے غرارے میں دیکھ کر ذرا ٹھٹھک سا گیا‘لیکن جلد ہی سنبھل کر مسکرانے لگا۔میں نے بے تابی سے پوچھا:
”پسند آیا میرا غرارہ؟“
بولا”ہاں ہاں‘کیوں نہیں میں نے تمہیں آج تک اتنا حسین نہیں دیکھا․․․․”اوریہ کہہ کر پسینے سے شرابور ہو گیا‘لیکن پسینہ آنا کوئی بری بات نہیں۔اسی لئے تو خدا نے رومال بنایا ہے۔بہر حال میرے منگیترنے․․․․․خدا اسے خوش رکھے․․․․اگر جھوٹ بھی بولا‘تو دلیر شرفاء کی طرح بولا جسے میں نے خود بھی ایک دلیر شریف زادی کی طرح قبول کیا․․․․دو چاہنے والوں کے درمیان کوئی کام کی بات تو ہوئی نا․․․․سچائی سے ہمیشہ فتنہ پھیلتاہے‘مگر میں سچ بولنے کے خلاف پروپیگنڈہ نہیں کررہی ۔

بلھے شاہ نے مدت ہوئی کہا تھا۔
”سچ آکھاں تے بھانبڑبلدااے“
کیا بلھے شاہ بھی پروپیگنڈی تھا؟
میں ایک عزیز دوست پرویز کو نہیں بھول سکتی۔ہائے اتنی پیاری باتیں کرتاہے‘اتنی پیاری کہ جی چاہتا ہے․․․․خیر ایک دفعہ میں نزلہ زکام لے کر ہسپتال جا پہنچتی ۔دوسری روز پر ویز عیادت کے لئے آیا ۔اس روز میری حالت جیسی بھی تھی قابل دید نہ تھی چنانچہ میں ناک منہ چھپائے کمبل اوڑھے لیٹی تھی۔

اب پرویز کے مقدم میں میں نے چہرے سے آہستہ آہستہ کمبل سر کایا اور پہلے سرخ سلگتی آنکھیں اور پھر لال بھبھو کا ناک ‘پیش خدمت کی‘تو ایک لمحے کے لئے پرویز بھی سن ہو کر رہ گیا․․․․․لیکن صرف ایک لمحے کے لئے ․․․․اگلے لمحے میں اس نے کمال ملائمت اورمحبت سے کہا:
”کشور آج تمہارا چہرہ کیسا بھرا بھرا لگتاہے۔بخدا آج تمہاری رنگت میں ہیروں کی سی چمک ہے“
میں نے یہ سنا توکمبل اتارکر اُدھر پھینکا اور یوں محسوس ہوا جیسے زکام سے آدھی شفا مل گئی ہے․․․․ہر ہسپتال کو چاہئے کہ خالص طبی ضرورت کے طور پر ایک خوش گفتار جھوٹا اپنے سٹاف میں رکھے۔

خوبصورت ہوتو اور اچھا ہے۔
میرا فیملی ڈاکٹر بڑا اکھڑ ہے۔میں جب بھی کسی دردکی شکایت لے کر جاتی ہوں تو اس توقع پر کہ مجھے کسی عجیب وغریب ،افسانوی ،رومانوی مرض کا مریض بتائے گا،مثلاً درد دل ،زخم جگر وغیرہ لیکن ٹوٹی لگاتے ہی کہہ اٹھتا ہے” بی بی،تجھے جوڑوں کا درد ہے“اور اسی پر اکتفا نہیں کرتا،جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے کہتاہے”اور اس عمر میں اور بیماری لگ بھی کیا سکتی ہے؟اب یہ آخری دم تک تمہارا ساتھ دے گی“ہے نایہ ڈاکٹر خشکی اور بد مذاق؟کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ”بی بی‘یہ درد عارضی ہے ۔

چاندنی راتوں میں یہ درد اکثر اٹھا کرتاہے۔ہفتے کی بات ہے،تھم جائے گا“․․․․․․اگر وہ یہ کہہ دیتا تو میں اس کی ٹوٹی چوم کر اپنا دل،بلکہ خون دل اس کی نذر کردیتی اور ہفتہ بھر اپنا درد سینے سے لگائے رنگا رنگ خیالوں میں کھوئے رہتی۔بعض کم فہم لوگ کہا کرتے ہیں کہ حسن کی طرح خوشامد بھی Skin Deepہے یعنی اس کی گہرائی پتلی سی چمڑی سے زیادہ نہیں‘لیکن میرا خیال ہے کہ چمڑی کے پار ہوجانا بھی کافی گہرائی ہے۔

اس سے زیادہ گہراجانے کا شوق تو کسی آدم خور ہی کو ہوسکتا ہے․․․․بہر حال اور وں کا تو علم نہیں،لیکن میرے اپنے وجود میں خوشامد اتنی گہری جاتی ہے کہ دل کی تہہ کو جا چھوتی ہے۔یہ تو نامراد سچائی اور صاف گوئی ہے جسے سن کر مجھے جوڑوں کا درد ہونے لگتاہے۔آئندہ آپ کو جوڑوں کا درد ہوتو فیملی ڈاکٹر کے پاس مت جائیں۔کسی پرویز کو بلا کر دیکھیں۔مُوئے ڈاکٹر سے کہیں زیادہ شفا بخش ثابت ہو گا۔

Your Thoughts and Comments